21-09-10, 04:16 PM
|
#2
|
|
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
کمائي: 49,244
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سپریم کورٹ کے حکم پراین آر او عمل درآمد کیس میں سابق ڈی جی آئی بی بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز احمد اور برطرف ایم ڈی ، او جی ڈی سی ایل عدنان خواجہ کوکمرہ عدالت سے گرفتارکرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ عدالت نے سوئس کیسزکی بحالی پرسیکرٹری قانون کو24ستمبرتک مہلت دیدی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے این آر او فیصلے پر عمل درآمدسے متعلق عدنان خواجہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالت نے ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید ضیا کی جانب سے بطور قائم مقام چیئرمین کئے گئے اقدامات کا ریکارڈ اور عدنان خواجہ کے خلاف ریفرنس سے متعلق ریکارڈ طلب کیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جاوید ضیا نے نیب چیئرمین کے آفس پر غیرقانونی قبضہ کیا ہوا ہے اور عدالت ان کے اقدامات کو غیرقانونی قرار دے گی۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوئس مقدمات کھولنے کیلئے ابھی تک خط کیوں نہیں لکھا گیا، وہ بدمزگی نہیں چاہتے اورروزانہ اصرارکرنااچھانہیں لگتا،اس لئے اٹارنی جنرل اس معاملے پر اپنا کرداراداکریں ۔ عدالت نے سوئس کیسز بحالی کی سمری نہ بھیجنے پر وفاقی سیکرٹری قانون مسعود چشتی کو طلب کیا،جنہوں نے پیش ہوکر مہلت کی درخواست کی ۔ سپریم کورٹ نے کمرہ عدالت میں موجود ، احتساب ریفرنس میں سزا یافتہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز اور عدنان خواجہ کو بھی فوری حراست میں لینے کا حکم دیا ، جس پر پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ، عدالت نے حکم دیا کہ یہ دونوں تین دن میں ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع بھی کراسکتے ہیں۔
|
|
|