واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


عوامی مسائل حل کرنے والی حکومتیں ہی مدت پوری کرسکتی ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-10, 10:28 PM   #1
عوامی مسائل حل کرنے والی حکومتیں ہی مدت پوری کرسکتی ہیں
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 25-10-10, 10:28 PM

وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے واضح کیا ہے کہ اداروں کے درمیان تصادم کرانے والوں کی ہر سازش اور خواہش ناکام ہوچکی ہے جمہوری حکومت عوام کا دیا گیا پانچ سالہ مینڈیٹ نہ صرف پورا کریگی بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کریگی ،حکومت کیلئے الٹی گنتی گننے والے اب غائب ہوگئے ہیں کیونکہ ان کی دال نہیں گلی ،میثاق جمہوریت پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان مسائل پر قابو پائے گی اور آئندہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرکے اقتدار میں آئے گی۔
جمہوریت اور آمریت میں یہی فرق ہے کہ آمر اقتدار پر قابض ہوتا ہے اور اسے اس بات کا خوف نہیں ہوتا کہ اس نے عوام کی عدالت میں جانا ہے اور اسی لئے ایسے فیصلے کرتا ہے جس سے صرف اس کا ناجائز اقتدار طوالت اختیار کرے لیکن جمہوری حکمرانوں کو ہر وقت فکر دامن گیر رہتی ہے کہ انہوں نے مدت پوری ہونے کے بعد عوام کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ اس لئے وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا یہ کہنا کہ مدت پوری کریں گے اور اگلی باری بھی ہماری ہے اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ عوام کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ حکومتیں مدت پوری کریں اور عوام کارکردگی کو مدنظر رکھ کر دوبارہ موقع دیں یا کسی اور جماعت کے سر اقتدار کا ہما بٹھا دیں۔ اس حوالے سے اگرموجودہ حکومت دوبارہ برسر اقتدار آنے کیلئے پرعزم ہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے۔ فیصلہ صرف عوام نے ہی کرنا ہے کہ کس نے ملک و قوم کے مفاد میں کام کیا ہے۔ جمہوری حکمرانوں اور سیاستدانوں کا اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد عوام کی طاقت ہے۔ عوام کے تعاون سے ہی حکومت مل سکتی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ عوام کے دیئے ہوئے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ان سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔
اس حکومت کو ڈھائی برس کا عرصہ ہوچکا ہے اس عرصے میں عوام نے جن مشکلات کا سامنا ہے انہیں دیکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے کہ ہم اگلی بار بھی آئیں گے تو ہم اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ ایسا سوچنا اور کہنا جمہوریت کا حسن ہے اور جمہوری حق ہے ہم اس حق کو نہیں چھین سکتے لیکن یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ جناب اس کیلئے آپ کو گزشتہ ڈھائی سالوں کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہوئے اگلے ڈھائی برسوں میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ شاید ایسا دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہوتا ہو کہ کسی بھی جمہوری حکومت کے ڈھائی برسوں میں ڈھائی سو فیصد مہنگائی میں اضافہ ہوچکا ہو۔ ایسا نظام رائج ہو کہ غریب غریب سے تر اور امیر امیر سے تر ہوتا جارہا ہو۔ عوام دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہوں اور عوام پر وزیروں کی فوج ظفر موج کا اضافی بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کہ لوگ اپنے گھر کا سامان بیچنے پر مجبور ہوں۔ امن و امان کی صورتحال اس قدر خراب کہ غیر ملکی سرمایہ کار تو درکنار ملکی سرمایہ کار بھی بھاگ جائیں۔ حکومت پر بداعتمادی کی صورتحال یہ کہ د نیا کا کوئی بھی ملک سیلاب کی تباہی کے بعد بھی حکومت کو امداد دینے سے کترا رہا ہو۔ سیاسی انتشار اس قدر زیادہ کہ اس انتشار سے عوام ذہنی مریض بن جائیں۔ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے سے ایک نئی محاذ آرائی کا ماحول ' نیپرا ' اوگرا سمیت بڑے بڑے ادارے اتنے آزاد کہ جب چاہیں بجلی ' گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیں۔ اشیاء خوردونوش اس قدر مہنگی کہ غریب آدمی کا چولہا ٹھنڈا ہو جائے۔ تعلیم اتنی مہنگی اور دوہرا معیار کہ غریب کے بچوں کیلئے الگ تعلیم اور امراء کے بچوں کیلئے الگ' ہسپتالوں میںسہولیات کا فقدان اتنا کہ غریب آدمی سسک سسک کر مر جائے۔ مختلف مافیا اور ذخیرہ ا ندوز اس قدر آزاد کہ وہ جب چاہیں اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے کبھی آٹے کا بحران ' کبھی چینی کا بحران پیدا کرکے عوام کیلئے مشکلات پیدا کریں۔ چینی کی قیمتیں 26 روپے سے 90 روپے تک پہنچ گئی ہوں لیکن حکومت سوائے دعوئوں کے کچھ نہ کرسکے۔ کراچی سے لے کر وانا وزیرستان تک بے گناہ انسانوں کا لہو بہہ رہا ہو ' غیر ملکی ڈرون طیارے حملے کرکے ہماری خودمختاری کو تار تار کریں اور حکومت بے بس ہو' غریب اور امیر کیلئے الگ الگ قانون ہو' غریب جرم کرے تو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے اور امیر جرم کرنے کے باوجود بھی عہدے اور مراعات سے مستفید ہو اگر اسی کا نام جمہوریت ہے جس میں غریب آدمی سے جینے کا حق چھین لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ آمریت کس بلا کا نام ہے۔ جمہوریت میں تو وہ فیصلے کیے جاتے ہیں جس سے ملک او رقوم کا فائدہ ہو اور عوام کو ہر فیصلے پر اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ منظور کیا ' آغاز حقوق بلوچستان کا اعلان کیا ' اٹھارویں ترمیم متفقہ منظور کی۔ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا لیکن عام آدمی سوال کرتا ہے کہ آپ کے یہ اقدامات تسلیم لیکن میری زندگی تو مہنگائی ' بے روزگاری اور دہشت گردی نے اجیرن کر دی ہے ' میرے لیے کیا گیا۔ حکومت تو کہتی ہے کہ مدت پوری کریں گے یہ اس کا جمہوری حق ہے لیکن عوام کی مدت کا کیا ہوگا عام آدمی سراپا سوال ہے کہ حکومت کو اپنی مدت کی فکر ہے تو میری فکر کیوں نہیں؟
اگر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اگلی دفعہ اقتدار میں آنے کیلئے پرعزم ہیں تو انہیں اور پیپلز پارٹی کے مرکز ی رہنمائوں کو گزشتہ ڈھائی برسوں کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہوئے انقلابی تبدیلیاں لانا ہوںگی اور عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا ہوگی۔ اگر حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو یقینا اگلی دفعہ اس کا راستہ کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ عوام کی عدالت میں جانے سے پہلے پوری پوری تیاری کی جائے۔ کھوکھلے نعروں اور دعوئوں کی بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
__________________
جاویداسد

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 79
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, وزیراعظم, قدم, لوگ, مہنگائی, موقع, مسائل, آدمی, اللہ, امیر, بچوں, ترمیم, تعلیم, جیل, جواب, جرم, حل, حسن, راستہ, زندگی, عدالت, غائب, غریب, صورتحال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عورتیں مردوں سے تین گنا زیادہ بولتی ہیں: نئی تحقیق ام غزل عورت کہانی 35 24-05-11 11:16 AM
ائیر پورٹ پر خواجہ سراﺅں کی تلاشی عورتیں لیں‘ سندھ ہائیکورٹ کا حکم گلاب خان خبریں 0 29-01-11 03:41 AM
مغرب کی عورتیں اسلام کیوں قبول کرتی ہیں ؟ ام غزل عورت کہانی 5 22-03-09 02:25 PM
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ، احسن اقبال عبدالقدوس خبریں 0 07-01-08 08:04 AM
دیوار احتجاج پر عوام کا جیو سے بھرپور اظہار یکجہتی عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:43 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:38 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger