واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


لائن آف کنٹرول کے راستے تجارت’معطل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-06-11, 07:08 PM   #1
لائن آف کنٹرول کے راستے تجارت’معطل
ارشد کمبوہ ارشد کمبوہ آف لائن ہے 19-06-11, 07:08 PM

اکتوبر سنہ دو ہزار آٹھ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے زیرانتظام کشمیری خطوں کے مابین شروع کی گئی محدود تجارت ٹیکس نفاذ کے بعد معطل ہوگئی ہے۔
Name:  100402065207_pakistanloc.jpg
Views: 27
Size:  78.6 KB
تجارتی لین دین کے لیے اوڑی، مظفرآباد اور چکانداباغ، راولاکوٹ مراکز بنائے گئے تھے
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے تاجروں کا کہنا ہے ٹیکس کا نفاذ اس تجارت کی اصل روح کو مجروح کر رہا ہے اور اسی لیے انہوں نے احتجاجاً تجارتی سرگرمیاں روک دی ہیں۔

مقامی تجارتی انجمنوں کے اتحاد فیڈریشن چیمبر آف کامرس کشمیر کے جنرل سیکرٹری نذیر احمد شکاری کا کہنا ہے کہ مظفرآباد اور راولاکوٹ راستوں کو تجارت کے لیے کھولنے کا مقصد خالص تجارتی نہیں تھا۔

ان کے مطابق دونوں ملکوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تجارت انسانی بنیادوں پر شروع کی جا رہی ہے تاکہ دو کشمیروں میں منقسم لوگوں کے درمیان تجارتی اور تمدنی رابطے بحال ہوجائیں۔ ان کے مطابق ان رابطوں سے ہند پاک تعلقات بہتر بنانے اور مسئلہ کشمیر پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں بھی مدد مل جاتی۔

ہمیں تو کہا گیا تھا کہ اس راستے سے ہونے والی تجارت پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا لیکن اب جبکہ تجارت کا حجم بڑھ رہا ہے حکومت نے ٹیکس عائد کر دیا۔
نذیر شکاری

سرینگر میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’ہمیں تو کہا گیا تھا کہ اس راستے سے ہونے والی تجارت پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا لیکن اب جبکہ تجارت کا حجم بڑھ رہا ہے حکومت نے ٹیکس عائد کر دیا‘۔

ماہرین کا بھی کہنا ہے’ کیش لیس‘ یا بغیر کرنسی کے ہونیوالی تجارت پر ٹیکس عائد کرنا بحث طلب ہے۔

شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے معروف تاجر بشیر احمد کنرو کے مطابق’گوداموں میں مال خراب ہورہا ہے۔ پہلے ہی بہت پابندیاں تھیں۔ اشیا کی متفقہ فہرست میں اکیس آئٹم تھے جنہیں کم کر کے چودہ تک پہنچایا گیا ، لیکن اب لگتا ہے حکومت اس تجارت سے خوش نہیں‘۔

یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین کے لیے وادی میں اُوڑی اور جموں میں چکاندا باغ کے مقامات کو رابطے کے لیے کھولا گیا تھا۔

Name:  091229150333_loc_trading226.jpg
Views: 29
Size:  17.1 KB
’بارٹر سسٹم‘ کی طرز پر دونوں طرف کے تاجر اشیاء کا تبادلہ کرتے ہیں
اس تجارت میں سرمایہ کے لین دین کی اجازت نہیں بلکہ صدیوں پرانے ’بارٹر سسٹم‘ کی طرز پر دونوں طرف کے تاجر اشیاء کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہ تاجر ایک دوسرے کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ نہیں کرسکتے نہ ہی ایک دوسرے کے یہاں مارکیٹ سروے کے لیے آ جا سکتے ہیں۔

ہر ہفتے میں صرف دو روز کے لیے تجارت ہوتی ہے اور اس دوران سکیورٹی فورسز صبح دس بجے سے پہلے اور شام پانچ بجے کے بعد کسی لین دین کی اجازت نہیں دیتے۔

تاہم ان سبھی پابندیوں کے باوجود پچھلے ایک سو تیس روز میں اوڑی، مظفرآباد اور چکانداباغ، راولاکوٹ مراکز پر قریباً تین سو کروڑ روپے مالیت کی اشیا کا لین دین کیا گیا اور تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس راستے سے تجارت کو سرکاری حدبندیوں سے آزاد کیا جائے تو کشمیر کے دونوں خطوں کے درمیان چار ہزار کروڑ کا کاروبار ہوسکتا ہے۔

گوداموں میں مال خراب ہورہا ہے۔ پہلے ہی بہت پابندیاں تھیں۔ اشیا کی متفقہ فہرست میں اکیس آئٹم تھے جنہیں کم کر کے چودہ تک پہنچایا گیا ، لیکن اب لگتا ہے حکومت اس تجارت سے خوش نہیں۔

بشیر احمد کنرو

تاجر برادری چاہتی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے اگلے مجوزہ دور میں ایل او سی تجارت کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے لیکن ایف سی آئی کے رہنما نذیر احمد شکاری کہتے ہیں کہ ’ہمیں کوئی امید نہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’چند ماہ قبل کشمیر کے دونوں منقسم خطوں کے تاجروں نے جب ایک مشترکہ چیمبر قائم کیا تو کچھ امید پیدا ہوگئی، لیکن جس انداز سے حکومت ہند اس تجارت کو درپیش مشکلات کو نظرانداز کر رہی ہے، لگتا ہے دونوں ملکوں کے درمیان ابھی اعتماد پیدا نہیں ہو پایا ہے‘۔


خبر

__________________
بیاض کمبوہ پڑھنے کے لیے ایڈریس بار میں ٹائپ کریں،
biazekamboh.co.cc
شکریہ والسلام

 
ارشد کمبوہ's Avatar
ارشد کمبوہ
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 102
Reply With Quote
ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (19-06-11)
پرانا 19-06-11, 11:55 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,226
شکریہ: 25,210
16,394 مراسلہ میں 41,641 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے کہ جب تک تجارت کا یہ عمل شفاف بنیادوں پر نہیں ہوتا تب تک پاکستان کے لیے سراسر نقصان دہ ہے۔ اگرچہ یہ کشمیر کے دو حصوں کی آپس میں تجارت ہے لیکن انڈیا غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔

انڈیا اور اس طرح کے کسی بھی ملک کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے بغیر تجارت پاکستانی منڈی کی تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بڑے ممالک ہر لحاظ سے بڑے ہوتے ہیں، وہ یہاں سے اپنے کام کی چیزیں بڑے مقدار میں منگوالیتے ہیں اور ہمیں ناکارہ چیزیں بھیجتے ہیں۔
اور ہمارے منڈیوں سے اشیاء ضروریہ مارکیٹ سے زیادہ دام دے کر خرید لیتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے ملک میں قلت پیدا ہو جاتی ہے، اور پھر وہی چیزیں دوگنے داموں فروخت کرتے ہیں۔
گزشتہ سال پیاز جب 100 روپے کلو بھی نہیں مل رہا تھا اس کے اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ بھی تھا ۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, india, trade, ہے۔, کنٹرول, گئی, پہلے, پاکستان, مقصد, مطابق, آزاد, انداز, اردو, جائے, خوش, خبر, درپیش, شام, شروع, ضلع, طلب, عائد, صبح, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وکی لیکس کا بم پھٹ گیا ، آہستہ آہستہ سفارتی تباہی شروع ، پہلا نشانہ سعودی عرب بنا جاویداسد خبریں 10 29-11-10 07:51 PM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ عادل سہیل اسلامی عقیدہ 1 23-06-10 05:13 PM
پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع راجہ اکرام سیاست 3 27-01-10 12:41 AM
پالکی / ڈولی کلچر جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں وجدان عمومی بحث 2 04-07-08 03:00 PM
شریف برادران کے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آنے پر لاہور میں ان کے استقبال کاروٹ جاری کردیا گیا،نواز شریف اور شہباز شریف مسجد شہد پاکستانی خبریں 1 09-09-07 09:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger