|
"قابل طالب علموں کا پیر ڈنڈ ا"نہیں

24-08-10, 06:37 PM
24 اگست 2010
لاس اینجلس(نیٹ نیوز)ایک امریکی تحقیق کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو وہ بچے جنہیں سکول میں زیادہ گالیاں دی جاتی ہیں وہ تعلیمی طور پر زیادہ خراب کارکردگی دکھاتے ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں سائیکولوجی کی پروفیسر جانا جونن کا کہنا ہے کہ کسی بچہ کو اس وقت تک سکھایا نہیں جا سکتا۔ جب تک وہ خود سیکھنے کیلئے تیار نہ ہو اور اس کیلئے ضروری ہے کہ اس کے اندر کلاس میں ہاتھ کھڑا کرنے اور بولنے کا ڈر نہ ہو۔تحقیق میں لاس اینجلس کے سرکاری مڈل سکولوں کے 2,300 طالب علموں اور ان کے اساتذہ کو شامل کیا گیا ۔دوران تحقیق طالب علموںسے ان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا انہیں گالیاں پڑتی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ایسے کلاس فیلوز سے متعلق پوچھا گیا جو بری افواہوں کی بنا پر جسمانی اور زبانی طور پر زیادہ سختی برادشت کرتے ہیں۔ تحقیق کے ذریعے یہ بات سامنے آئی کہ ایک دفعہ جن طالب علموں پر گونگے ہونے کا لیبل چپکا دیا جاتا ہے او مزید خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ریسرچ ٹیم کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مڈل سکولوں میں گالیاں کھانے والوں بچوں کو زیادہ کُول سمجھا جا سکتا ہے۔ پروفیسر جونن کا کہنا کہ ہائی سکولوں میں " کول "بنے کے چکر میں بچے "بلی "کہلوانا پسند کرتے ہیں تاہم "بلی" کہلوانے سے کمینگی کی رسم کو فروغ ملتا ہے جس سے لاکھوں طالب علم متاثر ہوتے ہیں۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|