|
لبرل اور جمہوری قوّتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں، الطاف حسین

22-10-07, 06:45 PM
لبرل اور جمہوری قوّتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں، الطاف حسین
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کے عمل کے خلاف ہے اور وہ عدم تشدد، پُر امن اور جمہوری طریقے سے جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ ایم کیو ایم پوری دنیا میں امن و شانتی چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم جنگ و جدل کے خلاف ہے اور ممالک کے درمیان اختلافات کو جنگ و جدل کے بجائے مذاکرات، بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے اور پاکستان کے تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی تمام پروگریسو، لبرل اور جمہوری قوتیں پاکستان کو بچانے کی خاطر اپنے اختلافات ختم کر کے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں اور ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں۔ الطاف حسین نے ان خیالات کا اظہار ساؤتھ افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں ایم کیو ایم ساؤتھ افریقا یونٹ کے زیر اہتمام منعقد کئے جانے والے ایک بڑے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس اجتماع میں ساؤتھ افریقا کے مختلف شہروں سے آنے والے ایم کیو ایم کے کارکنوں، جوہانسبرگ میں آباد پاکستانیوں اور دیگر ایشیائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں نوجوانوں، بزرگوں، خواتین کے علاوہ مقامی باشندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں ساؤتھ افریقا کی حکمران جماعت کے افریقن نیشنل کانگریس اور دیگر مقامی سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماء و کارکنان بھی شامل تھے۔ اجتماع سے اپنے اہم خطاب میں الطاف حسین نے 18 اکتوبر کو کراچی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی استقبالیہ ریلی میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے، پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات، ایم کیو ایم کے منشور و مقاصد اور اس کی داخلی و خارجہ پالیسی پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم 18 اکتوبر کو بے نظیر بھٹو کی کراچی آمد پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس خودکش حملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے اور اس کے ذمہ داروں اور اس کی پلاننگ کرنے والے افراد کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کی اور ان کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان اس وقت چاروں طرف سے شدید اندرونی و بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے، ملک میں تسلسل کے ساتھ خودکش حملے ہو رہے ہیں اور بعض عناصر مذہب اسلام کی غلط تشریح کر کے اس کے امیج کو خراب کر رہے ہیں اور اسلام کو دنیا بھر میں بدنام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایسے عناصر کی مخالف ہے کیونکہ اسلام جنگ کا نہیں بلکہ امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ ایم کیو ایم کے منشور و مقاصد اور پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں صحیح جمہوریت اور ایسا منصفانہ نظام قائم کرنا چاہتی ہے جہاں ہر شہری کو زندگی کے ہر شعبے میں رنگ، نسل، زبان، جنس، مسلک، فقہ حتیٰ کہ مذہب کے امتیاز کے بغیر یکساں حقوق حاصل ہوں اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا ہو۔ ایم کیو ایم ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کے عمل کے خلاف ہے اور وہ عدم تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے پُر امن اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم کرنا چاہتی ہے اور غریب و متوسط طبقہ کو ان کے حقوق دلانا چاہتی ہے جو گزشتہ 60 برسوں سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ایم کیو ایم کی خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کسی بھی ملک کی جانب سے کسی دوسرے ملک پر ہر قسم کی جارحیت کے خلاف ہے۔ ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ کسی بھی طاقتور ملک کو کسی کمزور قوم یا ملک پر حملہ کرنے اور قبضہ کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ ہر ملک کو دوسرے ملک کی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کا احترام کرنا چاہئے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|