|
ق لیگ کے اہم رہنماؤں کی ڈاکٹر قدیر سے ملاقات، حمایت پر کچھ رعایتیں مل سکتی ہیں

17-12-07, 02:53 PM
اسلام آباد (رؤف کلاسرا) اسلام آباد کی گھومتی سیاست میں مسلم لیگ (ق) کے اہم رہنماؤں کی نظر بند ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقاتوں سے دلفریبی پیدا ہو رہی ہے اور متعدد افراد اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو مسلم لیگ (ق) بینظیر بھٹو کے بیان کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔ اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اگر ڈاکٹر قدیر (ق) لیگ کے موقف کی حمایت کرنے پر راضی اور بینظیربھٹو کے بیان کی مذمت کرنے پر رضا مند ہو گئے تو ان کو آنے والے دنوں میں چند رعایتیں مل سکتی ہیں۔ ان کو نقل و حرکت کی محدود اجازت اور ان کے منجمد بنک اکاؤنٹس کھولے جا سکتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے انتخابات میں حصہ لینے کے غیر متوقع فیصلے نے (ق) لیگ کی مشکلات میں اضافہ کیا جس سے (ق) لیگ کی قیادت مجبور ہوئی کہ نئے انتخابی نعرے اپنائے جائیں اور بینظیر بھٹو کے غیر مقبول بیان نے ان کو ڈاکٹر قدیر کو استعمال کرنے کا نیا آئیڈیل دیا۔ ڈاکٹر قدیر پر دباؤ ڈالنے کیلئے سنیٹر ایس ایم ظفر کو استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ 80ء کی دہائی میں جب ڈاکٹر قدیر پر پاکستان پہنچنے سے قبل ایٹمی راز چرانے کے الزامات لگے تھے تو ایس ایم ظفر نے ان کا کیس کامیابی سے لڑا تھا۔ مسلم لیگ (ق) کے تین اہم رہنما چودھری شجاعت، مشاہد حسین اور ایس ایم ظفر جنہوں نے گذشتہ ہفتے ڈاکٹر قدیر کے گھر پر ان سے ملاقات کی اور ان کو ایک کتاب ”حمزہ نامہ کی کہانی“ بھی دی جس کا ترجمہ اشرف تھانوی کے پوتے نے کیا ہے۔ ڈاکٹر قدیر کو مسلم لیگ کے دور حکومت 2004ء میں نظر بند اور ان کی تذلیل کی گئی تھی بہر حال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس ملاقات کو ان سرکاری حکام کی سرپرستی بھی حاصل تھی یا نہیں جو سیاسی حمایت کے بدلے ڈاکٹر قدیر کو رعایتیں دے سکتے ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ ڈاکٹر قدیر سے اس ملاقات کی اجازت انہی اہم سیاسی قوتوں نے دی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ بات ماننے والی ہے کہ ڈاکٹر قدیر اپنے منجمد اکاؤنٹس کھلوانے میں دلچسپی ظاہر کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ذاتی آزادی پر بھی رضا مند ہو سکتے ہیں لیکن (ق) لیگ کیلئے کسی بھی سٹینڈ لینے کے بارے میں تاحال کوئی بات واضح نہیں۔ ذرائع نے مزید بتایاکہ متعلقہ قوتیں اگلی کسی بھی موومنٹ سے قبل ڈاکٹر قدیر سے ملاقات کے نتیجے کو مدنظر رکھیں گی۔ ذرائع کے مطابق 3 نومبر سے قبل یہ باتیں سنجیدہ طور پر کی جا رہی تھیں کہ ڈاکٹرقدیر معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کے پاس اپنی رہائی کیلئے درخواست دائر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کی برطرفی سے تمام منصوبے ترک کرناپڑے۔ ایک موقع پر اس وقت کے وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عطاء الرحمن ڈاکٹر قدیر کو ایسی درخواست دائر کرنے کے بارے تگ و دو کررہے تھے اس کے بدلے ڈاکٹر قدیر کو چند رعایتیں مثلاً کچھ رقم کی فراہمی اور کراچی میں اپنی بہن کے پاس دو ہفتوں کا قیام تھا لیکن ذرائع کے مطابق اب (ق) لیگ ڈاکٹر قدیر کی عوامی مقبولیت کو انتخابات میں استعمال کررہی ہے لیکن دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایم ظفر نے بتایا کہ ڈاکٹر قدیر سے ان کی ملاقات ذاتی تھی کیونکہ وہ ان کے پرانے دوست ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ شجاعت اور مشاہد وہاں کیا کر رہے تھے۔ ایس ایم ظفر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے ڈاکٹر قدیر کو ایک کتاب حمزہ نامہ تحفے میں دی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ملاقات ڈاکٹر قدیر سے سیاسی حمایت حاصل کرنے کیلئے تھی تو ایس ایم ظفر نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی، ڈاکٹر قدیر میرے ذاتی دوست ہیں اور ان کا سرکاری معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ جب ایس ایم ظفر سے پوچھا گیا کہ ڈاکٹر قدیر نے تین سالوں میں اپنی طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے بارے میں شکایت نہیں کی تو انہوں نے کہاکہ میں نے صرف ڈاکٹر قدیر کی روز مرہ زندگی کے بارے میں بات کی لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ یقینا کچھ ”ضروری مسائل“ بھی زیر بحث آئے لیکن انہوں نے اس کے بارے میں مزید نہیں بتایا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|