واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-09-10, 10:23 PM   #1
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 20-09-10, 10:23 PM

ہائے مہنگائی۔ ہائے بجلی ۔ہائے گیس۔ ہاہے پٹرول۔ ہائے آٹا۔یہ سن سن کر تبدیلی کی آوازین سننا کون پسند نہیں کرگے گا۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تبدیلی کی باتیں کرنے والے بتائیں کہ ان کے پاس کیا متبادل ہے۔ ایسی باتیں کرنے والے کس کو لائیں گے جو چاروں صوبوں کو اکٹھا کرسکے گا غیر آئینی اقدام کا سوچنے والے وقت ضائع نہ کریں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ملک بھر میں ہے اسے دیوار سے لگانا درست نہیں حکومت گرانے کی باتیں کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی وفاق کی علامت ہے اس کا زندہ رہنا پاکستان کی سلامتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جانے کی سازش کرنے والے شرم کریں۔ ہمیں پانچ سال کے لئے اقتدار ملا اڑھائی سال میں حساب کیوں مانگا جارہا ہے۔ ہمیں کسی کا کوئی خوف نہیں۔ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہم نے عوام کی خدمت کرنی ہے ۔ میرا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ میں پارلیمنٹ کے ایک اجلاس سے بھی غیر حاضر نہیں رہا ہوں انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کے خلاف سازش کرنے اور توڑنے کیلئے جو بھی اقدام ہوگا وہ غیر جمہوری اور غیر آئینی ہوگا اور صرف ملک توڑنے کے لئے ہوگا۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی جنہیں مفاہمتی سیاست کا علمبردار سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے لیکن لاہور میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے جن جذبات کا اظہار کیا اس سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت ان کی حکومت سخت دبائو کا شکار ہے انہوں نے حکومت گرانے کی سازشیں کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے بعد کون ہے جو چاروں صوبوں' گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے ساتھ مل کر چل سکے۔ یقینا یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب سیاسی مخالفین کے لئے مشکل ہے لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عوام کے مسائل اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ جن کا احاطہ کرنا آسان نہیں ۔عوام نے آمریت کے خاتمے کے لئے قربانیوں کی ایک داستان رقم کرنے کے بعد جمہوریت بحال کرائی تھی تاکہ ان کے مسائل میں کمی آئے گی لیکن جمہوریت کی بحالی کے بعد مسائل پہلے سے کئی گناہ زیادہ بڑھ چکے ہیں ۔
گزشتہ دو برسوں میں مہنگائی دو سو فیصد بڑھ چکی ہے ہر ماہ اوسطاً 15افراد غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔2برس قبل دور آمریت میں آٹا13روپے کلو دستیاب تھا آج دور جمہوریت میں 32روپے فروخت ہو رہا ہے چینی 26روپے کلو مل رہی تھی آج 90 روپے کلو یہ خریدی جارہی ہے گھی اور خوردنی تیل 60روپے کلو مل رہا تھا آج 130روپے میں فروخت ہو رہا ہے ایک چھوٹے خاندان کے گھر کا بجلی اور گیس کا بل ماہانہ500روپے کا تھا تو آج 5000روپے تک پہنچ چکا ہے۔ پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں بھی آئے دن بڑھ رہی ہیں جس آدمی کے گھریلو اخراجات ماہانہ 20000روپے ہیں اس کی آمدنی 7000سے 10000ہزار تک ہے۔ بچوں کی تعلیم تو درکنار' کھانے کے اخراجات اور کپڑوں کے لئے رقم پوری کرنا بھی انتہائی مشکل ہے ۔ دوائیوں کی قیمتیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ غریب آدمی دوائی خریدنے کی حسرت لئے دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی کئی گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ الغرض غریب عوام کے لئے نہ جینا آسان ہے نہ مرنا' ان حالات میں عوام کی اکثریت جیتے جی مر چکی ہے اور ہمارے حکمران ہیں کہ جو صرف اقتدار کو بچانے میں مگن ہیں اورسیاستدانوں کو سوائے اپنی باری کے علاوہ عوام کی کوئی فکر نہیں ۔جن حکمرانوں کے یہ روئیے ہوں وہ پھر یہ کہیں کہ ہمارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں تو حیرانگی ہوتی ہے کہ یہ سازشیں کون کر رہا ہے' کیا حکمرانوں کے عوام کے ساتھ ان رویوں کے بعد بھی کسی اور کیلئے سازش کی گنجائش باقی رہتی ہے؟
دیکھا جائے تو حکمران خود ہی اپنے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اگر حکمران عوام کے بنیادی مسائل حل کریں اور زندہ رہنے کا حق دیں تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی طاقت حکومت کے خلاف سازش نہیں کر سکتی ہر سازش کو عوام ناکام بنادیں گے لیکن جب عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ ہی نہ دی جائے تو پھر لازمی امر ہے کہ ہر طرف سے سازشیں ہی سازشیں ہوں گی۔ حکمران اگر چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت محفوظ رہے تو انہیں چاہیے کہ عوام کو اپنی طاقت بنائیں اور عوام اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک ان کے مسائل حل نہ ہوں اور انہیں جینے کا حق نہ دیا جائے' حیرت ہے کہ موجودہ حکومت آئے روز اپنی کامیابیوں اور عوامی خدمت کی ایک ایسی فہرست بیان کرتی ہے کہ اس میں سرفہرست اٹھارویں ترمیم' این ایف سی ایوارڈ' آغاز حقوق بلوچستان' گلگت بلتستان کے حقوق اور 1973ء کے آئین کی بحالی ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ بہت بڑی کامیابیاں ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان سے پاکستان کے عام آدمی جس کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے روٹی پوری نہیں کرسکتا اسے کیا غرض۔یہ اس کا درد سر ہی نہیں کہ وزیراعظم اجلاس میں حاضر ہوتے ہیں یا نہیں' صدر پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہیں یا نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم لائی جارہی ہے یا انیسویں ترمیم 'ملک میں آمریت ہے یا جمہوریت اسے تو روٹی چاہیے' بچوں کی تعلیم چاہیے اور صحت کی سہولیات درکار ہیں۔ یہ سہولیات جو بھی عطا کرے گا اسی کے نعرے بلند ہوں گے اور جب غریب آدمی کی یہ ضروریات پوری ہوگی تو اس کے بعد اسے شعور حاصل ہوگا کہ جمہوریت کے کیا فائدے ہیں تو آمریت کے کیا نقصانات ' عوام بھوکے ہیں 'ہمارے سیاستدان اور حکمران جمہوریت اور آمریت کی باتوں سے بہلانا چاہتے ہیں جب تک عوام کو طاقت نہیں بخشی جائے گی حکومتوں کے خلاف سازشیں چلتی رہیں گی اور انتشار کی فضا برقرار رہے گی اور جس دن ہمارے ملک کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اپنے اقتدار کے تحفظ اور مفادات کے حصول کی بجائے عوام کے مسائل حل کرکے انہیں طاقت بخشی جائے تو اس دن عوام اپنی طاقت حکومت کے ساتھ ملائیں گے اور کوئی آمر' کوئی جابر ' کوئی ظالم یا کوئی بیرونی طاقت یہ ہمت نہیں کر سکے گی کہ وہ حکومت کو کمزور کرے یا آمریت کے لئے راستے ہموار کرے' اس سیاسی کشمکش' انارکی اور جمہوری حکومتوں کے خلاف سازشوں اور غیر جمہوری طاقتوں کے اقتدار پر قبضہ کرنے منصوبوں کو ناکام بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ عوام کو طاقت بخشی جائے اور جس دن عوام طاقت ور ہوں گے اس دن سے یہ ملک خوشحالی اور ترقی کی منزلوں کی جانب محو سفر ہوگا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ جمہوری حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے لئے نہ صرف انقلابی اقدامات کرے گی بلکہ وزارء کی تعداد میں کمی' دیگر حکومتی اخراجات میںکٹوتی اور اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرے گی کہ جس سے عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں تو عوام خود ہی تمام غیر جمہوری طاقتوں کا راستہ روکنے کے لئے سیسہ تان کر کھڑے ہوں گے۔مگر جب مسائل حل ہوں گے
__________________
جاویداسد

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 209
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے جاویداسد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-09-10), محمد عاصم (21-09-10), مرزا عامر (20-09-10), طاھر (21-09-10), عبدالقدوس (21-09-10)
پرانا 21-09-10, 08:07 PM   #2
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,680
کمائي: 52,585
شکریہ: 5,149
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جاوید اسد بھائی ماشاءاللہ بہت اچھی تصویر کشی کی گئی ہے۔
کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ یہ آپ نے لکھا ہے یا کسی اور کی تحریر ہے؟
اور پیارے بھائی اتنی اچھی تحریر آپ یہاں نہ پوسٹ کیا کریں کیونکہ یہ کوئی خبر نہیں ہے بلکہ تبصرہ ہے اس کو کسی اور سیکشن میں پوسٹ کرنا تھا کیونکہ یہاں سے یہ تحریر جلد ہی دوسرے صفحے پر چلی جائے گی اور لوگ اتنی اچھی تحریر سے محروم ہوجائیں گے۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (21-09-10)
پرانا 21-09-10, 08:12 PM   #3
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,680
کمائي: 52,585
شکریہ: 5,149
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اس تحریر کو :::سیکشن آپ کے کالم:::میں ڈال دیا جائے۔
شکریہ
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (21-09-10)
جواب

Tags
فروخت, پاکستان, پسند, موجودہ, مسائل, آج, آدمی, بچوں, ترمیم, تعلیم, جواب, حل, خودکشی, خلاف, راستہ, سفر, سیاست, سال, ظالم, غریب, صوبوں, صبر, صحت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حکومت تو عوام کی دعائیں لگ گئ تو ---------- Haya 786 گپ شپ 7 25-02-11 10:42 AM
عدالتیں نہ ہوتی تو پولیس عوام کو تباہ کرکے رکھ دیتی ALI-OAD خبریں 3 04-12-10 08:18 PM
عوام اب بھی خاموش رہے تو ---- ھارون اعظم خبریں 0 22-10-09 08:17 PM
دھاندلی ہو ئی تو حکمران عوامی سیلاب میں بہہ جائینگے،کمزور پارلیمنٹ لانے کے منصوبے نہ بنائے جائیں،بینظیر خرم شہزاد خرم خبریں 0 17-12-07 08:23 AM
ارب لوٹ کر واپس آنے والوں کو عوام ہیرو بنادینگے تو چور کبھی نہیں پکڑے جائینگے،وزیر اعلیٰ سندھ عبدالقدوس خبریں 1 26-10-07 02:15 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:40 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger