واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


قانون توہین رسالت اور غازی علم دین شہید...آج کی دنیا…اشتیاق بیگ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-01-11, 10:31 AM   #1
قانون توہین رسالت اور غازی علم دین شہید...آج کی دنیا…اشتیاق بیگ
sahj sahj آف لائن ہے 12-01-11, 10:31 AM

گورنرپنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ ایک طبقہ سلمان تاثیر کو شہید اور پاکستان میں لبرل ازم کا علمبردار قرار دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کررہا ہے، ان کی یاد میں شمعیں جلارہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ ممتاز حسین قادری کو غازی قرار دیتے ہوئے اس کا تعلق غازی علم دین شہید سے جوڑ رہا ہے اور ان پر پھول نچھاور کررہا ہے۔81 سال بعد ایک بار پھر غازی علم دین شہید کا نام اور واقعہ ذہنوں میں تازہ ہوگیا ہے اور آج ہر ایک کی زبان پر ہے۔ لاہور کا رہائشی 19سالہ غازی علم دین پیشے کے لحاظ سے ایک بڑھئی تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے انڈیا میں ہونے والے ایک واقعہ نے علم دین کی زندگی میں ہلچل برپا کردی۔ 1923 میں ایک انتہا پسند ہند و نے رسول اکرمﷺ کی شان میں ایک نہایت گستاخانہ کتاب کے نام سے تحریر کی۔ یہ کتاب ایک فرضی نام سے لکھی گئی جسے لاہور کے ایک ہندو پبلشر راجپال نے شائع کیا۔ کتاب میں انتہائی نازیبا باتیں درج تھیں جنہیں کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ کتاب کی اشاعت سے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں نے اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا اور اس کے پبلشر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ سیشن کورٹ نے راجپال کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنادی جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اس سزا کے خلاف اپیل کی۔ سماعت میں مجرم راجپال کو اس وجہ سے رہا کردیا کہ اس وقت مذہب کے خلاف گستاخی کا کوئی قانون موجود نہ تھا۔

مسلمانوں نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں تحریک شروع کردی۔ نوجوان علم دین اپنے دوست رشید کے ساتھ لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد کے سامنے اس ہجوم میں موجود تھا جو ہندو رائٹر راجپال کے خلاف نعرے لگارہا تھا۔ جذبات کا ایک تلاطم تھا جو ہجوم کے نعروں کی گونج میں امنڈ رہا تھا۔ امام مسجد نے انتہائی درد بھری آواز میں کہا۔ ”مسلمانوں شیطان راجپال نے اپنی کتاب میں ہمارے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے اور عدالتوں نے اسے بری کردیا ہے جس سے اسلام دشمنوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔“ امام مسجد کے یہ الفاظ غازی علم دین کے دل میں اتر گئے اور اس نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ وہ گستاخ رسول کو واصل جہنم کرکے ہی دم لے گا۔ اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے قریبی دوست رشید سے کیا۔ وہ بھی راجپال کو اس گستاخی کا مزا چکھانا چاہتا تھا۔ دونوں دوستوں نے اس مسئلے پر تین مرتبہ قرعہ اندازی کی اور تینوں مرتبہ علم دین کا نام آیا، آخرکار رشید، علم دین کے حق میں دستبردار ہوگیا۔ اللہ نے یہ سعادت شاید علم دین کے ہی نصیب میں لکھی تھی۔


6 ستمبر 1929ء کو علم دین بازار سے ایک چھری خریدکر سیدھا راجپال کی دکان کی طرف روانہ ہوا۔ راجپال ابھی دکان پر نہیں آیا تھا۔ علم دین نے اس کا انتظار کیا اور جیسے ہی راجپال اپنی دکان میں داخل ہوا علم دین نے چھری سے اس کے سینے پر زوردر وار کیا جو اس کے دل میں پیوست ہوگیا۔راجپال موقع پر ہی ڈھیر ہوگیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا اور اس پر قتل کا مقدمہ درج کرکے کیس چلایا گیا۔ علامہ اقبال کی درخواست پر قائداعظم محمد علی جناح نے علم دین کا مقدمہ لڑا۔ قائداعظم نے ایک موقع پر علم دین سے کہا کہ وہ جرم کا اقرار نہ کرے۔ غازی علم دین نے کہاکہ میں یہ کیسے کہہ دوں کہ میں نے یہ قتل نہیں کیا،مجھے اس قتل پر ندامت نہیں بلکہ فخر ہے، کورٹ نے علم دین کو سزائے موت دی۔ قائداعظم محمد علی جناح لبرل تصور کئے جاتے تھے اور اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے حامی تھے، ہندو اخبارات نے ان پر کڑی تنقید کی لیکن قائداعظم نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ”مسلمانوں کیلئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ “


31 اکتوبر 1929ء غازی علم دین شہید کی سزائے موت پر عملدرآمد کا دن تھا۔ علم دین سے ان کی آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ غازی علم دین کو جب پھانسی گھاٹ پر لایا گیا اور جب پھندا ان کی گردن میں ڈالا گیا تو اس نے وہاں موجود لوگوں سے کہا ”اے لوگو! گواہ رہنا میں نے راجپال کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے پر واصل جہنم کیا ہے، آج میں آپ سب کے سامنے کلمہ طیبہ کا ورد کرکے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان نچھاور کررہا ہوں۔“غازی علم دین شہید کو پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے ان کی میت بغیر نماز جنازہ جیل کے قبرستان میں دفنادی جس پر مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور علامہ اقبال نے ایک مہم چلائی اور آخر کار انگریزوں کو یہ یقین دہانی کے بعد کہ” لاہور میں تدفین کے موقع پر ہنگامہ آرائی نہیں ہوگی“ اس کی اجازت دے دی گئی۔

15 دن بعد جب غازی علم دین شہید کی میت کو قبرسے نکالا گیا تو ان کا جسد خاکی پہلے دن کی طرح تروتازہ تھا۔ علم دین شہید کے والد نے علامہ اقبال سے علم دین کی نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی جس پر علامہ اقبال نے ان سے کہا کہ وہ بہت گناہ گار انسان ہیں، اس لئے اتنے بڑے شہید کی نماز جنازہ وہ نہیں پڑھاسکتے۔“غازی علم دین شہید کی نماز جنازہ لاہور کی تاریخ کی سب سے بڑی نماز جنازہ تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ عاشق رسول کے جنازے کو کندھا دے۔

علامہ اقبال نے غازی علم دین شہید کی میت کو کندھا دیا اور اپنے ہاتھوں سے انہیں قبر میں اتارا۔ اس موقع پر علامہ اقبال نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا ۔ ”ترکھان کا بیٹا آج ہم پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا اور ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔“

علم دین شہید کی پھانسی کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے بعد انگریزوں کو قوانین میں تبدیلی کرنا پڑی اور کسی بھی مذہب کی توہین کو جرم قرار دیا گیا اور اس طرح ایک نوجوان کی قربانی قانون میں تبدیلی کا پیش خیمہ بنی۔

آزادی پاکستان کے بعد توہین رسالت کے قانون کو ”پاکستان پینل کوڈ“ کا حصہ بنایا گیا اور 1982ء میں اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے اس قانون میں ترمیم کرتے ہوئے قرآن کریم کی توہین کی سزا عمر قید جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی کم از کم سزا موت رکھی۔

روزنامہ جنگ
12جنوری2011
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 186
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-01-11), عبداللہ آدم (12-01-11), عروج (12-01-11)
پرانا 12-01-11, 12:31 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلا شبہ اصل محبت یہی ھے۔ جزاک اللہ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (12-01-11)
جواب

Tags
ہنگامہ, ہندو, کورٹ, پھول, پولیس, پاکستان, پسند, وزیر, قائداعظم, قرآن, نماز, موت, مسجد, آج, اللہ, انسان, احتجاج, اسلام, ترمیم, جیل, خلاف, دوست, دل, زندگی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پیاز 100روپے کلو فروخت کرنے پر خاتون نے سبزی فروش کی پٹائی کردی جاویداسد خبریں 8 12-01-11 12:34 PM
جعل سا زی روکنے کے لیے الیکٹر ک نو ٹ تیارکرلیے گئے محمدعمر خبریں 5 25-12-10 08:22 AM
قانون توہین رسالت پرنیا حملہ .....اصل عزائم کیا ہیں۔از؛ محمد احمد ترازی آبی ٹوکول عمومی بحث 36 10-12-10 10:41 PM
قانون توہین رسالت اور حدود آرڈینینس امتیازی ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟ احمدنواز سیاست 0 04-11-09 09:52 AM
’بی اے کی شرط امتیازی قانون ہے‘ محمدعدنان خبریں 0 18-04-08 06:18 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:48 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger