واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


فتوٰی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلا تبصرہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-05-11, 03:54 PM   #1
فتوٰی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلا تبصرہ
مہتاب مہتاب آف لائن ہے 31-05-11, 03:54 PM

مسلم ممالک میں غیر مسلم فوجیوں کے خلاف جوابی اقدامات بھی نہیں کئے جاسکتے
طاہر القادری کا فتویٰ


نیو یارک( عظیم ایم میاں ) پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں سرگرم امریکی اور دیگر غیر مسلم ممالک کے فوجیوں، انٹیلی جنس ایجنٹوں، فوجی کنٹریکٹرز اور سفارت کاروں کی مسلم دشمن کارروائیوں کیخلاف بھی مزاحمت، انتقامی کارروائیاں اور جوابی اقدامات اسلام میں ممنوع ہیں اور صرف مسلح حملہ کرنیوالے غیر مسلم فوجی کے مقابلے میں دفاعی کارروائی کا حق ہے البتہ اپنے نااہل مسلمان حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے انقلاب لانا مسلم عوام کا فرض ہے ۔ یہ بات تحریک منہاج القرآن کے بانی علامہ طاہر القادری نے اپنے فتویٰ کے اجراء کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاکستانیوں کے اس اجتماع میں امریکی محکمہ انسداد دہشت گردی، ایف بی آئی اور دیگر حکام کی ایک کافی بڑی ٹیم بھی موجود تھی۔ پاکستانیوں کے اجتماع سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے جہاد کی مختلف قسمیں اور قتال ( مسلح جہاد ) کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی غیر مسلم اور غیر ملکی جاسوس اور فوجی کنٹریکٹر کی سرگرمیوں کے باوجود اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کر سکتا وہ صرف اس غیر مسلم مسلح فوجی سے صرف دفاعی جنگ لڑ سکتا ہے جو اس مسلمان کو قتل کرنے کی نیت سے حملہ آور ہوا ہو۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کے عوام منظم تحریک کے ذریعے اپنے نااہل اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو تبدیل کرنے کا فریضہ انجام دیں اور مصر میں حالیہ عوامی تحریک کے ذریعے حکمرانوں کی تبدیلی کی مثال کو اپنائیں۔ انہوں نے ڈرونز حملوں سے سویلین افراد کی ہلاکتوں کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بھی ان مسلم حکمرانوں کو قرار دیا جنہوں نے امریکا سے معاہدوں کے ذریعے ایسے حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔انہوں نے معاہدوں کی پابندی کرنا بھی مسلم ممالک کا فریضہ اور ذمہ داری قرار دیا۔ مسلم حکمرانوں کو کٹھ پتلی آمر اور عوامی انقلاب کا مستحق قرار دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ مسلح جہاد کا فیصلہ یا حکم کوئی گروپ یا عوام نہیں کر سکتے یہ فیصلہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ خطاب کے بعدپریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے اس تاثر کی تردید کی کہ انہوں نے اپنے اس فتویٰ کے ذریعے امریکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے امریکا اور مغربی ممالک کو ایک علمی اور مذہبی ہتھیار فراہم کر دیا ہے جس سے موجودہ دور کے مسلمانوں میں مغربی سازشوں کے خلاف مسلمانوں میں احتجاج اور مزاحمت ختم کرکے مسلم دنیا پر امریکی و مغربی بالادستی قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اپنے فتویٰ کے بارے میں کہا کہ میرا مقصد اس نوجوان مسلم نسل کو دہشت گردی اور خودکشی کا ایندھن بننے سے بچانا ہے جو ابھی جو ان ہو رہی ہے میرا مخاطب وہ افراد نہیں جو پہلے ہی برین واشنگ کے ذریعے دہشت گرد اور خودکش بمبار بن چکے ہیں میں امریکا یا کسی کی دنیاوی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنا علمی اور دینی فریضہ ادا کر رہا ہوں جبکہ علامہ طاہر القادری کے اس فتویٰ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ اور افغانستان و عراق پر امریکی حملوں کے دس سال بعد علامہ طاہر القادری نے اب یہ فتویٰ جاری کرکے امریکی مفادات کی بالادستی کی راہ ہموار کی ہے اور اس فتویٰ کی بھی وہی کیفیت ہے جو مسلم تاریخ میں بعض مسلم حکمرانوں کے مشیر علماء نے خوشنودی اور مناصب حاصل کرنے کیلئے حکمرانوں کو مشوردے دے کر امام حنبل، امام شافعی اور دیگر محترم شخصیات کو قید کوڑے اور سزائیں دلائیں۔ علامہ طاہر القادری کینیڈا میں شہریت اور سکونت اختیار کرنے کے بعد اپنے اس فتویٰ کے بارے میں امریکی میڈیا ، امریکی تھنک ٹینک، امریکی حکومت کے متعدد محکموں اور یونیورسٹیوں میں خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے ریاست نیوجرسی میں مسلمانوں کے ایک بڑے کنونشن سے بھی خطاب کیا۔

ح


اے دل تجھے دشمن کی پہچان نہیں
حـلــــقہ احــباب مــیں محــطاط رہا کر
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے

 
مہتاب's Avatar
مہتاب
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 946
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-06-11), آبی ٹوکول (31-05-11), اویسی (01-06-11), حیدر Rehan (11-06-11), حسن قادری (06-06-11), شمشاد احمد (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 04:02 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,232
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
یہ کوئی نیا فتویٰ ہے یا پرانے فتوے کا تسلسل ہے ؟
راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (31-05-11), آبی ٹوکول (31-05-11), اویسی (01-06-11), حیدر (01-06-11), شمشاد احمد (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 07:04 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وہ مفتی ھے ھی نہیں تو ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), حیدر (01-06-11), شمشاد احمد (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 07:08 PM   #4
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
کمائي: 22,563
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آج کے دور میں ہر کوئی فتوٰی دے دیتا ہے
مہتاب آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
حیدر (01-06-11), شمشاد احمد (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 07:13 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,232
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
آج کے دور میں ہر کوئی فتوٰی دے دیتا ہے
بالکل درست کہا
ایک مثال تو یہاں سب کے سامنے ہے
راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-05-11), آبی ٹوکول (31-05-11), حیدر (01-06-11), حیدر Rehan (11-06-11), عبداللہ خراسانی (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 07:49 PM   #6
Senior Member
 
عبداللہ خراسانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 254
کمائي: 4,280
شکریہ: 262
184 مراسلہ میں 466 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان میں ہر کوئی ڈاکٹر اور ہر کوئی مفتی بنا پھرتا ہے

یعنی اکثریت ایسی ہے۔
عبداللہ خراسانی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ خراسانی کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), حیدر (01-06-11), سیفی خان (31-05-11), شمشاد احمد (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 07:54 PM   #7
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,494
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دل تو میرا بھی چاہ رہا ہے کہ کوئی فتوٰی دے دوں ۔ ۔ ۔ ۔

چل رہندے
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), حیدر (01-06-11)
پرانا 31-05-11, 08:17 PM   #8
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,353
کمائي: 52,249
شکریہ: 4,405
1,836 مراسلہ میں 6,845 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
مسلم ممالک میں غیر مسلم فوجیوں کے خلاف جوابی اقدامات بھی نہیں کئے جاسکتے
طاہر القادری کا فتویٰ


[/CENTER][/COLOR]
مگر ادارہ منھاج القرآں آفیشل ویب سایٹ پر یہ خبر کچھ یوں لگی ہے ۔۔

دہشت گردی کے خلاف فتویٰ خوف اور لالچ سے بے نیاز ہو کر خالصتاً اسلامی روح کے مطابق دیا ہے
ڈرون حملے دہشت گردی ہے، امریکہ جیسے سو ملک بھی جمع ہو جائیں تو میرے ایمان کی رتی بھی نہیں خرید سکتے
اسلام میں کہیں بھی ایسے جہاد کا ذکر نہیں جو بے گناہ لوگوں کی گردنیں کاٹنے اور خود کش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو
کسی فرد واحد، لیڈر یا گروہ کو اسلامی ریاست کے اندر جہاد کے اعلان کی قطعاً اجازت نہیں
ڈاکٹر طاہر القادری کی امریکہ میں صحافیوں سے گفتگو

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ مسلمانوں پر حملہ آور غیر مسلم فوج کے خلاف مسلمانوں کو اپنے دفاع اور مزاحمت کا ہی نہیں بلکہ جوابی فوجی کارروائی کا بھی حق حاصل ہے۔

اسلام حملے کی صورت میں مسلمانوں کو جارح فوجیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا مکمل حق دیتا ہے۔ UN کے چارٹر میں یہ حق سب ملکوں کو حاصل ہے اور اسے ہر ملک نے اپنے قانون کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ ڈرون حملوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس کا ذمہ دار بھی ان مسلم حکمرانوں کو قرار دیا جنہوں نے امریکا سے معاہدوں کے ذریعے ایسے حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف فتویٰ خوف اور لالچ سے بے نیاز ہو کر خالصتاً اسلامی روح کے مطابق دیا ہے امریکہ جیسے سو ملک بھی جمع ہو جائیں تو میرے ایمان کی رتی بھی نہیں خرید سکتے۔ میرا مطمع نظر کسی ملک کی خوشنودی نہیں بلکہ حقیقی اسلامی تعلیمات کو انسانیت تک پہنچانا ہے۔

اسلام جنگ کے دوران غیر محارب سویلین افراد کے قتل کی ممانعت کرتا ہے۔ جو دین حالت جنگ میں بھی پر امن سفارتکاروں، عورتوں، بچوں، پادریوں اور فصلوں تک کو تحفظ دیتا ہو وہ معصوم شہریوں کو حالت امن میں دہشت گردی اور خودکش حملوں میں مارنے کی کیسے اجازت دے سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور خود کش حملوں کے خلاف جو جامع فتویٰ دیا ہے وہ ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہے اور وہ اسکے ایک ایک لفظ کے ذمہ دار ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ آف میڈیا تحریک منہاج القرآن کو نیو یارک سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیو یارک میں بہت بڑی میلاد کانفرنس سے خطاب کے بعد مختلف صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا اور مسلمانوں کو جہاد کے اصل تصور کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی فرد واحد، لیڈر یا گروہ کو اسلامی ریاست کے اندر جہاد کے اعلان کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ قرآن مجید میں 35 مقامات پر جہاد کا ذکر ہے اور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں جہاد کے پانچ مراحل ہیں جن میں روحانی، علمی، معاشرتی، سیاسی سماجی اور دفاعی جہاد شامل ہیں مگر نام نہاد جہادی پہلے چار مراحل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ اسلام میں کہیں بھی ایسے جہاد کا ذکر نہیں جو بے گناہ لوگوں کی گردنیں کاٹنے اور خود کش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو۔

اصل رط
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
asakpke (01-06-11), Ferozi (31-05-11), skjatala (01-06-11), کنعان (08-06-11), ننھا بچہ (31-05-11), مہتاب (31-05-11), منتظمین (31-05-11), اویسی (01-06-11), ابن آدم (31-05-11), احمد نذیر (12-06-11), حیدر (01-06-11), حیدر Rehan (11-06-11), شمشاد احمد (31-05-11), غیاث (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 10:32 PM   #9
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,509
شکریہ: 5,869
3,229 مراسلہ میں 6,948 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میڈیا کی کارستانیاں
//////////////////////////
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), حیدر (01-06-11)
پرانا 31-05-11, 10:51 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میڈیا کی ہر طرف اجارہ داری ہے۔جب جہاں جو چاہے کر دے انہیں کسی قسم کی پابندی نہیں۔
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), اویسی (01-06-11), حیدر (01-06-11), شمشاد احمد (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 11:04 PM   #11
Senior Member
 
Ferozi's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Pakistan's Heart
مراسلات: 219
کمائي: 6,111
شکریہ: 241
169 مراسلہ میں 589 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Allama Tahir ul Qadri: Fatwa Against Terrorism and Suicide Bombing







Last edited by Ferozi; 31-05-11 at 11:07 PM.
Ferozi آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے Ferozi کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-06-11), آبی ٹوکول (01-06-11), اویسی (01-06-11), حیدر (01-06-11), شمشاد احمد (31-05-11), غیاث (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 08:32 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,232
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ مسلمانوں پر حملہ آور غیر مسلم فوج کے خلاف مسلمانوں کو اپنے دفاع اور مزاحمت کا ہی نہیں بلکہ جوابی فوجی کارروائی کا بھی حق حاصل ہے۔
اس فتوے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ افغانستان میں جاری مزحمت کی شرعی حیثیت کو تسلیم کرتی ہے؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), آبی ٹوکول (01-06-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (12-06-11), حیدر (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 09:19 AM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 96,021
شکریہ: 52,538
11,185 مراسلہ میں 35,274 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس فتوے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ افغانستان میں جاری مزحمت کی شرعی حیثیت کو تسلیم کرتی ہے؟
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اُس مزاحمت کو غیر اسلامی کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے۔
طریقہ کار سے اختلاف اور جدو جہد سے اختلاف دو مختلف معانی رکھتے ہیں۔ اگر کوئی مجرد جدوجہد سے ہی اختلاف رکھتا ہے تو اسکی فہم و دانش پر ماتم کناں ہی ہوا جا سکتا ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), آبی ٹوکول (01-06-11), احمد نذیر (12-06-11), سام (01-06-11), عبداللہ آدم (12-06-11), عبداللہ حیدر (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 09:30 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,630
کمائي: 29,416
شکریہ: 7,138
2,967 مراسلہ میں 8,763 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہتر یہ ہوگا کہ ہم یہ جانیں‌کہ فتوی ہے کیا؟

فتوی دینے کا مطلب ہے قانون سازی۔

سابقہ طرز تعلیم میں‌ ایک فرد کو مناسب تعلیم دے کر اس کو مفتی کے اعزاز سے نوازتے تھے جیسے ڈاکٹر یا انجینئر۔ یہ مفتی یا قانون ساز مناسب معاملات پر اپنی رائے دیتا تھا۔ اس مفتی یا فتوے باز کی جڑیں‌اسلام سے قبل عیسائی پاپائیت میں‌اور اس سے قبل یہودی ربابیت یا ربوبیت میں‌اور اس سے بھی پہلے بابل و نینوا کے پروہتوں‌ میں‌ ملتی ہیں۔ ہندو پنڈت ، عیسائی اور یہودی پروہت اور مفتی کے کام کاج اور طور طریقے میں‌کوئی فرق نہیں۔ یہی پاپائیت ، ربوبیت یا پنڈت کی قانون سازی اسلام میں فتوے باز یا ہندو مت کے بھگوان گیر کی شکل رکھتی ہے۔ یہ ایک کامل غیر اسلامی عہدہ ہے اس لئے کہ قرآن حکیم نے ایسے کسی فتوے ساز، قانون ساز یا فتوے باز کے بنانے کا کوئی حکم نہیں‌دیا۔

فتوے بازی، قانون سازی یا فیصلہ کرنا صرف اور صرف --- باہمی مشورے سے کام کرنے والی --- ایک مقننہ یا مشاورتی کونسل یا مجلس شوری کا کام ہے۔ ایک شخص کتنا بھی قابل ہوجائے ، وہ ڈاکٹر کی طرح‌ اور انجینئر کی طرح تو کام کرسکتا ہے لیکن اکیلا قانون بنا کر لاکھوں افراد کی زندگیوں‌پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ ایسے فتوے ساز، فتوے باز ، قانون باز یا قانون ساز کا بیان اس کا اپنا اوپی نئین یا اپنا ذاتی خیال ہے ، جو چاہے درست ہو یا نا ہو ا س سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرے خیالات سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں‌۔ لیکن آپ کے اور میرے اتفاق کے لئے میری رائے کی بھی وہی اہمیت ہے جو آپ کی رائے کی ہے۔

باہمی مشورے سے فیسلوں کے بارے میں اللہ تعالی کا حکم
42:38 وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں

ایک قانون ساز مجلس شوری کے لئے اللہ تعالی کا حکم

3:104 وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں

چونکہ ایک قوم کے لئے قانون سازی کے لئے ایک جماعت ، مجلس شوری یا مقننہ کی ضرورت ہے تاکہ باہمی فیصلے باہمی مشورے سے کئے جاسکیں لہذا ایک عالم کی تقریر کی اہمیت صرف ایک لیکچر کی ہے نا کہ ایک فتوے یا قانون کی۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), منتظمین (06-06-11), اویسی (01-06-11), حیدر (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 09:43 AM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 96,021
شکریہ: 52,538
11,185 مراسلہ میں 35,274 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں سمجھتا ہوں کہ چچا آپکی تحقیق میں تھوڑی سی کجی ہے۔
فتویٰ ہمیشہ سے ایک رائے ہی ہوتا ہے۔ اور ایک ہی وقت میں ایک ہی مسئلہ پر ایک سے زائد آرا کا موجود ہونا عین ممکن ہوتا ہے ۔ لیکن اُس پر جب امت کی اکثریت کا اتفاق ہو جاتا ہے تو وہ قانون بن جاتا ہے۔ تاہم جو اقلیت ہوتی ہے اس کی رائے کا پھر بھی احترام کیا جاتا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (01-06-11), ھارون اعظم (06-06-11), آبی ٹوکول (01-06-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (12-06-11), راجہ اکرام (01-06-11)
جواب

Tags
color, jang, فرض, کنٹریکٹرز, کنونشن, پہچان, پاکستان, موقع, موجودہ, مسلمان, احتجاج, اسلام, جرم, خودکشی, خلاف, دنیا, سال, عوام, عوامی, علمی, علماء, علامہ, عراق, عظیم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان ابن جلال خبریں 21 06-06-11 08:45 PM
توہین رسالت کے بعد توہین کعبہ,,,,آج کی دنیا…اشتیاق بیگ خرم شہزاد خرم اپکے کالم 13 24-01-11 11:00 AM
جن باٹوں سے تول كر دوگے، تمہيں بھی تو اُن ہی باٹوں سے تول كر ملے گا ناں! ابو عمار گپ شپ 3 13-01-11 08:31 AM
wajee ذیلی ناظم کی ملک توڑنے کی بات "ہندوستان کو توڑ دیا یہ کیا چیز ہے" اویسی تھانہ 27 23-04-10 04:41 PM
تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں The Great شعر و شاعری 0 26-08-09 11:20 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger