|
قبائلی علاقوں میں ممکنہ بڑا آپریشن،اورکزئی نے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا

07-01-08, 07:46 AM
قبائلی علاقوں میں ممکنہ بڑا آپریشن،اورکزئی نے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا
اسلام آباد( تجزیہ نگار خصوصی … صالح ظافر) لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی محمد جان اورکزئی کی جانب سے گورنر سرحد کا عہدہ چھوڑنے کے بعد 12 اکتوبر کو پرامن فوجی انقلاب کی قیادت کرنے والے سینئر فوجی افسران کے گروپ کا آخری کھلاڑی بھی پرویز مشرف انتظامیہ اور منظر کو چھوڑ گیا ہے۔ جنرل اورکزئی نے اس وقت جنرل پرویز مشرف کے ماتحتی میں کام کیا تھا جب جنرل پرویز منگلا کے کور کمانڈر تھے اور جنرل جہانگیر کرامت کے بعد فوجی سربراہ مقرر ہونے پر جنرل پرویز مشرف نے کچھ عرصہ بعد اورکزئی کو جی ایچ کیو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا تھا۔ جنرل اورکزئی 12 اکتوبر کو 19ویں ڈویژن کی کمانڈ کر رہے تھے، انہیں وفاقی سیکریٹری برائے دفاعی پیداوار کا عہدہ سنبھالنے سے قبل کور کمانڈر پشاور مقرر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 24 مئی 2006ء کو انہیں گورنر سرحد مقرر کیا گیا۔ جنرل اورکزئی ایک پرامن شخص تصور کئے جاتے ہیں اور انہوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ اپنے ابتدائی دنوں میں بڑھتی ہوئی مزاحمت پر قابو پایا تھا جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنے پر یقین رکھتے ہیں۔ جنرل اورکزئی قبائلی سربراہ ہیں اور کرم ایجنسی سے تعلق کی بناء پر علاقے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ابتدائی مرحلے کے دوران القاعدہ کے عناصر کو محدود کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں نہ صرف مرکزی مشتبہ افراد گرفتار ہوئے بلکہ قبائل بھی پرامن رہے۔ کور کمانڈر کے طور پر انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جس سے نہ صرف ان کی حمایت میں بطور جنرل اضافہ ہوا بلکہ قبائلی رہنما کے طور پر بھی ان کے قد میں اضافہ ہوا۔ جنرل اورکزئی وزیرستان کے قبائل کے ساتھ مشہور معاہدے کے بھی معمار تھے۔ یہ معاہدہ انہوں نے گورنر سرحد بننے کے بعد کیا تھا جس سے ملحقہ علاقوں میں امن بحال ہوگیا تھا تاہم اس معاہدے پر امریکا نے پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا تھا اور جب جنرل پرویز مشرف نے امریکا کا دورہ کیا تھا تو امریکی انتظامیہ نے الفاظ چبائے بغیر اس معاہدے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جنرل اورکزئی کو جنرل پرویز مشرف نے صدر بش سے ملاقات کرنے سے ایک روز قبل امریکا طلب کیا تھا اور گورنر نے ایک اجلاس میں امریکی صدر کے سامنے پوری وضاحت پیش کی تھی کہ معاہدہ کن حالات میں کیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ معاہدے کو طالبان کے ساتھ ڈیل قرار دیتی رہی لیکن پاکستان نے اس سے اختلاف کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل اورکزئی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی فوج کی مداخلت کے سخت مخالف تھے۔ گزشتہ ہفتے راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کے قتل اور اس میں بیت اللہ محسود کو ملوث کئے جانے سے گورنر سرحد اور دونوں انتظامیہ کے درمیان ناپسندیدگی بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر قبائلی علاقوں میں ہدف کے حصول کیلئے بے رحمانہ طاقت کے استعمال کے بھی خلاف تھے اور وہ ایسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ قبائلی علاقوں میں بیت اللہ محسود اور اس کے ساتھیوں کو پکڑنے کے مطالبے کے پیش نظر بڑے پیمانے پر آپریشن جلد شروع ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ تمام امکانات یہ ہیں کہ یہ آپریشن دونوں اطراف کے متعلقہ علاقوں میں مشترکہ طور پر کیا جائے گا اور اس سے قبائلی علاقوں میں ایک اور ناپسندیدہ صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ جنرل اورکزئی نے طے شدہ اقدام سے دور رہنے کا راستہ اختیار کیا اور اس کا نتیجہ ان کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کی صورت میں سامنے آیا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|