واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


لفظ ”زرداری“ صدر مملکت کےلئے اشتعال انگیز لفظ بن کر رہ گیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-12-10, 06:21 AM   #1
لفظ ”زرداری“ صدر مملکت کےلئے اشتعال انگیز لفظ بن کر رہ گیا
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 26-12-10, 06:21 AM

خطاب میں انہوں نے شرکاءسے کہا کہ آئندہ زرداری سب پہ بھاری کا نعرہ نہیں لگے گا
الطاف حسین نے عوام کے مسائل کی بات کی، نواز شریف کو آنےوالی مشکلات کا اندازہ نہیں
تجزیہ : .... شاہین صہبائی
دبئی .... یہ سندھ کےلئے ایک تاریخی دن تھا کیونکہ فاتحین اور شکست خوردہ لوگوں کی نشاندہی ہوگئی۔ آج تک جس جماعت، ایم کیو ایم کو شہری جماعت کہا جاتا تھا، اسی جماعت الطاف حسین کی ایم کیو ایم نے سندھ کے مرکز یعنی بھٹ شاہ میں پیپلز پارٹی کو جھٹکا دیدیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے سیاسی خطاب کرنے کےلئے ایم کیو ایم کے گڑھ کا انتخاب کیا۔ اس خطاب میں سیاسی اسکور حاصل کرنے سے زیادہ کئی اعترافات کئے گئے۔ سب سے بڑا اعتراف یہ تھا کہ وہ زرداری نواز نعرے استعمال کرنے کی بجائے بھٹو کا نام استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ایک زرداری سب پہ بھاری“ کا نعرہ مزید نہیں ہوگا۔ صرف ”جیئے بھٹو“ ہوگا۔ ان کےلئے بھی یہ لفظ زرداری ایک ممنوع لفظ یا پھر اشتعال انگیز لفظ بن چکا ہے۔ الطاف حسین کا سندھیوں اور دیگر قومیت کے لوگوں نے بھرپور استقبال کیا اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے زرداری کے ساتھیوں بالخصوص ذوالفقار مرزا اینڈ کمپنی کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کررکھا ہے۔ سندھ کی سیاست میں یہ ایک زبردست تبدیلی ہے کہ سندھیوں کے سوچنے کا طرز تبدیل ہو رہا ہے اور وہ ایم کیو ایم کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ وہ ذوالفقار مرزا اینڈ کمپنی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرسکیں کیونکہ یہ لوگ سندھ کو جنگجو سرداروں کی طرح چلا رہے ہیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ ایسے لوگوں کی سندھ کی دھرتی پر گھسیٹا جائے گا اور میں ان لوگوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر جیل بھیج کر سندھ کو بچاﺅں گا۔ زرداری صاحب نے جذباتی الفاظ کے استعمال پر اکتفا کیا: .... ” ہم سرخیوں نہیں بلکہ تاریخ کو دیکھتے ہیں“؛ ”ہم ٹی وی پر بیٹھے سیاسی اداکار نہیں بلکہ عمل کرنے والے ہیں“؛ ” جس حال میں ہمیں پاکستان ملا ہم اس سے بہتر پاکستان چھوڑ جائیں گے“؛ یہ سب ایسے وعدے تھے جن پر وہ مستقبل میں عمل کرنے کا کہہ رہے ہیں؛ یہ نہیں بتا رہے کہ گزشتہ تین سال میں انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ زرداری صاحب ”الیکشن موڈ“ میں آ رہے ہیں جہاں بھٹو کا نعرہ تو کام آسکتا ہے لیکن زرداری کا نہیں۔ الطاف حسین نے بار بار یہ سوال کیا کہ کیا ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت چھوڑ دے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کہا جاتا ہے کہ اگر الگ ہوئے تو سندھی مہاجر جھگڑا ہوگا۔ لیکن عوامی اجتماع سے عملاً یہ ظاہر ہوا سندھی اور مہاجر ساتھ ساتھ تھے اور اس وقت وہی نعرے لگا رہے تھے جب الطاف حسین زرداری صاحب اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بول رہے تھے۔ اجتماع میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ اتحادی حکومت چھوڑنے پر اگر ایم کیو ایم پر حملہ کیا گیا تو ایم کیو ایم کا ساتھ دیا جائے گا۔ زرداری صاحب نے شرکاءکو خوش کرنے کےلئے کمزور مالی اعلانات پر انحصار کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تمام ملازمین کو ریگولر کیا جائے گا اور انہیں گھر فراہم کیا جائےگا۔ یہ ایک ایسی بات تھی جس سے ملک کے اندر اور باہر کوئی بھی سنجیدہ مالیاتی ادارہ خوفزدہ ہوجائے گا۔ زرداری صاحب کے خزانہ اور اقتصادی ماہرین اپنے صدر کی فیصلہ سازی کا انداز دیکھ کر حیران ہو رہے ہوں گے کیونکہ پی آئی اے پہلے ہی انتہائی حد تک مشکلات میں گھری ہوئی ہے، اس کا دیوالیہ نکل رہا ہے اور نقصانات ہو رہے ہیں اور ایسے قریب المرگ ادارے پر مزید اور غیر معمولی بوجھ ڈالنا عقلمندی نہیں ہے۔ الطاف حسین نے اہم ترین مسائل پر بات کی اور وہ موقف اختیار کیا جو عوام میں پایا جاتا ہے۔ انہوں نے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا، ریفارمڈ جی ایس ٹی کےلئے انکار کیا، آئی ایس آئی چیف کو امریکا حوالے کرنے کے معاملے پر جذباتی ہوگئے، زراعت اور جاگیرداروں پر ٹیکس کی بات کی، مہنگائی پر بات کی، فرانسیسی انقلاب کا ذکر کیا اور پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے بھیڑیوں کے سامنے ڈالنے کا ذمہ دار آصف زرداری کو قرار دیا۔ زرداری صاحب نے ”تخت لاہور“ یا پنجابیوں کی جانب سے انہیں جیل میں ڈالنے کا ذکر کیا یا پھر یہ کہہ لیں کہ انہوں نے سندھ کارڈ کا استعمال کیا۔ انہوں نے بھٹو خاندان کے کارناموں کا تو ذکر کیا لیکن اپنے نہیں۔ انہوں نے اپنے دشمنوں کا ذکر کیا جن میں سے کچھ باہر اور کچھ ان کی اپنی آستین میں چھپے ہیں۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب کے اختتام میں ”جیئے پاکستان جیئے سندھ“ کہا۔ زرداری صاحب نے ”جیئے بھٹو“ کے ساتھ اپنا خطاب ختم کیا۔ ڈوبتے ہوئے حکومتی اتحاد کو مصنوعی طور پر چاہے کتنا ہی کھینچ لیا جائے لیکن اس کے دونوں رہنماﺅں کی سیاست کا انداز قابل غور ہے۔ بظاہر الطاف حسین اعلیٰ ساکھ کے حامل ہوگئے ہیں کیونکہ ذوالفقار مرزا اینڈ کمپنی نے زرداری صاحب اور پیپلز پارٹی کی ساکھ کو انتہائی کم ترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ لیکن زرداری صاحب نے سیاست میں جس ساکھ پر قائم رہنے کا طے کیا ہے وہ انتہائی کم ترین سطح پر ہے۔ ایک نمایاں کالم نگار نے اپنے ایک حالیہ کالم میں لکھا تھا کہ انہوں نے زرداری صاحب کے خطاب میں لفظ ”کرپشن“ کا کبھی کوئی ذکر نہیں سنا۔ موجودہ حکمرانوں کےلئے انسداد بدعنوانی یا پھر احتساب کا مطلب یہ ہے کہ دونوں سے کس طرح جان چھڑائی جائے اور ان کا خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان کے منظر نامے کا بدقسمت حصہ یہ ہے کہ ہر کھلاڑی کسی نہ کسی غلط کام میں ملوث ہے۔ اسٹیبلشمنٹ واضح طور پر سمجھتی ہے کہ جس طرح پیپلز پارٹی ہر چیز تباہ کر رہی ہے، اسے کم وقت میں نہیں بچایا جا سکتا، لیکن اس کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ فاٹا، پاٹا اور اب بلوچستان نے ان کے ہاتھ ایسے معاملات میں الجھا دیئے ہیں کہ ان کے پاس سیاسی لٹیروں پر نظر رکھنے کا وقت نہیں ہے۔ میاں نواز شریف کی زیر قیادت اپوزیشن کنفیوژن کا شکار ہے؛ یہ لوگ اقتدار میں ہیںاور فوج سے ڈرے ہوئے ہیں لیکن ادارے کی تباہی پر آنکھیں بند رکھے ہوئے ہیں۔ وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ سیاسی نظام خود کو درست نہیں کرسکتا۔ اگر سیاست دان خرابی کو نہیں روک سکتے تو کسی نہ کسی کو کرنا پڑے گی۔ کچھ نہ کرکے نواز شریف دوسروں کو کچھ کرنےکا موقع دے رہے ہیں۔ اسی بات کا انہیں خطرہ ہے لیکن وہ یہی بات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ میاں نواز شریف فوج کے ساتھ جس نئے تنازع میں پڑ گئے ہیں وہ شاہ زین بگٹی کی گرفتاری کا معاملہ ہے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ اس کیس میں بلوچستان حکومت کو کارروائی کرنا چاہئے۔ سیاسی لحاظ سے یہ بات درست ہوسکتی ہے لیکن لگتا ہے کہ خیالی مملکت میں رہتے ہیں۔ شاہ زین بگٹی کو براہِ راست فوجی احکامات پر گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ جوہتھیار برآمد کئے گئے ہیں، یا پھر جیسا کہ بگٹی کا دعویٰ ہے کہ انہیں وہاں رکھا گیا ہے، وہ سب بھارتی نوعیت کے ہیں۔ میرے ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف پر میڈیا میں ایسے سابق فوجیوں کا حملہ ہونےوالا ہے جو ابھی تک راولپنڈی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان پر مشرف بھی حملے کرسکتے ہیں۔ ہر چھوٹے کھلاڑی کا ایک دن ہوتا ہے اور وہ موقع ملنے پر فائدہ اٹھاتا ہے۔ لیکن جب پردہ گرتا ہے تو یہ لوگ دوسرے راستے تلاش کرتے ہیں اور موجودہ اچھل کود اور بین الجماعتی مذاکرات و بات چیت کچھ نہیں ہوتی بلکہ یہ معلوم کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ میں نے حال ہی میں لکھا تھا کہ زرداری کی بے قابو ریل گاڑی روکنے کےلئے ریفارمڈ جی ایس ٹی ایک پس پردہ رکاوٹ ہے۔ اگر آر جی ایس ٹی منظور ہوجاتا اور آئی ایم ایف پروگرام واپس اپنے ٹریک پر آجاتا تو پوری توجہ سیاسی تبدیلی پر مرکوز ہوتی۔ زرداری صاحب نے بڑی چالاکی کے ساتھ آر جی ایس ٹی کارڈ کا استعمال کیا اور انہوں نے اس کا اس طرح استعمال کیا کہ ایک طرف وہ آئی ایم ایف اور امریکا کی نظروں میں ا چھے ہوجائیں تو دوسری طرف یہ بل منظور نہ ہوسکے۔ اب انہوں نے 9 مہینوں کی توسیع لے لی ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ کم از کم اس عرصے کےلئے سیاسی تبدیلی رک گئی ہے۔ لہٰذا اب وہ دوبارہ جیئے بھٹو ٹریک پر آگئے ہیں اور اپنے حامیوں کو ایک ایسے موقع پر اربوں روپے کی مراعات کی پیشکش کر رہے ہیں جب خزانے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن میاں نواز شریف کے سوا مولانا فضل الرحمن، چوہدری شجاعت حسین، الطاف حسین، عمران خان اور دیگر تمام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زرداری کی ریل گاڑی کو اب رکنا چاہئے۔ اب صرف میاں نواز شریف کو منانا ضروری ہے اور میں حال ہی میں اس وقت حیران رہ گیا جب ایک باخبر شخص نے بتایا کہ نواز شریف سے مقتدر حلقوں نے ”متعدد مرتبہ“ رابطہ کیا ہے لیکن وہ مشرف فوبیا میں مبتلا ہیں۔ یہ حلقے سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر نواز شریف اٹھ کھڑے نہیں ہوتے اور زرداری کی ریل گاڑی کو روکنے کےلئے کوئی سیاسی آپشن نہیں چھوڑتے تو ایسی صورت میں اگر کوئی غیر سیاسی اقدام ہوا تو اس کے ذمہ دار صرف نواز شریف ہوں گے۔ ایسی صورت میں نئے آنے والے سیٹ اپ میں شہباز شریف ”اچھا بچہ“ ہوں گے اور زرداری اور نواز شریف کے ساتھ یکساں برتاﺅ ہوگا۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 195
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-12-10), ھارون اعظم (26-12-10), نیلم خان (26-12-10), شمشاد احمد (26-12-10), عبدالقدوس (26-12-10)
پرانا 26-12-10, 09:08 PM   #2
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,381
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھیا اتنا لمبا ایک ہی پیرا گراف پڑھا نہیں‌جاتا
اتنی لمبی تحریر کو کئی پیرا گرافس میں تقسیم کر دیا کریں۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-12-10), نیلم خان (26-12-10), شمشاد احمد (26-12-10)
پرانا 26-12-10, 09:28 PM   #3
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,126
شکریہ: 25,577
10,451 مراسلہ میں 38,592 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
بھیا اتنا لمبا ایک ہی پیرا گراف پڑھا نہیں‌جاتا
اتنی لمبی تحریر کو کئی پیرا گرافس میں تقسیم کر دیا کریں۔
آپ کی بات سے ع متفق ہوں ۔
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-12-10)
پرانا 26-12-10, 11:07 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,630
کمائي: 29,416
شکریہ: 7,138
2,967 مراسلہ میں 8,763 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک زرداری ، سب پر بھاری ؟؟؟؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-12-10)
پرانا 27-12-10, 12:54 AM   #5
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,774
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ ایک اچھا تجزیہ ہے!!!!

شئیرنگ کا شکریہ!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-12-10, 02:38 AM   #6
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,075
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
بھیا اتنا لمبا ایک ہی پیرا گراف پڑھا نہیں‌جاتا
اتنی لمبی تحریر کو کئی پیرا گرافس میں تقسیم کر دیا کریں۔
بھائی خبر اسی طرز پر ہوتی ہے اس میں پیراگراف نہیں ہوتے، بہت کم ایسی خبریں ہوتی ہیں جس میں پیراگراف ہوتے ہیں، مثلآ کسی تقریب کی اگر جھلکیاں شائع کی جائیں تو وہ پیراگراف کی صورت میں ہوگی یا ایسی خبر جس میں مختلف موضوعات ہوں وہاں پیراگراف بنائے جاتے ہیں۔
گلاب خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کارڈ, پاکستان, نواز شریف, مہنگائی, موجودہ, مسائل, معلوم, آج, آصف زرداری, اعلیٰ, تلاش, جیل, حال, خوش, خلاف, ذوالفقار, راستہ, زرداری, سیاست, سال, شخص, علی, عمران, عمران خان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اللہ تعالٰی کی حیرت انگیز فارمیسی یاسر عمران مرزا شعبہ طب 26 15-12-10 08:25 PM
ایپل نے چھوٹے سایز کا کمپیوٹر متعارف کرا دیا عدنان دانی دلچسپ اور عجیب 7 20-09-10 04:03 PM
بنداِ ناچیز کا تعارف helpfull تعارف 14 14-09-10 07:29 PM
بیت اللہ محسود نے وزیرستان اور دیگر علاقوں میں اشتعال انگیز کارروائیوں پر عبدالقدوس خبریں 0 24-04-08 01:51 PM
اس ناچیز کا تعارف TapalDanaDar تعارف 9 24-12-07 09:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:17 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger