|
ق لیگ اور پیپلز پارٹی کی حمایت میں اسٹیبلشمنٹ دو دھڑوں میں تقسیم

17-12-07, 02:55 PM
اسلام آباد (طارق بٹ) تین بڑے انتخابی اتحادوں اے آر ڈی ، اے پی ڈی ایم اور ایم ایم اے کے خاتمے کے بعد بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جو انفرادی طور پر مکمل اتحاد کے ساتھ 8 جنوری کے الیکشن میں حصہ لینے جا رہی ہے۔ انتخابی اتحادوں کا خاتمہ ویسے ہی ہوا جیسے ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ تاہم اس وقت مسلم لیگ واضح طور پر دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے اور اسی طرح اسٹیبلشمنٹ میں بھی مختلف سوچ رکھنے والے دو گروپ وجود میں آئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا ایک بڑا حصہ مسلم لیگ (ق) کو سہارا دینا چاہتا ہے جبکہ دوسرا گروپ پیپلزپارٹی کے ساتھ نئے تعلقات استوار کرنے کا تجربہ کر رہا ہے۔ کسی حد تک پرجوش متحدہ مجلس عمل گزشتہ 5 برس سے گردش میں رہی اور اس اتحاد کی دو بڑی پارٹیوں میں بداعتمادی اور جھگڑے بھی ہوتے رہے۔ اب مختلف حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ یہ اتحاد توبس اب نام کی حد تک رہ گیا ہے۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ ایم ایم اے آمدہ انتخابات میں اگر 2002ء کے الیکشن سے بہتر کارکردگی نہ دکھا سکی تو کم از کم اتنا کچھ حاصل کرے گی جتنا اس نے سابقہ عام انتخابات میں کیا تھا۔ ایم ایم اے کے اتحاد میں دراڑیں جے یو آئی (ف) کو بھاری نقصان پہنچائیں گی۔ یہ جماعت اتنی حیثیت اور اہمیت رکھتی ہے کہ اتحاد سے باہر رہ کر بھی اس کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے۔ تاہم الیکشن کا بائیکاٹ کرنیوالی جماعتوں میں سے سب سے اہم جماعت اسلامی کے جانے سے جے یو آئی کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایم ایم اے اپنے قیام کے گزشتہ 5 برس میں کئی بار ٹوٹتے ٹوٹتے رہ گئی۔ اس کی وجہ سے اتحادی جماعتوں کے باہمی اختلافات تھے ۔ سب سے اہم بات مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کی پالیسیاں اور کردار تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ صدر پرویز کیلئے نرم گوشہ رکھا۔ جبکہ دوسری جانب قاضی حسین احمد ہیں جنہوں نے ہمیشہ صدر پرویز کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں مسلسل تنقید کے تیروں کی زد میں رکھا۔ جماعت کے چیف کو مولانا فضل الرحمن کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل مسائل کا سامنا رہا۔ وہ خود کو بے یارومددگار اور پریشان محسوس کرتے رہے۔ متحدہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تمام تحریکوں کے پنپنے میں مولانا فضل الرحمن رکاوٹ بنتے رہے۔ تاہم اب قاضی حسین احمد کو الیکشن کا بائیکاٹ کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ سے بدلہ لینے کا موقع ہاتھ آگیا۔ انتخابی تناظر میں یہ مولانا کیلئے بڑا دھچکا ہوگا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے بعض سینئر رہنما مولانا فضل الرحمن کو ایک قابل اعتماد اتحادی سمجھتے ہیں اور بڑی کشادہ دلی سے ان کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں جن کا مستقبل کے حکومتی سیٹ اپ وفاقی اور صوبہ سرحد میں اہم کردار اور حصہ ہوگا۔ جمہوریت کی بحالی کیلئے قائم 7 سال پرانے اتحاد اے آر ڈی کی فاتحہ بھی اس وقت پڑھ لی گئی جب صدر پرویز کے ساتھ بینظیر بھٹو کے خفیہ مذاکرات کا انکشاف ہوا اور پھرلندن میں اے پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی گئی۔ بعدازاں اے پی ڈی ایم بھی اس وقت خاتمے سے دوچار ہوگئی جب اس کی سب سے اہم جماعت مسلم لیگ (ن) نے الیکشن بائیکاٹ کے معاملے پر اپنا الگ موقف اپنایا۔ اب اے پی ڈی ایم کا حصہ باقی جماعتیں عوام میں اتنا اثرونفوذ نہیں رکھتی۔ انہیں وہ عوامی حمایت حاصل نہیں جو (ن) لیگ کو حاصل ہے اور یہی حمایت الیکشن پر اثر انداز ہوگی۔ جماعت اسلامی عمران خان اور محمود اچکزئی صرف اپنی سیٹوں کیلئے جدوجہد کرسکتے ہیں۔ اے پی ڈی ایم نے الیکشن کے بائیکاٹ کا ا علان کیا ہے۔ دوسری جانب ایم ایم اے کو انتخابی نشان کتاب ملنے پر بھی ایک تشویشناک جھگڑے نے جنم لیا ہے۔ یہی انتخابی نشان 2002ء کے الیکشن میں بھی انہیں الاٹ کیا گیا تھا۔ یہ مسئلہ قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن میں تنازع کا باعث ہے۔ قاصی حسین احمد نے کتاب کا انتخابی نشان لینے سے انکار کردیا جبکہ مولانا فضل الرحمن الائنس کے امیدوار کے طور پر کتاب انتخابی نشان پہلے ہی وصول کرچکے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کیخلاف کئی سال تک جدوجہد اور مزاحمت کرنیوالا اتحاد ایم آر ڈی نے 1985ء کے غیرجماعتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھااور بائیکاٹ کی وجہ سے سیاسی منظر عام سے غائب ہوگیا۔ ماضی میں نواز شریف کا بنایا گیا اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) نے 1988ء کا الیکشن لڑا ۔ تاہم پیپلزپارٹی کے جیتنے کے بعد سیاسی منظر سے گم ہوگیا۔ اس اتحاد نے بعد میں الیکشن لڑا اور وفاقی حکومت بنائی۔ نواز شریف اس کے وزیراعظم تھے۔ تاہم بعدازاں قاضی حسین احمدکی ایگریسو پالیسیوں کی وجہ سے قائم نہ رہ سکا۔ 1990ء کے انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی پی ڈی اے کے ساتھ شامل ہوگئی۔ اس میں ڈاکٹر طاہر القادری کی عوامی تحریک بھی شامل تھی۔ یہ اتحاد الیکشن ہار گیا۔ اس کے بعد پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر یہ اتحاد کہیں نظر نہ آیا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|