واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


فوج اور سکیورٹی اداروں کو مشتبہ افراد کو زیرحراست رکھنے کا اختیار دینے کی تجویز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-06-11, 05:48 AM   #1
فوج اور سکیورٹی اداروں کو مشتبہ افراد کو زیرحراست رکھنے کا اختیار دینے کی تجویز
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 18-06-11, 05:48 AM

لاہور (ضیاءاللہ نیازی) دی نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ وزارت داخلہ نے مستقبل میں شہریوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات سے بچنے کےلئے کچھ عرصے کےلئے فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے اور زیرحراست رکھنے کے خصوصی اختیارات دینے کےلئے قانون سازی سے متعلق صوبائی محکمہ ہائے داخلہ اور پولیس سربراہان سے رائے مانگ لی ہے۔ انسانی حقوق کیس (965/2005) میں سپریم کورٹ اور لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے بتایا کہ نئی قانون سازی کے امکانات کا جائزہ لینے کا معاملہ پارلیمنٹ اٹھا سکتی ہے کیونکہ وہ افراد جن کا سراغ نہیں مل سکا کو غیر معینہ مدت تک زیرحراست نہیں رکھا جا سکتا۔ مزید یہ کہ خصوصی حالات میں ریاست مخالف سرگرمیاں روکنے کےلئے فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو محدود عرصے کےلئے گرفتاری اور زیرحراست رکھنے کے خصوصی اختیارات دینے کےلئے مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے صرف اس قسم کی قانون سازی ، قانونی شق ہی شہریوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات کو ختم کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ وزارت کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے مراسلہ بھی موصول ہوا ہے جس میں نئی قانون سازی کے امکان کا جائزہ لینے کا کہا گیا ہے اور اس میں دو نکات پہلا یہ کہ کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں قانون سازی پر اصولی اتفاق اور دوسرا یہ کہ اصولی اتفاق کی صورت میں نئی قانون سازی کے لئے سفارشات“ پر ردعمل بھی دیا گیا ہے۔ ادھر پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب کو لکھی گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ ”آئی جی پولیس پنجاب‘ ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کی رائے لی گئی ہے اور انہوں نے مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے اور ان سے پوچھ گچھ کا اختیار فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دینے کی حمایت کی ہے تاہم انہوں نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ءمیں کچھ ترامیم کی تجویز دی ہے جس کے مطابق اس قانون میں ایک نئی شق (11 ای ای ای ای) شامل کی جائے جس کے تحت ایک مشتبہ شخص کو مخصوص مقام پر 90 روز تک زیرحراست رکھنے اور پولیس اور دیگر ایجنسیوں پر مشتمل ٹیم کو اس سے تفتیش کرنے کی اجازت ہو اور اس سے تفتیش، تلاشی اور برآمدگی کے مزید اختیارات دےئے جائیں اور اس قسم کی حراست کسی بھی عدالت بشمول ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج نہ ہو سکتی ہو۔ ایکٹ کی شق 21۔ ڈی میں بھی ترمیم کر کے ملزم کا عدالت بشمول ہائیکورٹ و سپریم کورٹ سے ضمانت کا حق ختم کیا جائے اور ضمانت ‘ ریمانڈ یا ٹرائل کے دوران اس شخص کو فوج یا پولیس کی حفاظتی حراست میں رکھے جانے کی اجازت دی جائے۔ شق 21ای میں ترمیم کر کے ایک مرتبہ 30روز تک ریمانڈ کی مدت بڑھائی جائے اور اس طرح ریمانڈ کی موجودہ 15روز کی مدت کو بڑھا کر 90روز کیا جائے اور نظام عدل 2009کے تحت متعین /مقرر مجسٹریٹ کو اس ایکٹ کے تحت یہ اختیار استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ ایکٹ میں ایک نئی شق 21ای ای شامل کرنے کی تجویز ہے جس کے تحت ایس پی یا اس کے برابر کے دیگر ادارے کے اہلکار /افسر کو اختیار دیا جائے کہ وہ یہ اطمینان کرنے کےلئے کہ ایکٹ کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی ‘ کسی بھی شخص سے معلومات طلب کر سکے یا اسے کوئی دستاویز پیش کرنے کےلئے کہے یا کیس کے حقائق سے آگاہ شخص کی جانچ پڑتال کر سکے یا کسی بھی بینک یا مالیاتی ادارے سے کسی بھی شخص سے متعلق معلومات حاصل کر سکے یا فون کا ریکارڈ‘ ای میلز‘ ایم ایم ایس اور آئی ڈی کارڈز طلب کر سکے اور اس قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ شخص کو جرمانے کے ساتھ یا بغیر جرمانے کے 2سال قید کی سزا ہو گی ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ بالا ترامیم انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997جو یکم اکتوبر 2009اور 28جنوری 2010کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے متعارف کرایا گیا کا حصہ تھیں۔ یہ آرڈیننس ہر مرتبہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد ختم ہو گیا اور اب یہ ترامیم ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے متعارف /شامل کی جائےں گی اس حوالے سے ایک مسودہ تیار کیا جائے گا جو 27جولائی 2011کو سینیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ بل سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ اُمور کو بھجوایا گیا تھا جو ابھی تک زیر التوا ہے ۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ کمیٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس حد تک اختیارات دینے سے گریزاں ہے ۔ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لئے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات دینے کی تائید کرتی ہے ۔ تا ہم تجویز کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے پہلے صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تا کہ اس مقصد کے لئے دیئے جانے والے اختیارات کی وسعت اور سکوپ کا فیصلہ کیا جا سکے ۔ مزید یہ کہ اگر قانون سازی ہوتی ہے تو ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی اور آپریشنز کےلئے اجازت یا نگرانی ایک سول اتھارٹی یا بورڈ کو دی جائے گی ۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب ناصر محمود کھوسہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سمری کی منظوری نہیں دی‘ انہوں نے کہا کہ فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دےئے جانے والے خصوصی اختیارات کے حوالے سے محکمہ داخلہ کی تجاویز زیر غور ہیں۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 156
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-06-11), ھارون اعظم (18-06-11), عبدالقدوس (18-06-11)
پرانا 18-06-11, 11:45 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,649
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جلد ہی پھر پورا پاکستان اٹھا لیا جائے گا، اور لاپتہ افراد کے لیے ججوں کا بنچ بھی جیل کے اندر ہی کاروائی کیا کرئے گا کیونکہ تمام جج خود لاپتہ ہو چکے ہوں گے۔۔۔۔

یہ نہ تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے یہ اس کا پاکستان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
skjatala (18-06-11), ھارون اعظم (18-06-11), عبدالقدوس (18-06-11)
پرانا 18-06-11, 11:54 AM   #3
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,584
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

صرف شک کی بنیاد پر کسی کو حراست میں رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟ شک کے پیچھے کوئی ٹھوس وجہ بھی ہونی چاہیئے۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
گلاب خان (19-06-11)
پرانا 18-06-11, 02:19 PM   #4
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,381
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک اور مضحکہ خیز اور جاہلانہ قانون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (18-06-11)
جواب

Tags
ہے۔, کورٹ, گئی, پولیس, وقت, واقعات, قید, نیوز, موجودہ, مقصد, متعارف, معلوم, ترمیم, خلاف, خصوصی, دی, سپریم, سال, شخص, عدل, عدالت, غور, صوبائی, صدارتی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
باجوڑ:سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مزید 7شدت پسند ہلاک ابن جلال خبریں 0 18-10-08 03:11 PM
پرویز الٰہی سے سیکورٹی واپس نہیں لی، مزید بھی دینے کو تیار ہیں، شہباز شریف عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:13 AM
نواز شریف نے ذاتی سکیورٹی کیلئے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی تجویز مسترد کردی ابن جلال خبریں 0 12-04-08 03:06 PM
دھاندلی کی بات کرنیوالے شکست سے خوف زدہ ہیں۔ پرویز الہی محمدعدنان خبریں 0 22-12-07 08:33 PM
انتخابات میں اکثریت حاصل کرنیوالی پارٹی وزیراعظم نامزد کریگی، صدر پرویز خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:07 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger