| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 120
|
||||
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-08-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,075
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد دارالحکومت طرابلس میں کئی مقامات پر جشن منایا جارہا ہے چھ ماہ کی بغاوت رنگ لے آئی ہے اور معمر قذافی کی مخالف قوتیں دارالحکومت طرابلس میں داخل ہوگئی ہیں۔ لڑائی ابھی جاری ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کرنل قذافی کا اکتالیس سالہ دور اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ کرنل معمر قذافی پر الزام ہے کہ انہوں نے انیس سو انہتر سے ملک میں آہنی گرفت رکھی ہوئی ہے۔ طلبا کو جبراً ان کی ہری کتاب میں درج سیاسی نظریات پڑھائے جاتے تھے۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی تھی اور ان کے ناقدین پر تشدد کیا جاتا، انہیں قید یا پھر بعض اوقات قتل کر دیا جاتا تھا۔ لیبیا کے ہمسایہ ممالک جیسے کہ تیونس اور مصر میں حکمرانوں کی تبدیلی کے بعد یہاں بھی لیبیائی باشندوں نے احتجاج شروع کیا۔ لیکن کرنل قذافی کی حکومت نے طرابلس میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے بعد بن غازی کی جانب حرکت شروع کی۔ اس وقت خدشہ پیدا ہوا کہ دس لاکھ افراد پر مشتمل بن غازی پر حملے کی صورت میں خونریزی ہوسکتی ہے۔ نیٹو کے فضائی حملوں کے آغاز کے پانچ ماہ بعد باغی طرابلس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کرنل قذافی کی فورسز تربیت یافتہ اور مسلح ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں باغی عام شہری تھے جن کے ہاتھ اے کے 47 رائفلز آئی تھیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے کرنل قذافی کے اپنے ہمسایوں اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے، البتہ انہیں چند افریقی رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔ عرب لیگ نے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ بن غازی میں شہریوں کو بچانے کی خاطر مداخلت کرے۔ مارچ میں سلامتی کونسل نے ایک قرار داد کے ذریعے تمام تر ضروری اقدامات کی منظوری دے دی۔ تاہم اس نے فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت نہیں دی۔ نیٹو طیاروں نے بن غازی کے مضافات میں سرکاری فورسز کو نشانہ بنا کر انہیں وہاں سے بے دخل کر دیا۔ نیٹو حکام اس تاثر کو مسترد کرتے رہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ فضائیہ کے طور پر متحرک ہیں یا پھر ان سے ان کے رابطے ہیں لیکن باغیوں کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ ان کی پیش قدمی سے قبل قذافی کی حامی فورسز پر بمباری کی جاتی رہی ہے۔ اس سے باغیوں کو پیش قدمی میں آسانی رہتی تھی۔ فرانس نے باغیوں کو ہتھیار دینے کا اعتراف کیا ہے جبکہ دیگر کئی ممالک نے تربیت اور سفری سہولتیں فراہم کیں۔ آخر اس پیش قدمی میں اتنا طویل وقت کیوں لگا؟ نیٹو کے فضائی حملوں کے آغاز کے پانچ ماہ بعد باغی طرابلس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کرنل قذافی کی فورسز تربیت یافتہ اور مسلح ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں باغی عام شہری تھے جن کے ہاتھ اے کے 47 رائفلز آئی تھیں۔ فضائیہ حملوں کی مدد سے سرکاری فورسز کی قوت کو کمزور کرنے میں انہیں وقت لگا۔ اقتدار پر قبضے کے بعد پہلی ترجیع کرنل قذافی کی گرفتاری ہوگی تاکہ انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے بین الالقوامی عدالت میں پیش کیا جاسکے۔ خطرہ ہے کہ ان کی گرفتاری تک ان کے حامی گوریلہ جنگ جاری رکھیں۔ باغیوں کی قومی عبوری کونسل مختلف دھڑوں پر مشتمل ہے۔ مشرقی لیبیا میں باغیوں کے قبضے کے علاقے میں عبوری انتظامیہ پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہے۔ کونسل کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ یہ حکومت نہیں ہے اور قذافی کے جانے کے بعد وہ آزاد انتخابات اور ملک کے لیے آئین سازی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ اس کونسل میں لیبیا کے مختلف خطوں سے اکتیس اراکین بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے نام ظاہر کیے ہیں لیکن کئی نے ابھی ایسا نہیں کیا ہے۔ کونسل میں پانچ نشستیں خواتین جبکہ اتنی ہی نوجوانوں کے لیے مختص ہیں۔ کیا قذافی کا دور ختم ہورہا ہے |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-08-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,075
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عرب جمہوریہ لیبیا کے کرنل معمر قذافی شائد طویل ترین عرصے تک برسراقتدار رہنے والے عرب رہنما ہیں۔ اکتالیس برس پہلے ایک نوجوان کرنل کی حیثیت سے حکومت پر قبضہ کرنے والے معمر قذافی کے بارے میں چند ہفتے پہلے شائد ہی کوئی یہ پیش گوئی کرسکتا تھا کہ ان کی حکومت کا کنٹرول اتنی تیزی سے ملک پر سے ختم ہونے لگے گا۔
معمر قذافی انیس سو بیالیس میں سِرت کے نزدیک ایک صحرائی علاقے میں پیدا ہوئے اور اوائل جوانی میں وہ عرب قوم پرستی کے پیروکار اور مصری رہنما جمال عبدالناصر کے شیدائی تھے۔ سن انیس چھپن کے نہر سوئز کے بحران کے دوران مغرب اور اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بھی وہ پیش پیش رہے تھے۔ رنگا رنگ قذافی کے اکتالیس برس |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-08-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,075
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میتھیو پرائس
بی بی سی نیوز، طرابلس لیبیا میں باغی جتنی تیزی سے اور بلا رکاوٹ دارالحکومت طرابلس میں داخل ہوئے ہیں کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔ لیکن طرابلس میں ہونے والی پہلی شدید گولہ باری کے چوبیس گھنٹے بعد سنیچر کی رات ایسے آثار دکھائی دینے لگے تھے۔ سب سے پہلے کرنل قذافی کے سرکاری عہدے داروں کے بیوی بچوں نے شہر میں موجود فائیو سٹار ہوٹل ریکسوز چھوڑا۔ یہ وہ ہوٹل ہے جہاں ابتداء میں اس لڑائی کی کوریج کرنے والے غیر ملکی صحافیوں کو رہائش فراہم کی گئی تھی۔ کچھ ہی مہینوں میں یہ حکومت کا ٹھکانہ بن گیا۔ ایک ایسی جگہ جہاں وہ حفاظت سے رہ سکتے تھے اور جہاں سے کرنل قذافی کے وزیرِ اطلاعات نیوز کانفرنس کیا کرتے تھے۔ اب لیبیا کی حکومت کے اعلی اہلکاروں کے رشتہ دار بھی جا رہے ہیں ان کی منزل نسبتًا کوئی محفوظ جگہ ہوگی۔ تبھی میں نے غور کیا کہ مہینوں تک یہاں صحافیوں کے لیے مترجم کا کام کرنے والے افراد بھی جا چکے ہیں جبکہ سرکاری ٹیلی وژن کے اہلکار جنہوں نے نیٹو کی بمباری میں اپنے صدر دفتر کی تباہی کے بعد یہیں سے کام جاری رکھا تھا وہ بھی اس ہوٹل کو چھوڑ چکے ہیں۔ یہاں لڑائی کے اشارے موصول ہو گئے تھے اور پھر اس ہوٹل کے باہر ایک خوفناک لڑائی چھڑ گئی جو قریب آتی جار ہی تھی۔ سنیچر کی شام تک گولہ باری اور دھماکوں کی آواز شہر میں گونجتی رہی۔ اور اب یہ ہماری جانب بڑھ رہی تھی۔ کئی گھنٹوں تک بھاری ہتھیار اس عمارت کو ہلاتے رہے۔ گولیاں سروں کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔ ہم بین الاقوامی میڈیا کے لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوگئے تاکہ یہ طے کیا جائے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئیے۔ وزیرِ اطلاعات موسی ابراہیم نے اپنی آخری نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’ نیٹو ہمارے ملک کو تباہ کر رہا ہے‘۔ وہ اپیل کر رہے تھے کہ فائر بندی نہ کرنے کی صورت میں بھاری جانی نقصان ہو جائے گا ہم نے حفاظتی جیکٹس پہنیں اور وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ ساحل کی جانب کا راستہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی کشتی تھی جو ہمیں کہیں اور لے جا سکے۔ تبھی ہوٹل کا باورچی آیا اور پوچھا کہ کیا ہم رات کا کھانا کھائیں گے۔ہم نے بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ پہنے ہوئے ہی کھانا کھایا۔ چونکہ افطار کا وقت تھا اس لیے روزہ کھولنے کے لیے باہر خاموشی ہوگئی تاہم کچھ دیر بعد ہوٹل کے باہر دوبارہ دھماکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال شروع ہو گیا۔ قذافی کی حامی فورسز نے سڑک کے کنارے ایک چوکی بنا رکھی تھی۔ ہم باغیوں کے ایک ہدف میں پھنس چکے تھے۔ اسی دوران وزیرِ اطلاعات موسی ابراہیم نے اپنی آخری نیوز کانفرنس کی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’ نیٹو ہمارے ملک کو تباہ کر رہا ہے‘۔ وہ فائر بندی کی اپیل کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بھاری جانی نقصان ہو جائے گا۔ ہوٹل کی لابی میں ایک نوجوان فوجی میڈیا کے ایک شخص پر چلا رہا تھا۔ وہ اس پر اندر کی معلومات باغیوں کو دینے کا الزام لگا رہا تھا۔ ہم اس شخص اور اس کی AK-47 سے دور ہو گئے۔ اتوار کے روز موسی ابراہیم نے بتایا تھا کہ پینسٹھ ہزار پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوجی جو کرنل قذافی کے وفادار ہیں دارالحکومت طرابلس میں اس کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔ ہوٹل کے ایک دوسرے حصے میں خاموش طبع اور نرم خُو ڈاکٹر اگلوئیلا جو لیبیا کی حکومت میں غیر ملکی میڈیا کے انچارج تھے میرے پاس سے گزرے، ان کے ہاتھ میں ایک بندوق تھی۔ گذشتہ ہفتے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ تیار ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو اپنے ملک کے تحفظ کے لیے سامنے جا کر لڑیں گے۔ تب میں نے سوچا بہت دیر ہو چکی ہے۔ کیا جس کا بہت شور ہو رہا تھا وہ خاتمہ قریب ہے؟ اتوار کے روز موسی ابراہیم نے مجھے بتایا تھا کہ پینسٹھ ہزار پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوجی جو کرنل قذافی کے وفادار ہیں دارالحکومت طرابلس میں اس کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔ کیا باغی کسی جال میں پھنس گئے ہیں؟ شاید جب وہ شہر میں داخل ہوں ان پر ہر سمت سے فائر کھول دیا جائے۔ کرنل قذافی کی حامی فوج یہ حربہ پہلے بھی استعمال کر چکی ہے۔ دھیرے دھیرے صورتحال واضح ہو گئی۔ وہ سبز چوک جہاں میں گذشتہ ہفتے میں کرنل قذافی کے حامیوں کے ساتھ کھڑا تھا جو یہ عہد کر رہے تھے کہ دارالحکومت کبھی، کبھی بھی نہیں جھکے گا، اب مخالفین کے قبضے میں تھا۔ کرنل قذافی کا بیٹاسیف اسلام گرفتار ہو چکا ہے۔طرابلس کے بڑے علاقوں میں حزبِ مخالف کی چوکیاں مضبوط کر لی گئی ہیں۔کرنل قذافی کا دار الحکومت ان کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ ابھی جس وقت میں یہ لکھ رہا ہوں لڑائی جاری ہے۔ ریکسوز کے کے باہر ہم اب بھی نہیں جانتے کہ سڑ کیں محفوظـ ہیں یا نہیں۔ ہم اب بھی یہاں سے نہیں نکل سکتے۔ ارد گرد سے بھی گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہیں ہیں لیکن یہ جشن کے لیے نہیں، وہاں اب بھی لڑائی ہو رہی ہے۔ شہر کے کئی رہائشی اپنے گھروں میں دبکے بیٹے ہیں۔ ان میں صرف وہی لوگ نہیں جو کل تک کرنل قذافی کا سبز جھنڈا فخر سے لہرا رہے تھے بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے دروازے کے باہر ہونے والی لڑائی کی وجہ سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ قبیلوں کے درمیان پایا جانے والے اختلاف اب حزب مخالف میں سامنے آئے گا جو اقتدار کی پر امن منتقلی کو نقصان دہ ہے۔ اب بھی ممکن ہے کہ چار دہائیوں تک اقتدارمیں رہنے والے کرنل قدافی لوگوں کو سزا دینے اور ان پر ظلم کرنے کے لیے جوابی حملہ کریں۔ لیکن فی الحال یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت تو ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ ایک اور غیر مقبول عرب حکومت عرب مظاہروں کی لہر کا شکار ہو گئی ہے۔ طرابلس کے ہوٹل سے آنکھوں دیکھا حال |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-08-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,075
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیبیا کے قائد کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے کہا کہ حکومت کی حامی فوج نے باغیوں کو چنگل میں پھنسا کر ان کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کرنل قذافی طرابلس میں محفوظ ہیں۔ اس سے قبل خبریں تھیں کہ کرنل قذافی کے دو بیٹوں سیف الاسلام اور محمد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ کرنل قذافی منظر عام سے غائب ہیں۔
لیبیا کےدرالحکومت طرابلس میں کرنل معمر قذافی کی رہائش گاہ کے قرب و جوار سمیت متعدد مقامات پر سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ لیبیا کےدارالحکومت طرابلس میں صحافیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو جن کے بارے میں پہلے کہا گیا تھا کہ وہ پکڑے گئے ہیں آزاد دیکھا ہے۔ طرابلس میں دن بھر شدید لڑائی کے بعد بظاہر باغیوں کو پیچھے بھی ہٹنا پڑا ہے۔ کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام ایک فوجی گاڑی میں سوار ہو کر صحافیوں کے سامنے آئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس نے بتایا کہ سیف الاسلام اس ہوٹل یں پہنچ گئے جہاں صحافی ٹھہرے ہوئے تھے۔ سیف الاسلام نے کہا کہ حکومت کی حامی فوج نے باغیوں کو چنگل میں پھنسا کر ان کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کرنل قذافی طرابلس میں محفوظ ہیں۔ اس سے پہلے جرائم کی بین الاقوامی عدالت آئی سی سی کے پراسیکیوٹر لوئی مورینو اوکامپو نے کہا تھا کہ انتالیس سالہ سیف الاسلام گرفتار ہو چکے ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے جو باغیوں کے ایک گروہ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں بتایا کہ یہ گروہ طرابلس سے باہر آ گیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق کرنل قذافی کے ایک بیٹے محمد جو اپنے گھر میں نظر بند تھے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ تاہم کرنل قذافی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ باغیوں کی قومی کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کی گرفتاری تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فتح مل گئی ہے۔ ’میں آزاد ہوں، باغیوں کو چنگل میں پھنسایا‘ |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-08-11) |
![]() |
| Tags |
| color, فرض, کنٹرول, واشنگٹن, وزیر, وزیراعظم, لوگ, معلوم, امریکہ, بادشاہت, تصاویر, جیل, جیت, خودکشی, خلاف, درخواست, رات, راستہ, شہر, شاندار, عدالت, صورتحال, صبح, صحافیوں, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا کی کریڈٹ ریٹنگ میں ایک درجہ کمی، ٹرپل اے سے ڈبل اے پلس ہوگئی | گلاب خان | خبریں | 1 | 07-08-11 05:28 AM |
| نبیل گبول وزارت سے استعفیٰ دے کر روپوش، گھر پر چھاپہ، لیاری میں مظاہرے | گلاب خان | خبریں | 0 | 20-01-11 05:46 AM |
| شیخوپورہ میں عید کے نئے کپڑے مانگنے پر باپ نے 2بچوں کو مار کر خودکشی کرلی | گلاب خان | خبریں | 1 | 04-09-10 05:14 AM |
| انگلینڈ سے سٹوڈنٹ اپنی غلطیوں سے ڈپورٹ ہوتے ہیں | کنعان | تعلیم و تربیت | 4 | 26-07-10 12:43 AM |
| روپوش ہوجائیں! | ھارون اعظم | سیاسی تصاویر اور ویڈیوز | 0 | 25-04-10 01:52 AM |