|
فرشتہ نہیں، غلطیاں ہوئی ہوںگی،پی پی پی نے زیادتی کی، ارباب غلام رحیم

12-04-08, 03:37 PM
غلطیاں ہوئی ہونگی انتقامی کارروائی نہیں کی مجھ پرتشدد سوچی سمجھی سازش ہے ارباب رحیم
اسلام آباد۔۔۔مانیٹرنگ ڈیسک۔۔۔سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ میرے ساتھ پیپلزپارٹی کے لوگوں نے زیادتی کی ہے لیکن میں زیادتی کرنے اور کروانے والوں کومعاف کرتا ہوں وزیراعلیٰ انسان ہوتا ہے فرشتہ نہیں مجھ سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی ۔میں نے انتقامی کارروائی نہیں کی لیکن اگرکوئی زیادہ تنگ کرے تواسے ہارنہیں پہنائے جاتے کارروائی کی جاتی ہے۔جیو کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں اورمیں کوئی فرشتہ نہیں ہوں مجھ سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی میں نے اپنے دورمیں پیپلزپارٹی اور بے نظیربھٹو کے بھی کام کئے انہوں نے کہا میں نے عورت کی حکمرانی کومنحوس کہاہوگا اورمیں نہیں سمجھتا کہ منحوس کوئی برا لفظ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ میں سندھی ہوں اورمجھے اس لفظ کا مطلب نہیں آتاتھا اس لئے مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کسی جنرلسٹ کونہیں مارا میں اچانک دورہ کرناچاہتاتھا اورایک شخص نے میراسارامنصوبہ خاک میں ملادیاتھاتواس پر میں نے غصے میں تھپڑ ماراتھا۔ جس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی میرے خلاف کسی نے شکایت نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ میں نے حکومت میں اصلاح کے لئے کچھ اقدامات کئے لیکن انتقامی کارروائی نہیں کی البتہ جس کسی نے زیادہ تنگ کیا اس کوہار نہیں پہنائے جاتے اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ ڈی آئی جی کومیں نے خود اپنے علاقے میں لگایاتھا لیکن لوگوں کی شکایات اور بڑے افسر سے بدتمیزی کے بعد میں نے اسے ہٹادیاتھا بعدمیں سپریم کورٹ سے آرڈر آئے کہ اسے نہ ہٹایاجائے جس پرمیں مجبور ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ میں قسم کھاکرکہتا ہوں کہ میرے ذاتی تجربے میں اگرچیف جسٹس ملک اورقوم کے لئے بہترہوتے تو میں ان کابھرپورساتھ دیتااور پرویزمشرف کے خلاف بولتالیکن ایسانہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ جنرل پرویزمشرف سے میں نے بہت سے معاملات میں اختلاف بھی کیا وہ انتقامی نہیں ہیں اور معاف کرنے والے ہیں انہوں نے کہاکہ میرے خلاف جوبھی ہوا وہ سوچی سمجھی سازش تھی اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت یہ سب کچھ ہوا مجھے پہلے ہی اطلاعات تھیں اور سعودی عرب عمرے پرگیاتو وہاں پرمجھے پیغام ملے کہ آپ اسمبلی میں نہ آئیں لیکن اس کے باوجود میں اسمبلی میں آیا۔ میں پہلے دن اندرگیاتو وہاںپرمجھے گالیاں دی گئیں اورنعرے بازی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی ہال میں مہمانوں کو تالی بجانے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہئیے اورورکر کو اتنی تعداد میں پاس دلوانااچھی بات نہیں پارٹی لیڈر کوان تمام معاملات کوکنٹرول کرناچاہئیے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے حلف لیناتھا اس لئے دوسرے دن میں حلف لینے گیااوراگرحلف نہ لیتا تو میری سیٹ چلی جاتی اس لئے میں اسمبلی میں گیاتو مجھے جوتے مارے گئے اور پنجابیوں کاایجنٹ کہاگیااورگالیاں دی گئیں میں اکیلاتھا اور تسبحیاں بھی پڑھ کرگیاتھا میں بچ گیا۔انہوں نے کہاکہ ذوالفقار مرزا کو کسی نے کہتے ہوئے سنا کہ انہوںنے پولیس کوکہاکہ اسے واپسی پر سیکورٹی فراہم نہیں کرنی اورکچھ لڑکوں سے کہاکہ یہ کسی طرف سے بھی نکل سکتا ہے ۔ میرے دوستوں نے بچ بچائو کیالیکن ایک شخص نے مجھے مارا انہوںنے کہاکہ وہ حکومت کابندہ ہے اور پہنچانے جانے کے بعداگر اسے گرفتار کیاگیاتوبھی اس کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی اسے حلف برداری کاپاس بھی جاری کیاگیا ہے ۔ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن مجھے پتہ ہے کہ حکومت کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا اور اگرہمارے نبی کے ساتھ ایسا ہوااور وہ معاف کرتے رہے تو میں بھی زیادتی کرنے والوں اورکروانے والوں کومعاف کرتاہوںاورمعاملہ اللہ کی ذات پرچھوڑتا ہوں میں کوئی کارروائی نہیں کروںگا۔ لیکن حکومت کیاکرتی ہے وہ ان کی ذمہ داری ہے میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
٭٭٭٭٭٭
|
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|