واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


فوج ،عدلیہ اور غیرملکی رہنماؤں پر تنقید نہیں کی جاسکے گی،انتخابی ضابطہ اخلاق کا مسودہ منظو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-07, 08:12 PM   #1
فوج ،عدلیہ اور غیرملکی رہنماؤں پر تنقید نہیں کی جاسکے گی،انتخابی ضابطہ اخلاق کا مسودہ منظو
عبدالقدوس عبدالقدوس آف لائن ہے 25-10-07, 08:12 PM

فوج ،عدلیہ اور غیرملکی رہنماؤں پر تنقید نہیں کی جاسکے گی،انتخابی ضابطہ اخلاق کا مسودہ منظور

اسلام آباد(طاہر خلیل،نمائندہ خصوصی)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق کی منظوری دے دی ہے ،جس کے مطابق فوج ،عدلیہ اور غیر ملکی رہنماؤں پر تنقید نہیں کی جاسکے گی جبکہ سیاسی مخالفین کی کردار کشی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو 3نومبر تک ضابطہ اخلاق تجاویز دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات جنوری میں ہونے کا امکان ہے۔2002ء کے انتخابی ضابطہ اخلاق اور آئندہ عام انتخابات 2007ء کے مجوزہ ضابطہ اخلاق کے تقابلی جائزے سے پتا چلتا ہے کہ ملک کی موجودہ سیکیورٹی کی صورتحال کے مطابق اس میں کئی نکات کا اضافہ کیا گیا ہے اور مجوزہ بھارتی انتخابی ضابطہ اخلاق کی بھی کئی شقیں شامل کی گئی ہیں جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحتغیر ملکی رہنماؤں کے خلاف تنقید کی اجازت نہ دینے کا سب سے زیادہ نقصان مجلس عمل کو ہوگا جن کی انتخابی مہم امریکا مخالف نعروں پر مبنی ہوگی۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے مسودے کی منظوری دیدی ہے اور اسے مشاورت کیلئے سیاسی جماعتوں کو بھجوا دیا ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے بدھ کوپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات جنوری کے پہلے ہفتے میں ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اجلاس چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کی صدارت میں ہوا، جس میں ضابطہ اخلاق کے مسودے کی منظوری دی گئی۔ 3 نومبر تک سیاسی جماعتیں مجوزہ اخلاق پر تجاویز پیش کر سکیں گی۔ سیاسی جماعتوں کی کانفرنس میں الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دے گا۔ کنور محمد دلشاد نے کہا کہ پاکستان عام الیکشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 2007ء کے انتخابات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ عالمی برادری کی نگاہیں ان انتخابات پر مرکوز ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بدھ کو اپنے اجلاس میں ضابطہ اخلاق کے مسودے کی منظوری دی ہے۔ یہ مسودہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ ملک میں 90 سے زیادہ سیاسی جماعتیں کام کر رہی ہیں۔ 3 نومبر تک سیاسی جماعتیں ضابطہ اخلاق کے مسودے پر اپنی تجاویز بھیج سکتی ہیں، جس کے بعد الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کرے گا اور ان کی تجاویز کی روشنی میں ضابطہ اخلاق کا حتمی مسودہ جاری کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی تجاویز کو ضابطہ اخلاق کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کا احترام اور سیاسی جماعتوں کی تنقید کا خیر مقدم کرتا ہے۔ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔ ضابطہ اخلاق انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد نافذ ہو گا، اگر اسمبلی 15نومبر کو تحلیل ہو تو انتخابات کیلئے 60 دن درکار ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات جنوری کے پہلے ہفتے میں ہو سکتے ہیں۔ مجوزہ ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی مہم کے دوران انتخابی اجتماعات میں نظریہ پاکستان ،ملکی سالمیت ‘ فوج اور عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈا اور شخصیات کی کردار کشی کی اجازت نہیں ہوگی۔ قومی اسمبلی کے امیدوار کے لئے انتخابی اخراجات کی حد 15 لاکھ روپے جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے لئے 10 لاکھ روپے کی حد مقرر کی گئی ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ مسودہ 90 سے زائد سیاسی جماعتوں کو بھجوا دیا گیا ہے۔ ان سے مشاورت کے بعد عام انتخابات کے آزادانہ ‘ منصفانہ ‘ شفاف اور پرامن انعقاد کے لئے حتمی ضابطہ اخلاق جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد کوئی جماعت کسی علاقے یا ادارے کے لئے ترقیاتی فنڈ یا منصوبے یا وعدہ کا اعلان نہیں کر سکے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریلیوں اور جلوسوں پرپابندی کا معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑتے ہیں اور ان سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے کوئی بات کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہوگی کہ انتخابی مہم کے دوران معمولات زندگی معطل نہ ہوں۔انہوں نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران نظریہ پاکستان ‘ پاکستان کی سلامتی ‘ سالمیت کے علاوہ عدلیہ اور فوج کے خلاف کوئی بات نہیں کی جاسکے گی۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی پالیسیوں اور پروگرام اور ان کے ماضی کے کام کے خلاف بات کر سکیں گی تاہم کسی امیدوار یا شخصیت کی نجی زندگی کو زیر بحث لانے پر پابندی ہوگی۔ الزام تراشی سے اجتناب کرنا ہوگا۔ کوئی بھی جماعت یا امیدوار انتخابی شیڈول کے اعلان سے پولنگ کے دن تک کھلے یا چھپے کہیں پر بھی ترقیاتی فنڈز ‘ عطیات کا اعلان نہیں کر سکے گا۔ کنور دلشاد نے بتایا کہ انتخابی قوانین کے خلاف کسی قسم کے کسی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ووٹروں کو ہراساں کرنے ‘ پولنگ اسٹیشن کے 400 گز کے علاقے کے اندر ووٹروں کو قائل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پولنگ شروع ہونے سے 48 گھنٹے قبل انتخابی مہم ختم کردی جائے گی جبکہ اس دوران ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ مسودہ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعت یا امیدوار اپنے حامیوں کو کسی فرد کی زمین ‘ دیوار ‘ عمارت کے استعمال کی اجازت نہ دینے کا پابند ہوگا تاہم متعلقہ فرد سے اجازت کے بعد ایسا کیا جاسکتا ہے اور یہاں پر جھنڈے ‘ بینر اور چاکنگ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار کسی دوسری جماعت یا امیدوار کے اجتماعات یا پروگرام کو سبوتاژ نہ کرسکیں گے۔ کنور دلشاد نے بتایا کہ دیگر ممالک سے حکومتی تعلقات کو زیر بحث لانے پر پابندی ہوگی۔ دیگر ممالک کے سربراہان اور نظریات کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کے خلاف بدزبانی سے گریز کیا جائے گا۔ ضابطہ اخلاق کے تحت مذہبی منافرت ‘ صنفی امتیاز پھیلانے اور اشتعال انگیز تقاریر اور مواد تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انتخابی مہم کے دوران ہر قسم کے ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی ہوگی۔ کوئی سیاسی جماعت ‘ امیدوار ‘ ایجنٹ ‘ ورکر ‘ کسی امیدوار کے انتخابات میں حصہ لینے نہ لینے کے لئے کسی قسم کے تحفہ تحائف نہ دینے کا پابند ہوگا۔ سیاسی جماعتوں ‘ امیدواروں یا ورکروں کی طرف سے صنفی امتیاز ‘ اخلاقیات ‘ مذہب کی بنیاد پر کسی امیدوار کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ مسودہ میں وزراء کی طرف سے انتخابی مہم کے لئے سرکاری دوروں کی ممانعت کی گئی ہے۔ کسی امیدوار یا جماعت کی طرف سے سرکاری ملازم کی خدمات حاصل کرنے پر پابندی ہوگی۔ کسی سرکاری عمارت یا املاک پر جماعتی پرچم لہرانے یا بینر یا وال چاکنگ کرنے پر پابندی ہوگی تاہم مقامی حکومت یا دیگر ذمہ داران کی طرف سے چارجز لے کر اس کی اجازت دینے پر ایسا کیا جاسکتاہے۔ سیکرٹری نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران کسی قسم کی وال چاکنگ کی ممانعت ہوگی۔ مسودے میں کسی بھی شاہراہ پر انتخابی کیمپ لگانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انتخابی کیمپ میں ووٹروں کے لئے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ پارٹیاں اور امیدوار ووٹرز کو رشوت دینے، ڈرانے اور دھمکانے کی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہونگے جو بددیانتی کے زمرے میں آتی ہے سیاسی جماعتیں اور امیدوار مخالفین کی ذاتی زندگی کے حق کا احترام کریں گے۔ مخالفین کے پوسٹرز، بینرز اتارنے یا پھاڑے پر پابندی ہو گی۔ بیلٹ پیپر کو ضائع کرنے کی ممانعت ہو گی۔کوئی فرد یا سیاسی جماعت3x2 فٹ سے بڑے پوسٹرز، 3x5 فٹ سے بڑے ہورڈنگز، 3x9 فٹ سے بڑے بینرز لگانے اور 9x6 انچ سے بڑے پمفلٹ/ ہینڈ بل استعمال نہیں کرے گا۔ الیکشن 2007 کے لئے جاری ہونے والے مجوزہ ضابطہٴ اخلاق اور 2002 الیکشن کے لئے مروجہ ضابطہٴ اخلاق کے تقابلی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ مجوزہ ضابطہٴ اخلاق میں ملک کے موجودہ سیکیورٹی ماحول کے مطابق کئی اضافی نکات شامل کئے گئے ہیں۔ سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کے اقدامات اور بنیادی حقوق انسانی کے تحفظ سے متعلق آئین پاکستان کی شقوں کو نئے ضابطہ اخلاق میں بھاری ضابطہٴ اخلاق کی بھی کئی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ اور حکومت کے مفادات کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔ 2002 کے انتخابات میں ملک میں آزاد الیکٹرانک میڈیا کا وجود نہیں تھا جس وجہ سے مجوزہ نئے ضابطہٴ اخلاق میں الیکشن کمیشن نے پرنٹ کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا کو دباؤ اور دھونس سے مرعوب کرنے کی کوششوں کو خلاف قانون قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ ضابطہ اخلاق میں امیدواروں اور سیاسی جماعتوں پر ایسے بین الاقوامی مسائل پر تبصرے کرنے پر پابندی تجویز کی گئی ہے جس سے حکومت کے دیگر ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہو۔ اسی طرح غیر ملکی لیڈروں کے خلاف ریمارکس پر بھی پابندی ہو گی۔ مبصرین کے مطابق اس شق کا مقصد انتخابی مہم کو امریکا مخالف مہم میں بدلنے سے روکنا ہے۔ ایم ایم اے کی انتخابی مہم چونکہ امریکا مخالف نعروں پر مشتمل ہو گی اس لئے اس شق سے براہ راست ایم ایم اے متاثر ہو گی۔ سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ورکرز پر ڈس انفارمیشن پھیلانے پر بھی پابندی عائد ہو گی۔ حقوق انسانی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مجوزہ ضابطہٴ اخلاق میں سیاسی جماعتوں کو فرقہ وارانہ، لسانی، منفی اور گروہی تعصبات اور نظریات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیکورٹی ماحول کے مطابق انتخابی جلسے میں ہتھیاروں کی نمائش، انتہا پسندی اور شدت پسندی پر مبنی تقریروں پر پابندی ہو گی۔ حزب اختلاف کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے انتخابی مہم کے لئے وزراء کے دوروں، سرکاری وسائل کے استعمال، کھمبوں، سڑکوں اور سرکاری تنصیبات پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور بینرز لگانے، سڑکوں پر انتخابی کیمپ، سرکاری فنڈز سے اخبارات میں اشتہارات کے اجراء کی بھی ممانعت ہو گی۔ مجوزہ ضابطہٴ اخلاق کے تحت بھارت کی طرح پاکستان میں انتخابی مہم کے دوران سیاستدانوں کو سرکاری راز افشا کرنے پر پابندی عائد ہو گی
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.

 
عبدالقدوس's Avatar
عبدالقدوس
Administrator

تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 352
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, موجودہ, مسائل, الزام, بینرز, جواب, خلاف, خصوصی, دھمکانے, زندگی, صوبائی, صورتحال, صنفی, صدارت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جسٹس افتخار کے بغیر ججوں کی بحالی عدلیہ کو آپس میں لڑانے کی سازش ہوئی،جسٹس عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:53 PM
بائیکاٹ کردیا تو حکومت دھاندلی کے بغیر انتخابات میں کامیاب ہوجائے گی،بینظیربھٹو عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 07:21 AM
امر یکا سے خفیہ مفاہمت نہیں ، ملکی حدود میں کوئی بھی غیر نلکی کارروائی ناقابل قبول ہو گی،دفتر خارجہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:02 AM
صورتحال بہتر ہوتے ہی ایمرجنسی اٹھالی جائے گی،اسمبلیوں کی مدت میں توسیع مشاورت سے ہوگی،شوکت عزیز عبدالقدوس خبریں 0 05-11-07 07:48 AM
بے نظیر نے مرتضیٰ بھٹوقتل کی تحقیقات غیر ملکی ماہرین سے کیوں نہیں کرائی،شجاعت عبدالقدوس خبریں 0 27-10-07 09:45 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger