واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


فیصلوں کا احترام نہیں کیا جار ہا،حکومت چاہتی ہے تو عدالتیں بند کر دیتے ہیں،چیف جسٹس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-09-10, 03:15 PM   #1
فیصلوں کا احترام نہیں کیا جار ہا،حکومت چاہتی ہے تو عدالتیں بند کر دیتے ہیں،چیف جسٹس
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 18-09-10, 03:15 PM

اسلام آباد(خبر نگار)سپریم کورٹ نے ایف نائن پارک میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف دیئے گئے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر لئے گئے ازخود نوٹس کیس میںمزید کارروائی20ستمبر تک ملتوی کردی'چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کرتی اورایسا چاہتی ہے تو عدالتیں بند کردی
جائیں۔عدالت کے واضح فیصلے کے باوجود کامران لاشاری کو چیف سیکرٹری لگا دیا گیا ہے یہ انکو سزا دی گئی ہے یا انعام ملا ہے 'عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوحکم دیا ہے کہ وہ کامران لاشاری کوچیف سیکرٹری بنائے جانے کا معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لائیں'عدالت نے ایف نائن پارک کی تعمیرات سے بدعنوانی کے مرتکب سی ڈی اے افسران کے خلاف کی گئی کارروائی سے متعلق رپورٹ پیر کو طلب کرلی ہے جبکہ کامران لاشاری کے خلاف کارروائی کیلئے حکومت کو دو روز کی مہلت دی ہے چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی'سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فیصلے کے سی ڈی اے سے متعلقہ تمام حصوں پرعمل کرلیا گیا ہے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اسماعیل قریشی نے لاشاری کے خلاف کارروائی سے متعلق عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں انکوائری مقرر کی گئی جس نے کامران لاشاری کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو ان کو سزا دینے کے بجائے چیف سیکرٹری لگا دیا ہے یہ سزا ہے یا انعام آپ اس طرح عدالتی فیصلوں کی عزت کرتے ہو۔ان کی سمری آپ نے بھیجی تھی اسماعیل قریشی نے کہا کہ میں نے سمری نہیںبھیجی تھی یہ مجاز اتھارٹی کے احکامات ہیں اور شاہد ان کی تقرری انکوائری رپورٹ آنے سے قبل ہوئی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ مجاز اتھارٹی کو بتانا آپ کا کام تھا انکے خلاف عدالت کا فیصلہ موجود ہے جب انکوائری ہوئی تھی توتقرری کیوں عمل میں لائی گئی آپ کہتے ہوتو عدالت بند کردیتے ہیں اگر حکومت ایساہی چاہتی ہے اسماعیل قریشی نے کہا کہ وہ یہ معاملہ مجازاتھارٹی کے نوٹس میں لائیں گے عدالت نے حکم دیا ہے کہ جو بھی کرنا ہے روز میں کر کے عدالت کو آگاہ کریں چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملوث افسران کیخلاف کارروائی کے اختیارمیں نہیں حکومت کے متعلقہ ادارے کو اس بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے عدالت نے مزید سماعت 20ستمبر تک ملتوی کردی۔دریں اثناء سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ عدنان اے خواجہ کی بطور ایم ڈی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ تعیناتی کیلئے کوئی سمری تیار نہیں کی گئی تھی بلکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کواحکامات اوپر سے آئے تھے جس پر سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ سارے کام اوپر سے کیوں ہوتے ہیں قواعد واضوابط کے مطابق کیوں نہیں ہوئے جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ جس کام کا پوچھتے ہیں احکامات اوپر سے آئے ہوتے ہیں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ کے روبرو مقدمے میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ پیش ہوئے عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ عدنان اے خواجہ کی تقرریوں کے نوٹیفکیشن پیش کیے گئے عدنان اے خواجہ او جی ڈی سی ایل کے ایم ڈی تعینات ہونے سے قبل نیشنل ایجوکیشن ووکیشنل کونسل کے چیئرمین مقرر کئے گئے تھے چیف جسٹس نے کہاکہ عدنان خواجہ کو تو ریفرنس میں10سال کیلئے کسی بھی عہدے کیلئے نااہل قراردیاگیا ہے ان کوکیوںتعینات کیاگیا'سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہاکہ ان کی نااہلی کے بارے میں ہمیں علم نہیںتھا میڈیا رپورٹس سے ہمیں معلوم ہوا توان کی بطور ایم ڈی تقرری کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا'چیف جسٹس نے کہا کہ عدنان خواجہ نے ہمارے حکم کے خلاف ورزی کی ہے جب انکو علم تھا تاکہ میں نااہل ہوں توتقرری کیوں قبول کی'قانون کی اس طرح دھجیاں اڑائی جارہی ہے آپ کو2سال کی سزا ہوئی آپ نے اگر پوری نہیںکی توکاٹنا پڑے گی اور اس کیلئے جیل جانا پڑے گا'چیف جسٹس نے اس کیس میں دوسرے شریک ملزم بریگیڈیئر(ر)امتیاز سے کہا کہ اگر آپ نے بھی اپنی ضمانت کنفرم نہ کی تو جیل جانا پڑے گا عدالت نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل راجہ عامر کوہدایت کی کہ وہ ان دونوں ملزمان کے بارے میں رپورٹ داخل کریں کہ ان کی کتنی سزاباقی ہے چیف جسٹس نے عدنان خواجہ سے کہاکہ سپریم کورٹ کا این آر او کے خاتمے کا فیصلہ آنے کے بعد آپ کی پہلے والی ضمانت منسوخ ہوگئی ہے اب آپ کونئی ضمانت کرانا پڑے گی'عدالت نے عدنان خواجہ کے ضامنوں کوبھی نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کرلیا'مقدمے کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے54افسران کو گریڈ22میں ترقی روکنے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف دائردرخواست حکومت کی جانب سے فیصلے پر عمل کرنے کی یقین دہانی کے بعد نمٹا دی'وزارت اطلاعات کے افسر این آئی عباس کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت کے تین رکنی بنچ نے کی'سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسماعیل قریشی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں تمام افسران کی ترقیاں واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ترقی کی مراعات نہ دینے کیلئے بھی احکامات دیئے گئے ہیں جبکہ گریڈ بائیس میں ترقی کیلئے طریقہ کار بھی وضع کرلیا گیا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس کیس میںنہایت سنجیدہ ہے عدالتی فیصلوں پرعمل نہ ہونے کی شکایات بڑھ رہی ہیں'عدالتی فیصلے مذاق نہیں 28اپریل کو فیصلہ سنایا گیا تھا مگرابھی تک عمل نہیں ہوا اسماعیل قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم نے عدالت کے فیصلے پرمکمل عملدرآمدکی ہدایت کی تھی جس کے بعد تمام افسران کی ترقیوں کے احکامات واپس لیے گئے اس دوران افسروںکو گریڈ22کی مراعات نہ دینے کابھی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے آخری حصے میں عمل نہیں ہوا'اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ترقیاں واپس لینے کے نوٹیفکیشن میں کچھ چیزیں مبہم ہیں کیونکہ اس وقت حکومت کے پاس عدالتی فیصلے موجود نہیں تھا'اب سپریم کورٹ کیفیصلے کے مطابق تمام امور ڈیپارٹمنٹ کے نوٹس میں لائے گئے ہیں اس لئے نیانوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا چیف جسٹس نے سیکرٹری سے کہا کہ وہ وزیراعظم کو سمری بھیجیں اور انہیں آگاہ کریں کہ عدالتی فیصلوںکی عزت نہ کرنے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے'عدالت نے اٹارنی جنرل کی جانب نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی
__________________
جاویداسد

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 76
Reply With Quote
جاویداسد کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (18-09-10)
جواب

Tags
کورٹ, گئی, وقت, وزیراعظم, قواعد, میڈیا, مطابق, معلوم, آر, انعام, اسلام, جیل, خلاف, خبر, سپریم, سال, طلب, علم, عملدرآمد, عامر, عباس, عدنان, عدالتی, عدالتیں, عزت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوئی تو فیصلہ کن مرحلہ شروع کرسکتے ہیں،نوازشریف ھارون اعظم خبریں 9 30-03-12 10:43 PM
سیاسی حکمرانوں کو بھی آزاد عدلیہ قبول نہیں،معزول جسٹس جہانگیرارشد عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 02:02 PM
امپائرز کا فیصلہ اٹل نہیں،کھلاڑیوں کو تین اپیلوں کا حق دے دیا گیا خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 05-01-08 09:47 AM
صدارتی اہلیت پر درخواستوں کا فیصلہ جمعرات تک متوقع ہے، جسٹس جاوید اقبالصدارتی اہلیت پر درخواستوں کا فیصلہ جمعرات تک متوقع ہے، جسٹس جاوید عبدالقدوس خبریں 0 27-10-07 09:52 AM
تہمتیں تو لگتی ہیں کشورناہید شاعری اور مصوری 3 25-09-07 04:08 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger