|
قرضہ معاف کرانے والوں سے ایک ایک پائی وصول کی جانی چاہیے

22-10-10, 07:51 PM
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ اگر بینکوں سے بھاری قرض لینے والے یہ قرضہ واپس نہیں کرتے تو ان کے اثاثے نیلام کرکے انہیں جیل بھیج دیا جائے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے روبرو سیف الرحمن سمیت 50 بڑے قرض معاف کرانے والوں کی فہرست پیش کی گئی تھی جسے دیکھ کر عدالت عظمیٰ نے سخت ناگواری کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے یہ نہ بتایا جائے کہ فلاں شخص 20 ہزار کا نادہندہ ہے بلکہ صرف یہ بتایا جائے کہ قرض واپس کیسے آئے گا۔
ایک ایسا ملک جو بیرونی قرضوں اور امدادوں پر چل رہا ہے اس میں ان گنت لوگوں نے بینکوں سے قرضے حاصل کیے اور پھر معاف کرالیے ' کتنی روح فرسا بات ہے اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے سمال بزنس فنانس کارپوریشن سے تین لاکھ یا اس سے بھی کم قرضہ حاصل کیا تھا وہ ان سے زبردستی وصول کیا گیا۔ لوگوں نے اپنے مکان بیچے ' بیوی کا زیور بیچا لیکن ان قرضوں کی ادائیگی کی جبکہ بڑے لوگوں نے کروڑوں کے حساب سے قرضے لیے اور اپنے تعلقات اور سیاسی اثرو رسوخ کا فائدہ اٹھا کر یہ قرضے معاف کرالیے۔
گویا پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں بیک وقت دو قانون ہیں۔ ایک غریبوں اور عام آدمی کے لئے اور دوسرا خواص کے لئے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تک یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار رہے گی اس وقت تک کون بدھو قانون کی حکمرانی کے نعروں پر یقین کرے گا۔ ہماری رائے میں سپریم کورٹ کے اس معاملے میں انتہائی سخت رویہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جن لوگوں کو ایسی حرکتیں کرتے وقت اپنے ملک کا خیال نہیں آیا ایسے لوگوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے۔ اس سزا کا پہلا مرحلہ یہ ہونا چاہیے کہ قرض کے بالمقابل ان کے اثاثے ضبط کیے جائیں اور پھر انہیں نیلام کر دیا جائے۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|