|
لیبیا: باغی طرابلس میں داخل ہوگئے، فوجی اڈے پر کنٹرول، گلی کوچوں میں لڑائی، 376 افراد ہلاک

22-08-11, 03:18 AM
1000 سے زائد زخمی، دارالحکومت فائرنگ اور دھماکوں سے گونج اٹھا، زمینی و فضائی رابطہ منقطع، حملہ آوروں کو مار بھگایا ، حکومتی ترجمان کا دعویٰ، قذافی نے بغاوت کو چوہوں کی کوشش قرار دےدیا
لیبیائی حکومت ہماری آنکھوں کے سامنے لڑکھڑا رہی ہے ، نیٹو؛ اقتدار ختم کردینگے، باغی رہنما ؛ معمر کے دن گنے جاچکے ہیں ، وائٹ ہاوس؛ ہتھیار ڈالیں گے نہ طرابلس چھوڑ کر جائینگے، سیف الاسلام
طرابلس (ایجنسیاں ، جنگ نیوز) لیبیا کے باغی البریقہ، زیلتان اور الزاویہ پر قبضے کے بعد مصراتہ سے سمندر کے ذریعے دارالحکومت طرابلس میں داخل ہوگئے اور شہرکے اہم قصبے تاجورہ پر قبضہ کرکے فوجی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا، باغیوں نے اسلحہ بارود قبضہ میں لے لیا،صدارتی گارڈز نے ہتھیار ڈال دیئے۔دارالحکومت کا زمینی اور فضائی رابطہ ملک کے دیگر علاقوں سے منقطع کردیا، گلی کوچوں میں جاری جنگ میں فریقین کے 376 افراد ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہوگئے، طرابلس فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا ۔ دوسری جانب برسلز سے جاری بیان میں نیٹو نے کہا ہے کہ معمر قذافی کی حکومت ہماری آنکھوں کے سامنے لڑکھڑا رہی ہے جبکہ سابق لیبیائی وزیراعظم اور باغیوں کے رہنما نے کہا ہے کہ 10 دن میں معمر قذافی کے اقتدار کو ختم کردیں گے ۔ تاہم مشکلات میں گھری قذافی حکومت نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے باغیوں کو کچلنے کا عزم کیا ۔ قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے سرکاری ٹی وی پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ باغی کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے ، ہم ہتھیار ڈالیں گے نہ دارالحکومت طرابلس چھوڑ کر جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کبھی نہیں ہوگا کہ ہم نے سفید جھنڈا لہرا دیا۔ ادھر وائٹ ہاوس نے کہا کہ کئی دہائیوں سے برسراقتدار معمر قذافی کے دن گنے جاچکے ہیں ، لیبیائی حکومت جلد تبدیلی دیکھیں گے۔ دریں اثناءتیونس نے لیبیا کے باغیوں کی عملداری کو تسلیم کرلیا ہے۔ادھر امریکا کے نائب وزیر خارجہ نے باغیوں کے گڑھ بن غازی کا دورہ کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق باغیوں نے دارالحکومت کے اہم قصبے تاجورہ پر قبضہ کرلیااور طرابلس کے فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جس سے زمینی رابطے کے علاوہ اب طرابلس کا دیگر شہروں سے فضائی رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔ رائٹرز کے مطابق تاجورہ میں شدید لڑائی جاری ہے اورہفتہ کی صبح سے اتوار کی رات تک 376 افراد ہلاک اور 1000 سے زائد لوگ زخمی ہوگئے ہیں جن میں سرکاری فورسز کے اہلکار اور عام شہری بھی شامل ہیں۔ طرابلس کے رہائشیوں نے خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ دارالحکومت کے مضافات میں لڑائی جاری ہے اور واضح طور پر دو طرفہ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق رات بھر نواحی علاقوں میں شدید فائرنگ جاری رہی، جو ابھی تک وقفے وقفے سے جاری ہے۔دارالحکومت طرابلس میں معمر قذافی کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں پر بن غازی اورملک کے متعدد شہروں کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک تیونس کے دارالحکومت میں بھی جشن کا سماں ہے اور لوگ معمرقذافی کی حکومت کی مشکلات پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ ادھریہ بھی اطلاعات ہیں کہ معمرقذافی ملک سے فرارہوگئے ہیں تاہم لیبیا کے وزیر اطلاعات ابراہیم موسیٰ نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا کے رہنما قذافی ہی رہیں گے اور دارالحکومت طرابلس محفوظ ہے۔ ادھرلیبیاکے رہنما معمر قذافی نے ایک آڈیو پیغام میں حکومت مخالفین کو چوہے قرارد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو ماربھگادیاگیا اور بہت سوں کا خاتمہ کردیاہے۔انہوں نے فرانس پرالزام لگایا ہے کہ وہ لیبیاکاتیل چوری کرنا چاہتا ہے۔ کرنل معمر قذافی کی جانب سے دارالحکومت کے شہریوں میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں شہریوں کو باغیوں کے خلاف اسلحہ لے کر میدان میں آنے کا کہا گیا ہے۔ دریں اثناءمعمر قذافی کے منحرف ہو جانے والے قریبی ساتھی اور سابق وزیراعظم عبدالسلام جلود روم میں ایک ٹی وی چینل پر نمودار ہوئے اوراپنے پیغام میں طرابلس کی عوام سے اپیل کی کہ وہ معمر قذافی کی مطلق العنانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ادھرمعمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے سرکاری ٹی وی پرنیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ باغی کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے،انہوں نے کہا کہ یہ کبھی نہیں ہوگا کہ ہم نے ہتھیار ڈال دیے اور سفید جھنڈا لہرا دیا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
Last edited by گلاب خان; 22-08-11 at 03:28 AM..
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|