وفاقی وزیر 3 سال سے جھوٹ بول رہے ہیں‘ متحدہ ارکان،تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کر دی‘ پرویز اشرف
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) کراچی میں بجلی کے بحران پر قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور کہا گیا کہ کراچی کے عوام کے ساتھ انتہائی ناانصافی ہو رہی ہے ایم کیو ایم اراکین اور وفاقی وزیر پانی و بجلی میںجھڑپ بھی ہوگئی ایم کیو ایم ارکان نے کہا کہ وزیربجلی تین سال سے طفل تسلیاں دے کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ ایوان میں صدر نشین عبدالقادر پٹیل کی مداخلت سے طے ہوا کہ کے ای ایس سی کی انتظامیہ کے سینئر افسروں کو اسلام آباد بلاکر کراچی کے اراکین ساتھ ان کی میٹنگ کرائی جائے گی توجہ دلاﺅ نوٹس پر ایم کیو ایم کے اراکین نے کراچی میں بجلی کے بحران، زائد بلوں اور نرخوں میں اضافے کا مسئلہ اٹھایا۔ توجہ دلاﺅ نوٹس ڈاکٹر ندیم احسان، ساجد احمد، آصف حسنین اور خوش بخت شجاعت نے پیش کیا تھا۔ پرویز اشرف نے کہاکہ کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی گئی ہے گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بھی بجلی پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کے ارکان وفاقی وزیر کے رسمی بیان پر غصے میں آگئے اور انہوں نے کھڑے ہوکر احتجاج شروع کر دیا۔ ندیم احسان نے کہاکہ کے ای ایس سی ”بدمعاشی“ کر رہا ہے اس نے کراچی کے عوام پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ جو بل ادا نہیں کرے گا اس کی بجلی تو کٹے گی پھر شور کیسا؟ اس پر ایم کیو ایم کے وزیر نے وزیر پانی و بجلی کے خلاف بلند آواز سے احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ آصف حسنین نے کہاکہ آپ تین سال سے جھوٹ بول رہے ہیں کراچی کے عوام مر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ساجد احمد نے کہاکہ پنجاب کے مسترد شدہ بجلی میٹرز کراچی میں لگا دئیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ کراچی میں مسترد شدہ میٹر نہیں لگائے گئے جب میں ان کی سب باتیں سنتا ہوں تو انہیں بھی میری تقریر سننی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ گورنر ہاﺅس کراچی میں سب فیصلے ہوتے ہیں اور ایم کیو ایم وہاں شامل ہوتی ہے ایم کیو ایم ارکان نے کہاکہ فیصلوں پر عمل نہیں ہوتا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی