|
ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے منشور، دونوں ججوں کی بحالی کے مسئلے پر خاموش

12-12-07, 09:42 AM
اسلام آباد(حامد میر)مسلم لیگ (ق) نے کہا ہے کہ وہ طاقت کے اصول پر یقین نہیں رکھتی‘دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ پیغام پاکستان میں کسی شخص کیلئے نہیں ہے بلکہ 6 برسوں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اتحاد ی کیلئے ہے۔ مشرف کی حامی مسلم لیگ(ق) نے اپنے انتخابی منشور میں یہ ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے ان کی پارٹی کسی غیر ملکی طاقت سے ہدایات لینے پر یقین نہیں رکھتی۔ مسلم لیگ (ق) نے پیپلز پارٹی کے برعکس اپنے منشور میں ”روشن خیال“ اعتدال پسندی کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ق لیگ کے منشور کے مسودے کے پہلے صفحہ پر قرآن پاک کی 2 آیات کا حوالہ دیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے منشور پر ذوالفقار بھٹو کا قول شائع ہوا ہے۔ چند روز قبل جاری کئے گئے منشور میں پیپلز پارٹی نے صدر کے آئینی اختیارات پر حملہ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ(ق) نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کی ہے اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کی ڈاؤن سائزنگ کا وعدہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) پاکستان میں بیرونی دباؤ / اثرورسوخ کی ڈاؤن سائزنگ میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے مسلم لیگ(ق) کے منشور میں امریکا کیلئے بہت سے صدمات ہیں جو کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔ ق لیگ کے منشور کا انتہائی دلچسپ حصہ ڈیفنس (دفاع) کے بارے میں ہے۔ ق لیگ دفاعی قابلیت اور دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کی حامی ہے اور بیرونی مدد پر انحصار کم کرنے پر زور دیتی ہے (ق) لیگ نے اپنے منشور میں واضح طو رپر کہا ہے کہ ”پاکستان ایٹمی مسئلے پر کوئی دورخی پالیسی قبول نہیں کریگا اور اپنے ایٹمی پروگرام میں مداخلت برداشت کریگا نہ کسی غیر ملکی کو ایٹمی تنصیبات اور سائنسدانو ں تک رسائی دیگا“مسلم لیگ (ق) یہ سمجھتی ہے کہ کسی بیرونی طاقت کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا ہدایات دینے کا حق نہیں ہے اور پارٹی تمام بیرونی ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرے گی۔جب مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے یہ پوچھا گیا کہ ان کی حکومت نے بیرونی دباؤ پر ڈاکٹر عبدالقدیر کیخلاف کارروائی کی اور ان کو نظر بندکیوں کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر بالکل نظر بند نہیں ہے۔ سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے کہا کہ چوہدری صاحب نے حال ہی میں ڈاکٹر قدیر سے متعدد بار ملاقاتیں کی ہیں۔ مسلم لیگ (ق) یہ بھی سمجھتی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے کیونکہ دہشت گردی تمام انسانیت کی مشترکہ دشمن ہے اور پاکستان کسی بھی ہمسایے ملک کے خلاف اپنی سر زمین کو استعمال نہیں ہونے دیگا۔”مسلم لیگ چین ‘مسلم امہ اور مغرب سے دوستانہ تعلقات مضبوط کرے گی‘مسلم لیگ نے بین الاقوامی سیاست میں قانون کی حکمرانی کی حمایت کی اور کہا کہ ہم جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول کی مخالفت کرتے ہیں“ کیونکہ اس کا نتیجہ جنگل کے قانون کی صورت میں نکلتا ہے۔ پارٹی نے اپنے نئے منشور میں بہت سے حساس بین الاقوامی ایشوز کو چھیڑا ہے ق لیگ کے نزدیک کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے اور کشمیریوں کیلئے اقوام متحدہ کی قرارادادوں کے ذریعے استصواب رائے کے حق کی حمایت کی۔ پارٹی منشور میں کہا گیا کہ عراق جنگ غلط اور غیر قانونی ہے اور اس کا پر امن حل یہ ہے کہ بیرونی قبضہ ختم کر ایا جائے۔ مسلم لیگ (ق) نے ایسی آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔ افغانستان میں بیرونی طاقتوں کو مزاحمت کاروں سے مذاکرات کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں مقیم کچھ سفارتکاروں کا خیال ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ مشرف حامی جماعت طالبان کیلئے دہشت گرد یا عسکریت پسندوں کے بجائے سفارتی لب ولہجہ استعمال کر رہی ہے۔ پارٹی نے منشور میں آئی اے ای اے کی زیر نگرانی ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کے حق کی بھی حمایت کی ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی اپنے منشور میں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر کیاہے کہ لیکن عراق ‘فلسطین اور ایران کے ایٹمی پروگرام جیسے مسائل پر خاموشی اختیار کی ہے۔دونوں جماعتوں نے آزاد عدلیہ ‘ آزاد میڈیا اور خود مختار پارلیمنٹ کا وعدہ کیا ہے لیکن دونوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی پر خاموشی اختیار کی ہے۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقے دونوں پارٹیوں کے منشور کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں یہ حلقے اب مسلم لیگ ن کے منشور کا انتظار کر رہے ہیں ان حلقوں کے نزدیک بے نظیر اور چوہدری پرویزالٰہی وزارت عظمیٰ کے سنجیدہ امیدوار ہیں لیکن اگلی حکومت کے بنائے جانے یا توڑے جانے میں مسلم لیگ میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔ اس چیز کے امکانات ہیں کہ بے نظیر اور نواز شریف مل کر کوئی سیاسی لائحہ عمل طے کریں گے اور ق لیگ کو شکست دینے کیلئے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی کوئی راہ نکالیں گے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|