لیبیا کے علاوہ بحرین، تیونس، مراکش، جبوتی، تھائی لینڈ اور عراق میں بھی مظاہرے ہوئے، ایران میں اپوزیشن نے آج مظاہروں کی کال دے دی
قاہرہ، ماناما، طرابلس تریپولی (آن لائن، اے پی پی، این این آئی، آئی این پی ) لیبیا میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 120 ہو گئی ہے۔ لیبیا کے علاوہ بحرین، تیونس، مراکش، جبوتی، تھائی لینڈ اور عراق میں بھی مظاہرے ہوئے۔ بحرین کے ولی عہد کو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے اختیارات دیدیئے گئے۔ کویت میں مظاہروں کے دوران 30 افراد زخمی ہوگئے جبکہ ایران میں اپوزیشن نے آج حکومت مخالف مظاہروں کی کال دیدی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لیبیا میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 120 ہوگئی ہے جبکہ معمر قذافی کے نظریات کی حفاظت پر مامور انقلابی کمیٹی تحریک کا کہنا ہے کہ صدر قذافی کے نزدیک آنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ بحرین کے حکمران شیخ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے اپنے ولی عہد شیخ سلمان بن حمد کو اپوزیشن کے تمام دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے مکمل اختیارات دیدیئے ہیں جبکہ امریکی صدر اوباما نے بحرین کے شاہ حمد سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے مظاہرین پر تشدد کی مذمت کی۔ دوسری جانب بحرین کے شیعہ اپوزیشن گروپ نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے حکومت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ برطانیہ اور فرنس نے بحرین اور لیبیا میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد ہنگاموں کے بعد ان ممالک کو سکیورٹی آلات کی برآمد روک دی ہے۔ ایران میں حزب اختلاف نے آج تہران اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کی کال دیدی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مظاہرے ملک میں مذہبی آمریت کے خلاف جنگ کے طور پر کئے جائیں گے۔ کویت میں سینکڑوں عربوں نے شہریت کے حصول کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس موقع پر مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 30 افراد زخمی ہو گئے۔ جبکہ بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری جانب کویت کی پارلیمانی کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین نے کہا ہے کہ امریکہ کویت کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے۔ علاوہ ازیں مصری کالعدم جماعت اخوان المسلمین نے مصریوں پر زور دیا ہے کہ وہ انقلاب کو مطلب پرستوں سے بچانے کی کوشش کریں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی