فرانس نے کرنل معمر قدافی کی مخالف لیبیائی نیشنل کونسل کو لیبیا کے عوام کی جائز نمائندہ قیادت قرار دیتے ہوئے اسے رسمی طور پر تسلیم کر لیا ہے جبکہ معمر قذافی کی حامی افواج نے تیل کی رسد کے لیے مشہور شہر راس لانوف میں باغیوں کو شکست دے دی ہے۔
ادھر بین الاقوامی امدادی تنظیم انٹرنیشنل ریڈ کراس نے شکایت کی ہے کہ اسے لیبیا میں شدید لڑائی سے متاثرہ علاقوں تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے اور لیبیا کی حکومتی فورسز نے بی بی سی نیوز کی ایک ٹیم کو گرفتار کر کے ان کے ساتھ مار پیٹ کی ہے۔
معمر قذافی کی حامی افواج نے تیل کی رسد کے لیے مشہور شہر راس لانوف میں باغیوں کو شکست دے دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے باغیوں پر راکٹ پھینکے اور گولہ باری کی جس کے بعد باغی راس لانوف شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
ایک باغی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ہمیں شکست ہوگئی ہے وہ گولہ باری کر رہے ہیں اور ہم پسپائی پر مجبور ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ راس لانوف پر دوبارہ قبضہ کر رہے ہیں‘۔
بی بی سی کی ایک ٹیم نے جس کے ساتھ لیبیا میں مار پیٹ کی گئی اور حراست میں رکھا گیا، وسیع پیمانے پر سکیورٹی افواج کی طرف سے حکومت مخالف لوگوں کے ساتھ برا سلوک ہوتے دیکھا۔
حالیہ دنوں میں کرنل قدافی کی حمایتی افواج نے مشرق میں کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں کی ہیں اور دارالحکومت طرابلس سے تیس میل دور مغرب میں واقع شہر زاویہ میں بھی باغیوں کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔زاویہ شدید لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے اور بدھ کو سرکاری ٹی وی پر کہا گیا تھا کہ فوج نے زاویہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
جمعرات کو ریڈ کراس کے صدر نے کہا ہے کہ لیبیا کی ’خانہ جنگی‘ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ریڈ کراس نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ اسے لیبیا میں شدید لڑائی سے متاثرہ علاقوں تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔
سفارتی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ ان خدشات کے بعد کے لیبیا کی فوج کرنل قدافی کی طرف جھک رہی ہے ان مطالبات میں اضافہ ہو گیا ہے کہ عالمی طور پر کوئی کارروائی کی جائے۔
BBC Urdu - آس پاس - فرانس نے لیبیا کے باغیوں کو تسلیم کر لیا