واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم ۔۔۔ پاکستانی سرحدوں کے اندرباہر وکی لیکس کے ڈرون حملے جاری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-12-10, 08:46 PM   #1
غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم ۔۔۔ پاکستانی سرحدوں کے اندرباہر وکی لیکس کے ڈرون حملے جاری
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 02-12-10, 08:46 PM

02 دسمبر 2010
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) وکی لیکس کی ویب ہوسٹنگ امریکی دباﺅ پر بند کر دی گئی ہے لیکن اِس کے باوجود اِس کے ڈرون حملے دنیا پرمسلسل کیے جا رہے ہیں اور امریکی خفیہ معلومات کے افشاءسے مزین کئی میزائل بھی پاکستان کے سرحدی ہی نہیں بلکہ انتہائی حساس علاقوں میں بھی تباہی مچا رہے ہیں ۔ تازہ ترین حملوں میں وکی لیکس نے نہ صرف یہ انکشاف کیا ہے کہ صرف 20فیصد پاکستانی صدر زرداری کو پسند کرتے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ مخصوص لوگوں کی قیادت میں چلنے والے اِس ملک پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی نہیں بلکہ کور کمانڈرز بھی صدر زرداری سے خوش نہیں ہیں۔ دوسری جانب راز افشاءکرنے کے ماہر سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کے بارے میں ایک انکشاف یہ بھی کیا ہے کہ اُنہوں نے امریکی سینیٹر کو اُسامہ بن لادن اورایمن الاظواہری کی باجوڑ میں موجودگی کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اور تو اور وکی لیکس کے انکشافات کے مطابق موجودہ حکومت، جسے سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کرپٹ اور ناہل قرار دیا ، نے دو مرتبہ امریکہ سے پاکستانی علاقوں کے اندر فوجی کارروائی میں فرنٹیئر کور کی مدد کرنے کی درخواست بھی کی۔ مغربی میڈیا میں چھپنے والی رپورٹس کے مطابق ایمزون ڈاٹ کام نے وکی لیکس کی ہوسٹنگ بند کردی۔ امریکی سینیٹر جو لائبیرمین نے ایمزون ڈاٹ کام پر وکی لیکس کی بندش کا فیصلہ درست قرار دیا اور کہا کہ ایمزون ڈاٹ کام کو یہ اقدام کافی پہلے کرنا چاہئے تھا۔ ایمزون کے اِس اقدام سے اُن کمپنیوں کے لئے مثال قائم ہوتی ہے جو کسی قسم کا مواد غیر قانونی طور پر حاصل کرکے شائع کرتی ہیں۔ دوسری جانب وکی لیکس کے ترجمان نے لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکی سفارت کاروں کی باتیں منظر عام پر لانے کا مقصد یہ ہے کہ سفارت کاروں کا کام سفارت کاری کرنا ہے، جاسوسی کرنا نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں کو صاف اور کھلی باتیں اپنے ملکوں کو لکھنی چاہیں۔ ترجمان کے مطابق ملکوں پر کمزور جواز کی بنا پر حملے کرنا درست نہیں اورساتھ ساتھ ہی اُنہوں نے اِس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ فوجی حملوں سے متعلق راز مستقبل میں بھی فاش کئے جاتے رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی نہیں کور کمانڈرز بھی صدر زرداری سے خوش نہیں ہیں کیونکہ وکی لیکس کے مطابق 12مارچ 2009ءکو جنرل کیانی نے امریکی سفیر سے کہا کہ اُن کے کور کمانڈرز زرداری کے حوالے سے بے چین ہیں کیونکہ وہ اُنہیں کرپٹ سمجھتے ہیں۔ زرداری پاکستان کے معاشی اور سلامتی کے امور سے بھی غفلت برت رہے ہیں۔وکی لیکس کے مطابق زرداری کے بارے میں ایسے ہی خیالات کا اظہار آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے اسٹریٹیجک مذاکرات کیلئے امریکہ جاتے ہوئے طیارے میں ہی کیا تھا۔ امریکی سفیر کے مطابق زرداری کے خلاف فوجی شکایتیں اُنہیں اور بھی کئی ذرائع سے ملتی رہیں ہیں۔وکی لیکس کے ایک اور انکشاف کے مطابق پرویز مشرف اور امریکی سینیٹر جان مک کین کے درمیان گفتگو میں مشرف نے اُسامہ بن لادن اورایمن الاظواہری کی باجوڑ میں موجودگی کا امکان ظاہر کیا تھا۔نئے سنسنی خیز انکشاف کے مطابق سابق صدرمشرف کاکہنا تھا کہ باجوڑ افغان صوبے کنٹرکے ساتھ ہے جہاں امریکی فوج نہیں ہے۔اُسامہ اورایمن الظواہری کی باجوڑمیں موجودگی کے شواہدنہیں مگروہاں اُنہیں مثبت تعاون مل سکتاہے تاہم ملاعمربلوچستان میں بھی موجودنہیں ہوسکتے۔وکی لیکس کے مطابق مشرف دور میں امریکہ کی طرف سے دیے گئے فنڈز پاکستان فورسز کو نہ پہنچنے پر امریکہ نے تشویش ظاہر کی۔ سابق امریکی سفیر پیٹرسن نے واشنگٹن کو ایک مرسلے میں لکھا کہ آصف علی زرداری وزیراعظم بننا چاہتے تھے لیکن امریکہ دھوکا کھا گیا ہے۔ اُن کے مراسلے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں جنوری 2008 ءمیں صدر بننے کے لیے آصف علی زرداری نے امریکی آشیرباد کا مطالبہ کیا۔ مراسلوں سے اِس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ شریف برادرن سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے چوہدری برادران پر انحصار کیا کرتے تھے۔ اِس بات کا بھی یقین کیا جاتا ہے کہ چوہدری شجاعت کے والدنے ذوالفقار علی بھٹو کوپھانسی چڑھانے کے لیے جنرل ضیا الحق کی حوصلہ افزائی کی۔ مراسلوں میں اِن افواہوں کا بھی تذکرہ ہے کہ جنرل ضیا نے بھٹو کی موت کے پروانے پر دستخط چوہدری شجاعت کے والدکے قلم سے کیے جسے چوہدری پرویز الہٰی نے کچھ برس بعد نیلامی میں خریدلیا۔ وکی لیکس کے مطابق پیٹرسن کے مراسلے یہ بھی بتاتے ہیں کہ بینظیر بھٹو سے نفرت کے سبب چوہدری برادران مشر ف بے نظیر ڈیل کے مخالف تھے اور بے نظیرکی موت کے بعد چوہدریوں نے زرداری سے اتحاد پرآمادگی ظاہرکردی تھی۔وکی لیکس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بھی کچھ انکشافات کیے ہیں جن کے مطابق پاکستان نے دو مرتبہ امریکہ سے کہا کہ وہ پاکستانی علاقوں کے اندر فوجی کارروائی میں فرنٹیئر کور کی مدد کرے۔ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والے ولی لیکس کے انکشافات کے مطابق پاکستان میں سابق امریکی سفیر پیٹرسن نے امریکہ کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ سے دو مرتبہ یہ کہا کہ وہ پاکستانی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کارروائی کے لیے فرنٹیئر کور کی مدد کرے۔ مراسلے کے مطابق ایک مرتبہ امریکہ سے انٹیلی جینس معلومات اور ڈرون سے حاصل ہونے والی فوٹیج فراہم کرنے کے لیے کہا گیا جبکہ دوسری مرتبہ امریکہ سے یہ کہا گیا کہ وہ پاکستان کے اندر دشمن کے ایک بیس پر توپ خانے سے گولہ باری کرے۔ وکی لیکس کے انکشافات سے یہ بھارتی پروپیگنڈا بھی غلط ثابت ہوگیاہے کہ پاکستانی فوج دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر رہی۔ مغربی دنیا میں یہ تاثر ہے کہ مشرف کے جانے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائی زیادہ موثر ہوئی ہے۔ فرانس کی ایک خبر رساں ایجنسی کی سربراہ کے نے یہ بھی کہا ہے کہ جنرل کیانی حکومت اور پارلیمنٹ کو مرضی سے چلا رہے ہیں تاکہ وہ قبائلی علاقوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی نہ کرلے۔ وکی لیکس کی جانب سے جاری خفیہ دستاویزات میں امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن جیرالڈ ایم فیریسٹائن کی ایف بی آئی ڈائریکٹر رابرٹ مولر کو پاکستان دورے کے موقع پر پیش کی گئی اطلاعات بھی شامل ہیں۔جس میں کہا گیا ہے کہ دشوار سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی سویلین حکومت کمزور، نااہل اور کرپٹ ہے۔ صدر زرداری کے مستقبل کو درپیش سوالات داخلی سیاست پر حاوی ہیں جبکہ زرداری کی مقبولیت صرف 20 فیصد ہے اور وہ طاقت کے کلیدی سرچشموں سے صف آرا ءرہے ہیں جن میں فوج، سیاسی طور پر متحرک چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار چوہدری اور سیاسی مخالف نواز شریف شامل ہیں۔ واضح رہے کہ وکی لیکس کے لاکھوں صفحات ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ہیں جن میں سے ابھی تھوڑے ہی سامنے آئے ہیں۔وکی لیکس نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکی سفیر این پیٹرسن نے ایک مراسلے میں لکھا کہ نواز شریف نے آئندہ انتخابات جیتے تو امریکہ ان کے ساتھ کام کرسکتاہے۔اِس مراسلے کے مطابق صدرزرداری اور وزیراعظم گیلانی سمجھتے ہیں اب بڑا خطرہ بھارت نہیں بلکہ پاک افغان سرحد پر انتہا ءپسندوں سے ہے ۔امریکی سفیر نے مراسلے میں یہ بھی لکھا کہ پاکستان کو روکنا ہوگا کہ وہ انتہا ءپسندی اور قبائلی عوام کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے اورافغانستان میں جنگ کامیاب بنانے کے لیے اسلام آباد سے پوچھنا چاہیے کہ کابل میں کیسی حکومت قابل قبول ہوگی۔ یہ نہیں وکی لیکس کے مطابق این ڈبلیو پیٹرسن نے امریکہ کو لکھے گئے اپنے ہی ایک مراسلے میں پاکستان کے اِس خدشے کی تصدیق بھی کی ہے کہ القاعدہ کے رہنما ء اُسامہ بن لادن اگر امریکہ کو مل گئے تو امریکہ پہلے کی طرح پاکستان سے منہ موڑ لے گا اوراُنہی خدشات کی وجہ سے پاکستان امریکہ کے ساتھ کھل کے تعاون نہیں کر رہا۔یہ بات سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے واشنگٹن کو 21 فروری 2009ءبھیجے گئے مراسلے میں کہی تھی ۔اُس میں سابق امریکی سفیر نے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے پر انحصار کیے بغیر نہیں رہ سکتے تاہم پاکستان کو خدشہ ہے کہ اُسامہ بن لادن امریکہ کو مل گیا تو امریکہ اسلام آباد کو پہلے کی طرح تنہا چھوڑ دے گا۔مراسلے میں لکھا گیا کہ القاعدہ پاکستان میں اپنے لیے محفوظ ٹھکانوں سے کچھ زیادہ کرناچاہتی ہے۔القاعدہ ،،طالبان ،مقامی انتہا پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے بڑھتے گروہ کوشکت دینے میں 10سے 15سال لگیں گے۔موجودہ پاکستانی حکومت اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر این ڈبلیو پیٹڑسن نے کہا کہ ا س وقت زرداری امریکہ کے بہترین اتحادی ہیں۔ واشنگٹن زرداری حکومت کو پانچ سال پورے کرنے میں مدد کرے کیونکہ ا نتہاء پسند کمزور سویلین حکومت کو استعمال کر سکتے ہیں یا آمریت واپس آسکتی ہے۔وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرستان میں ہونے والے پاک فوج کے تمام پانچ امن معاہدوں میں جمعیت علمائے اسلام ف کے علما ءنے اہم کردار ادا کیا تھا۔13جولائی 2009ءکے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بیت اللہ محسود اور اس کے گروپ کو تنہا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر نے پاک فوج پر حملے جاری رکھے ۔اس کے علاوہ ملا نذیر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ وزیرستان آپریشن کے دوران غیر جانبدار رہا جبکہ حقانی نیٹ ورک مکمل طور پر غیر جانبدار رہا۔ اسی مراسلے کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام نے 2004ءسے 2009ءکے دوران وزیرستان میں ہونے والے پانچوں امن معاہدوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے علماءسینیٹر صالح شاہ ،سابق رکن قومی اسمبلی مصباح الدین قریشی اور نور محمد نے شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت میں اہم کردار ادا کیا جبکہ مولانا مصباح الدین اور نور محمد بعد میں مختلف واقعات میں قتل کیے جا چکے ہیں۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن وزیرستان میں فوجی آپریشن پر خوش نہیں تھے ۔وکی لیکس نے صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے انکشاف کیا ہے انہوں نے ہیلری کلنٹن سے ملاقات میں کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی دوسری حکو مت گرانے کیلئے پیسہ اسامہ بن لادن نے دیا تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ءذوالفقارت علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو انتہا پسندوں نے قتل کرایا
__________________
جاویداسد

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 77
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, پاکستان, پاکستانی, پسند, ویب, ڈاٹ, واقعات, وزیراعظم, لندن, نفرت, چین, نواز شریف, مکمل, موت, موجودہ, آپریشن, امریکہ, اسلام, بے نظیر, ذوالفقار علی بھٹو, زرداری, سیاست, علی, صدر زرداری, صدرمشرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے گلاب خان خبریں 4 11-06-11 01:45 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
مقتدر حلقوں نے ملکی سیاست میں غیر ملکی سفیروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کا نوٹس لے لیا عبدالقدوس خبریں 0 09-12-07 04:30 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger