|
ق لیگ میں ججوں کی بحالی کی حمایت اور صدر سے دوری اختیار کر نے پر غور

14-04-08, 09:01 AM
ق لیگ میں ججوں کی بحالی کی حمایت اور صدر سے دوری اختیار کر نے پر غور
اسلام آباد (انصار عباسی )اپوزیشن میں ہونے کے باوجود کنگز پارٹی سمجھی جانے والی مسلم لیگ (ق)صدر پرویز سے دوری اختیار کرنے کیلئے ججوں کی بحالی سمیت کئی اہم فیصلے کرنے کے حوالے سے غور کر رہی ہے۔پارٹی میں صدر پرویز کے حامی عناصر بہت تیزی سے دم توڑتے جارہے ہیں اور پارٹی کے قومی و پنجاب اسمبلی کے ارکان کی خود کو ایوان صدر سے دور کرنے میں سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے کو ششیں بھی کر رہے ہیں ۔مسلم لیگ (ق)کے ایک با اثر رہنماء نے ”دی نیوز “ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”حالا نکہ ہم حز ب اختلاف میں لیکن ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ہم اس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا ہے جو کہ عموما حز ب اختلاف کے ساتھ روا نہیں رکھا جاتا“انہوں نے انکشاف کیا کہ گجرات کے چوہدریوں کے دلوں سے بھی صدر پرویز کی محبت میں کمی واقع ہو تی جارہی ہے۔چوہدریوں کے ایک خاندانی ذریعے نے اعتراف کیا کہ ق لیگ کی صدرات کی تبدیلی کی کوششوں نے نہ صرف چوہدری شجاعت بلکہ پرویز الہیٰ کو بھی مایوس کیا اور اب ان لوگوں یہ احساس ہو نے شروع ہو گیا ہے کہ سب سے اہم عہدے پر فائز شخص کی بھر پور حمایت کے صلے میں ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جا رہا ہے۔اگرچہ ق لیگ کے صدر کی تبدیلی کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں لیکن اس عمل نے صدر اور چوہدریوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پیدا کردی ہے۔لیکن یہ دونوں فریقین اب بھی رابطوں میں ہیں۔گذشتہ کئی ہفتوں بلکہ کئی مہینوں سے پس پردہ جو کچھ بھی ہوتا رہا لیکن اب ق لیگ کے ارکان پارلیمنٹ کی اکثیریت ایوان صدر سے تعلق ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ق لیگ ایک رہنما نے شکوہ کیا کہ جب ہم حکومت میں تھے تو ہمیں کنگز پارٹی کہاگیا لیکن اب جب کہ ایسا نہیں ہے لیکن پھر بھی نہ عوام اور نہ ہی میڈیا ہم کو حزب اختلاف ماننے پر تیار نظر نہیں آتے۔قابل اعتبار ذرائع نے کہا کہ جب تک ہم مکمل طور پر ایوان صدر سے مکمل علیحدگی اختیار نہیں کرتے ہمیں لوگوں کو اعتبار حاصل نہیں ہو گا اور صدر سے کسی بھی قسم کا رابطہ کے پارٹی کے سیاسی مستقبل کیلئے تباہ کن ثابت ہو گا۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ ق لیگ کے پنجاب اسمبلی کے ارکان میں سے بیشتر نے ایک اجلاس کے دوران ق لیگ اور صدر کے رابطوں کے حوالے سے کھل کر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔یہ ارکان پارٹی کی مسلم لیگ میں انضمام کے حق میں بھی نہیں ہیں بلکہ چاہتے کہ پارٹی کی اپنی الگ شناخت قائم کی جائے۔ پارٹی ذرائع نے اس بات کا اعتراف کیاکہ ایسا کرنے کیلئے پارٹی کو حقیقی حزب اختلاف ڈوبنے کا کردار ادا کرنا ہوگااور صدر کے نمائندگی ختم کرنا ہو گی۔چند لیگی رہنما ،جن میں گجرات کے چوہدریوں کے قریبی ساتھی بھی شامل ہیں ،عدلیہ کی 3نومبر سے قبل کی بحالی کے معاملے پر گفتگو کر رہے ہیں۔انہیں اس بات کا احسا س ہو گیا ہے کہ ججوں اور عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر سب متفق ہیں اور اس سے اختلاف سے پارٹی کو نقصان پہنچے گا۔ق لیگ کے ایک اہم رہنماء نے کہاکہ ”ماضی کی غلطیوں کے اعتراف اور ان پر معافی مانگنے کا یہی صحیح وقت ہے انہوں نے کہاکہ اب ججوں کی بحالی کے معاملے حکومت کی غیر مشروط حمایت کا اعلان بھی کیا جانا چاہئے “۔انہوں نے مزید کہا کہ پی پی اور ن لیگ کے درمیان اگر کوئی اختلاف پیدا ہونے کے نتیجے میں حکومت میں شامل ہونے کے حالات پیدا بھی ہوں تو بھی ق لیگ کو حزب اختلاف ہی میں رہنا چاہیے ۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|