|
فاروق ستار کا قتل وغارت کا الزام،شعیب سڈل نے لیگل نوٹس تیار کرنے کی ہدایت

19-04-08, 04:04 AM
فاروق ستار کا قتل وغارت کا الزام،شعیب سڈل نے لیگل نوٹس تیار کرنے کی ہدایت کردی
اسلام آباد (عمر چیمہ) صوبہ سندھ پولیس کے سربراہ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کو ہزاروں پارٹی کارکنوں کے قتل کا الزام لگاکر بدنام کرنے پر نوٹس جاری کریں گے اور کسی سیاسی قیادت کو پولیس افسر کی طرف سے یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا نوٹس ہوگا اور وہ بھی ایم کیو ایم جیسی جماعت کو۔ دی نیوز کو باخبر ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر شعیب سڈل نے صوبہ سندھ کی پولیس کے لیگل ڈیپارٹمنٹ کو ایک نوٹس تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ۔جس میں وہ تمام الزامات شامل ہوں جو ایم کیو ایم کی قیادت نے ان پر عائد کئے ہیں۔ اس عمل میں شامل ایک معروف وکیل نے نمائندے کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ اس کیس کیلئے لیگل ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ اسلام آباد اور لاہور سے تعلق رکھنے والے دو وکلا کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔ مذکورہ وکیل نے بتایا کہ کیس اس وقت تک واپس لئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب تک ڈاکٹر فاروق ستار ڈاکٹر شعیب سڈل پر بڑے پیمانے پر قتال کا الزام عائد کرتے ہوئے براہ راست حملے کی معافی نہیں مانگ لیتے ۔سندھ میں ایک بڑے آئینی عہدیدار نے لیگل نوٹس جاری ہونے سے قبل ڈاکٹر ستار کو نجی طور پر ڈاکٹر شعیب سڈل سے معافی طلب کر کے صلح کرنے کی کوششیں تیز تر کردی ہیں۔ صورتحال کے قریبی واقف حال ایک ذریعہ کے مطابق مذکورہ بڑے عہدیدار نے محسوس کیا تھا کہ اگر ڈاکٹر عبدالستار ڈاکٹر شعیب سڈل کی تعیناتی پر اس قدر ناراض تھے کہ انہیں احتجاج تک کرنا پڑ گیا تو کم از کم پریس کانفرنس میں ان کا نام نہ لیتے‘ تاہم اس سلسلے میں بڑے آئینی عہدیدار کی جاری کوششوں میں پیشرفت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ”دی نیوز“ نے ڈاکٹر سڈل سے اس رپورٹ کی تصدیق کیلئے رابطہ کیا مگر ان کا موبائل فون مسلسل بند پایا گیا۔ البتہ ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک پولیس افسر نے رپورٹ کوکنفرم کرتے ہوئے کہا کہ وہ لیگل نوٹس کے بارے میں مزید کچھ بتانے سے قاصر ہیں اور اسے ”سنجیدہ معاملہ“ قرار دیا۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے ان پر 1995ء کے کراچی آپریشن کے دوران ہزاروں پارٹی کارکنوں کے قتل کا الزام لگایا تھا۔ ڈاکٹر شعیب سڈل اس وقت کراچی کے ڈی آئی جی‘ میجر جنرل (ر) نصیر اللہ بابر وزیر داخلہ اور شہید بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں۔ ڈاکٹر شعیب سڈل اور نصیراللہ بابر اپنی بہادری کی وجہ سے معروف ہیں جو مسلح ونگ سے بھی نہیں گھبرائے تھے۔ حتیٰ کہ نصیراللہ بابر برطانیہ کی ایک عدالت میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف اس وقت گواہی دینے کیلئے بھی تیار تھے جب عمران خان نے 12مئی کے خون خرابے کے بعد الطاف حسین کیخلاف ایک کیس فائل کیا تھا جس میں الطاف حسین پر کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری کا بڑا منصوبہ ساز ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ محکمہ پولیس کیلئے کام کرنے والے وکیل کے مطابق ڈاکٹر شعیب سڈل نے الزامات کو بڑی سنجیدگی لے لیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے 95ء کے آپریشن کے دوران قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کے خلاف نہیں‘ شرپسندوں اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی تھی اور ایسا کرکے انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ وکیل نے ڈاکٹر شعیب سڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے کئے پر کوئی افسوس نہیں اور پولیس چیف اسے اپنی پیشہ ورانہ دیانت پر حملہ تصور کرتے ہیں کہ ان پر قاتل ہونے کا الزام لگایا جائے اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب انہیں انتہائی ایماندار افسر خیال کیا جارہا ہے جو بلاخوف و خطر یا رعایت کے کام کرتا ہو۔ وکیل کے مطابق ڈاکٹر شعیب سڈل کاکہناہے انہیں مرتضیٰ بھٹو کے قتل کیس میں غلط ملوث کیا گیا اور انہیں عدالت کے ذریعے نجات بھی مل گئی تھی۔ ڈاکٹر شعیب سڈل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں مرتضیٰ بھٹو کیس کے بارے میں اس وقت کے نگراں وزیراعلیٰ کو بریفنگ دینے کیلئے کہا گیا جب آخرالذکر کرنے انہیں تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا کہا تھا۔ تفتیشی افسر چونکہ مرتضیٰ بھٹو کے اہل خانہ کے کہنے پر تعینات کیا گیا تھا‘ اس لئے ڈاکٹر شعیب سڈل نے افسر کی تبدیلی سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ اس سے متاثرہ خاندان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔ ڈاکٹر شعیب سڈل پر جب دوبارہ دباؤ ڈالا گیا تو انہوں نے اس وقت کے چیف سیکرٹری کو چھٹی کیلئے درخواست فوری فیکس کردی اور کہا کہ ”وہ نگراں وزیراعلیٰ کے آنے سے قبل دفتر چھوڑنا چاہتے ہیں اور انہوں نے ایسا ہی کیا“۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں تک آپریشن کا تعلق ہے تو وہ انہوں نے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کیا اور اس وقت کے ڈی آئی جی کی حیثیت سے ایم کیو ایم تو ایک طرف انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھی رعایت نہیں دی تھی جس نے انہیں تعینات کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک میٹنگ کے دوران جس میں سابق وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو بھی موجود تھیں‘ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے ڈاکٹر شعیب سڈل پر دباؤ ڈالا کہ وہ پی پی کے کارکنوں کو سرعام اسلحہ اٹھاکر چلنے کی اجازت دیں تاکہ ایم کیو ایم کو سزا دی جاسکے اور پولیس ایسے کارکنوں کو نہ پکڑے۔ ڈاکٹر سڈل نے یہ اجازت دینے سے انکار کردیا۔ وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی نے کہا کہ ایسا فیصلہ ہوچکا ہے اور ڈاکٹر شعیب سڈل کو محض اطلاع دی جارہی ہے جس پر ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ وہ کسی ایسے فیصلے کے ذمہ دار نہیں ہوں گے جو ان کی عدم موجودگی میں کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو مسلح کرنے کا اقدام مزید بے چینی پیدا کرے گا اور امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی۔ اسی اثناء میں شہید بے نظیر بھٹو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ”معاملہ ڈاکٹر شعیب سڈل پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ اپنے پیشے کے ماہر ہیں اور امن و امان درست رکھنا بہتر طور پر جانتے ہیں۔“ یہ بات نامہ نگار کو ایک ایسے ذریعہ نے بتائی جو اس وقت میٹنگ میں شامل تھا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|