|
عوام سے استدعا ہے!!,,,,تیسرا کنارہ…بشریٰ اعجاز

29-10-07, 10:26 AM
ان دنوں مختلف ٹی وی چینلز پر پاکستان کی بہبود، ترقی اور فلاح پر مبنی حکومت کے میگا پراجیکٹس اور غربت مکاؤ اقدامات اور پالیسیوں سے سجی وہ مہنگی اشتہاری فلم بار بار دکھائی جا رہی ہے جس میں صدر پرویز مشرف نہایت خشوع و خضوع سے یہ دعا مانگتے نظر آتے ہیں، میرے دیس کو مالک شاد رکھیں، ہر مشکل سے آزاد رکھیں۔ اس دعا میں کچھ اتنی اثر آفرینی ہے کہ اسے سنتے ہی قلب بے اختیار رقیق ہونا شروع ہو جاتا ہے اور آنکھیں چھما چھم برسنا شروع کر دیتی ہیں۔ عوام، جن کی گردنیں اپنے گناہوں کی گٹھڑیاں اٹھا اٹھا کر اب مستقل جھک چکی ہیں اور ضعف گناہ سے جن کی آوازیں پست ہو چکی ہیں اس اشتہاری فلم میں اپنے صدر کو اپنی عوام کیلئے اس قدر محنت، کوشش اور فکر میں مبتلا دیکھ کر فرط جذبات سے چور چور ہو کر اظہار تشکر کے طور پر کہنے کی کوشش کرتی ہے۔ میرے صدر کو مالک شاد رکھیں، ہر مشکل سے آزاد رکھیں…! مگر چونکہ ایک تو آواز میں ازلی عوامی پستی کا عنصر نمایاں ہے، دوسرا درمیان میں کم بخت زمینی حقائق حائل ہیں لہٰذا صدر صاحب تک یہ آواز پہنچ نہیں پاتی، جو سراسر ان کیلئے ہدیہ عقیدت جیسے حقیقی جذبات پر مبنی ہے۔ صدر صاحب کی حقیقت پسندی چونکہ ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے لہٰذا وہ غربت مکاؤ پروگرام کے متعلق، کچھ زیادہ مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتے، بلکہ برملا فرماتے ہیں، میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں، جس سے غربت ختم کر دوں! یہی ہے، مذکورہ اشتہاری فلم، جس میں صدر صاحب کا اپنے عوام کیلئے خلوص چھلک چھلک پڑتا ہے، اس میں لہرانے والے سبز پرچم، خوشیوں کی تصویر بنی خوشحال پنجاب کی اسی عوام… صحت سے لبالب بھری ہوئی عوام… تعلیم سے سرتاپا سجی ہوئی پڑھا لکھا پنجاب کی نمائندگی کرتی عوام کو ٹی وی کے سامنے بیٹھی ان تمام جملہ خوبیوں سے محروم عوام، اسی رشک سے دیکھتی ہے، جس سے وہ اپنے قابل احترام صدر صاحب کو دیکھتی ہے اور ہرگز ہرگز یہ گمان نہیں کرتی کہ کاش وہ بھی ان جیسی دھلی دھلائی، نیپی پوتی میڈیائی قسم کی عوام ہوتی… کیونکہ جب سے اسلام آباد سے ملکی خزانہ بھرا ہونے کی خوش خبریاں عوام کو موصول ہونا شروع ہوئی ہیں اور موبائل ٹیلی فونوں، موٹرسائیکلوں، لیزنگ کاروں، ٹریکٹروں اور بجلی کے آلات جیسی لگژریز سے بھری ترقی سے عوام مستفید ہونا شروع ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا ہے، اس کی ساری احساس کمتری یکسر ختم ہو کر رہ گئی ہے اور اس کے سارے عوامی دکھوں کی بولتی بند ہو گئی ہے لہٰذا اسے اب غربت ختم کرنے کا کچھ زیادہ شوق ہی نہیں رہا…! یہی وجہ ہے آٹا دن بدن مہنگا ہوتا جا رہا ہے، فلور ملیں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ گندم کے کوٹے میں کمی کے باعث آٹا مزید مہنگا ہو جانے کی دہائی ڈال رہی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کی خبریں تواتر سے آ رہی ہیں مگر عوام ہے کہ اس کے کان پہ جوں تک نہیں رینگ رہی، وہ آرام سے موبائل ٹیلیفونوں پر، ہم بولیں محبت کی زباں جیسے مضامین پر گپیں ہانک رہی ہے جو کما رہی ہے وہ ٹیلیفون کارڈوں پر اڑا رہی ہے۔ چینی کی ذخیرہ اندوزی، سیمنٹ اسکینڈل، گندم اسکینڈل، کیا کچھ نہیں ہو رہا، مگر عوام کو جیسے لاتعلقی اور بے نیازی کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ ملک کی 35 فیصد آبادی کو غربت اس لکیر کے پیچھے دھکیل دیتی ہے جہاں پاؤں پر چلنا نہیں، کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگنا مقدر ہو جاتا ہے مگر عوام نوٹس ہی نہیں لیتی۔ ایک ماہ بعد مہنگائی 10.7 فیصد بڑھ جاتی ہے اور آلو، پیاز اور ٹماٹر خریدنے کی نہیں دیکھنے کی چیز بن کر رہ جاتے ہیں، دالیں، چینی اور آٹا، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی ”باجگذاری“ میں آ جاتے ہیں اور یوٹیلیٹی سٹوروں کے سانے 700 اشیاء پر سبسڈی کے اعلان پر لوگ مکھیوں کی طرح جمع ہوتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے، طلب اور رسد کے درمیان توازن کی ازلی خرابی کے باعث یہاں سے بھی انہیں خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑے گا!! ایسے میں ملک کی اعلیٰ عدالت دہائی ڈالتی ہے، ارے بھئی! ایک دوسرے کو تو ریلیف دینے کیلئے آرڈیننس جاری کر رہے ہو، عوام کو بھی تو کچھ دو، مگر اس دہائی کا تاحال کہیں کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا اور وطن عزیز میں حالات فی الحال معمول پر ہی نظر آتے ہیں۔ عوام حال مست کھال سست نظر آتی ہے، اس حد تک کہ حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں سرکاری بینکوں سے لئے جانے والے 53 ارب اور 21 کروڑ کے قرضے بڑے صنعتکاروں، بیوروکریٹوں اور جاگیرداروں کو نادہندگان کہہ کر بڑے آرام سے معاف کر دیئے ہیں اور عوام نے پلٹ کر یہ تک نہیں پوچھا ایسا کیوں کیا گیا؟…! ایسے میں ایک گمان تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام بے نیاز آرزو ہو گئی ہے…! دوسرا گمان یہ ہے کہ مذکورہ اشتہاری فلم کام دکھا گئی ہے جس میں صدر مملکت احرام باندھ کر حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے جب دل کی گہرائیوں سے دعا مانگتے ہیں، ہر بچے کو اب پڑھنا ہے، صحت کو گھر گھر بڑھنا ہے، دہقان کی مالک لاج رکھیں۔“ تو اس دعا کے بعد لگتا ہے ساری عوامی محرومیاں اور بے چارگیاں محض فریب نظر ثابت ہونے والی ہیں اور گیسٹرو، ہیپاٹائٹس، آلودہ پانی، گھوسٹ سکول، ٹاٹ سکول، مہنگے پرائیویٹ سکول، ایجوکیٹرز، ناخواندگی کی قابل رحم شرح، زراعت کی نفی کرتی حکومتی پالیسیاں اور کاشت کاروں کی حالت زار جیسی ساری تلخ حقیقتیں واہمہ لگنے لگتی ہیں اور دل سے آواز آتی ہے۔ میرے صدر کو مالک شاد رکھیں ہر مشکل سے آزاد رکھیں! اب کوئی مانے یا نہ مانے، یہ اک کھلی حقیقت ہے کہ صدر صاحب کی محبت میں عوام اب اس طرح غرق ہو چکی ہے کہ اسے دیکھ کر بعض اوقات ”کیہہ جاناں میں کون“ کا گمان گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے چاہے صدر صاحب کی انتخابی مہم پر کروڑوں روپیہ اشتہار بازی کی مد میں اڑایا جائے، چاہے اس سلسلے میں اربوں کے سیاسی قرضے معاف کئے جائیں، چاہے پاکستان کا ہر سو میں سے ایک نہیں، دس میں سے ایک بچہ دل کی بیماری میں مبتلا ہو جائے، چاہے غربت کی لکیر آگے بڑھ کر 50 فیصد آبادی کا احاطہ کرے، چاہے سوئی ناردرن بائی پاس کی طرح ملک کے دیگر بائی پاس بھی اپنی تعمیر کے آغاز میں ہی گر کر ملبہ بن جائیں اور ان کے نیچے دب کر بے گناہ قیمہ ہو جائیں، چاہے آٹے اور چینی کی حقیقی قلت ہو یا مصنوعی، چاہے لوڈشیڈنگ اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے بقیہ سارے روشن شہروں کو تاریکی میں ڈبو دے، چاہے افراط زر کی وجہ سے ایک عام آدمی پوری سے آدھی بلکہ پونی پر آ جائے۔ صدر پاکستان سے عوام کی عقیدت میں انشاء اللہ نہ فرق آیا ہے نہ آئے گا…! ان کی مقبولیت کا گراف جو صدارتی انتخاب کے بعد تیزی سے اوپر اٹھا ہے اور اسے قومی مفاہمتی آرڈیننس بھی کوئی زک نہیں پہنچا سکا، یقینا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اور اوپر جائے گا۔ ہو سکتا ہے آسمان کی بلندیوں کو چھولے، عوام اس حقیقت کو چونکہ اچھی طرح جانتی ہے لہٰذا وہ کسی افواہ، کسی قلت، علت اور بد خبری پر توجہ نہیں دیتی! 60 برس پہلے قائداعظم اور 60 برس بعد صدر پرویز مشرف! ایک نے پاکستان تخلیق کیا، دوسرے نے اسے سنوارا، اور مزید سنوارنے کیلئے بنائی جانے والی اقتصادی، سماجی، معاشی اور سیاسی پالیسیوں کا تسلسل بحال رکھنے کے لئے اپنی عمر کے اگلے پانچ برس پھر ملک و قوم کی خدمت کیلئے وقف کر دیئے! ملک و قوم کو اور کیا چاہئے! نوٹ! عوام سے استدعا ہے کہ اب وہ کسی قسم کے ناشکرے پن کا مظاہرہ نہ کریں۔ ورغلانے اور مایوسی پھیلانے والوں سے بچیں اور صدر صاحب کے متعلق دل میں پیدا ہونے والی کسی بھی قسم کی بدگمانی کو کفر کا درجہ دیں!!
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|