ہندوستان کی ریاست اتراکھنڈ کے شہر دہرادون میں ایک انجینئر نے اپنی بیوی کو قتل کر کے اس کی لاش کے ٹکڑے کیے اور ان ٹکڑوں کو بیس دن فریج میں رکھا ۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔
پیشے سے سافٹ وئیر انجینئر 38 سالہ راجیش گلاٹی نے سترہ اکتوبر کی رات اپنی بیوی کا قتل کیا تھا۔
پولیس کے مطابق دونوں کا کسی بات پر جھگڑا ہوا اور راجیش نے اپنی بیوی انوپما کی پٹائی کی جس کی وجہ سے انوپما نیچے گر گئی اور اس کو چوٹ لگ گئی۔ راجیش نے اسکا منھ تب تک تکیہ سے دبائے رکھا جب تک انوپما نے دم نہیں توڑ دیا۔
اس کے بعد راجیش نے اگلے دن بازار سے ڈیپ فریزر خریدا اور لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے انہیں فریزر میں ڈالتا رہا۔
راجیش اور انوپما کے ساڑھے چار برس کے دو جڑواں بچے ہیں جنہیں راجیش یہ بتاتا رہا کہ ان کی ماں دلی گئی ہوئی ہے۔ وہ گھر کا کھانا بناتا اور بچوں کو سکول بھی بھیجتا۔ انوپما کے گھروالوں سے وہ انوپما کے ای میل سے خیریت کے خط لکھتا رہا۔ .
دہرادون کے ایس ایس پی جی ایس مارتولیا نے بتایا کہ انوپما کے گھروالوں سے انوپما سے فون پر بات کرانے کی بات کو راجیش کچھ دن تک ٹالتا رہا لیکن پھر انوپما کے بھائی کو شک ہوا اور وہ اپنی بہن سے ملنے دہرادون چلا آیا۔ اتوار کو جب وہ راجیش کے گھر پہنچا تو اس نے اپنی بہن کو گھر پر نہ پا کر پولیس کو گمشدگی کی رپورٹ لکھوائی۔ پولیس نے راجش کو پولیس سٹیشن بلایا جہاں راجیش نے اپنے جرم کا اعتراف کیا'۔
راجیش نے اس قتل کے بارے میں بتایا کہ ’میری بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوتا رہتا تھا۔ وہ پیسے مانگتی رہتی تھی۔ بچوں کی بھی دیکھ بھال نہیں کرتی ہے۔ اس دن میرا جھگڑا ہوا، میں نے اس کو مارا اور اسکے بعد اس کے منھ سے خون نکلنے لگا تو میں نے اس کا منھ تکیہ سے دبا دیا۔ وہ مر گئی میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا اور میں نے اس کے جسم کے ٹکڑے کر دیے۔
انوپما کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ راجیش اور انوپما نے لو میریج کی تھی۔