پائلٹ کا مظاہرین پر فائرنگ سے انکار‘ جنگی طیارہ گراکر تباہ کر دیا‘ فوجیوں کو پھانسی البیدہ شہر میں دی گئی‘ تنظیم حقوق انسانی کی تصدیق
ہزاروں لیبیائی باشندے نقل مکانی کےلئے سرحدوں پر جمع‘ یمن اور بحرین میں بھی مظاہرے،میرے خلاف احتجاج اسامہ کرارہا ہے‘ قذافی
طرابلس‘ راولپنڈی (ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہروں میں شدت آگئی ہے، خونریزی سے بچنے کے لئے بڑی تعداد میں ملکی و غیرملکیوں کا انخلاءشروع ہوگیا، فوج نے بھی صدر کے خلاف بغاوت کردی ہے، جبکہ مظاہرین پر فائرنگ سے انکار پر 130 فوجیوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ادھر ایک پائلٹ نے مظاہرین پر بمباری سے انکار کرتے ہوئے جنگی طیارہ بن غازی میں گرا کر تباہ کردیا۔ 8 روز میں مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1000سے تجاوز کرگئی۔ اقوام متحدہ، یورپ اور او آئی سی، امریکا نے موجودہ صورتحال پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جبکہ کینیڈا میں لیبیا کے سفیر نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق لیبیا میں صدر معمرقذافی کی طرف سے مظاہرین کو باغی قرار دے کر انہیں طاقت سے کچلنے کے اعلان کے باوجود ملک میں ان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری اور اس میں مزید شدت آگئی ہے۔ دارالحکومت طرابلس سمیت بن غازی، تریپولی، طبرق، البیدہ اور دیگر شہروں میں زبردست مظاہرے ہورہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر ہیں اور صدر قذافی سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حقوق انسانی کی عالمی سطح پر انٹرنیشنل فیڈریشن فارہیومن رائٹس کے مطابق مشرقی شہر البیدہ میں مظاہرین پر فائرنگ کرنے سے انکار پر 130 فوجیوں جن کے ہاتھ کمر پر بندھے ہوئے تھے کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ملک کے مشرقی حصے میں تاجورہ، زوارہ، آزاویہ، بن غازی، ڈیرنا، طبرق سمیت کئی شہر سرکاری فوج کے قبضے سے باہر ہوچکے ہیں تاہم حکومت کادعویٰ ہے کہ اس کا اب بھی ملک پر مکمل کنٹرول ہے۔ معراننہ شہر میں مظاہرین پر سرعام فائرنگ کی گئی جس سے درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوگئے۔ بن غازی میں فوج کے نشانے بازوں نے ایک جنازے میں شریک لوگوں پر فائرنگ کردی جس سے 15 افراد ہلاک ہوگئے۔ مکل سے فرار ہونے والے ایک ڈاکٹر کا دعویٰ ہے کہ صرف ایک شہر میں دوہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہسپتال لاشوں و زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں جبکہ ہلاک شدگان کو اجتماعی قبروں میں دفنانے کا عمل جاری ہے۔ القاعدہ کی شمالی افریقی شاخ نے بھی لیبیا میں مظاہرین کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا۔ مظاہرین کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کینیڈا میں لیبیا کے ایک سینئر سفارتکار اھاب المعماری نے کہاکہ وہ مظاہرین پر تشدد کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہوئے ہیں۔ ملکی وغیرملکی شہریوںٍ کا بڑے پیمانے پر انخلاءجاری ہے۔ امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، کوریا، بھارت، یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے اپنے اپنے شہریوں کو نکالنے کےلئے طیارے اور کشتیاں بھجوادی ہیں۔ پاکستانیوں سمیت ڈیڑھ دولاکھ سے زائد غیرملکی لیبیا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اٹلی کے حکام کے مطابق تین لاکھ لیبیائی باشندوں کی یورپ کی طرف نقل مکانی کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق پانچ ہزار لوگ تیونس جبکہ 15ہزار مصر کی سرحد پر پہنچ چکے ہیں۔ یورپی یونین نے لیبیا پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ لیبیا کے عوام پر تشدد انتہائی ظالمانہ اور شرمناک ہے یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ صدر اوباما نے وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے جینیوا بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ خطے کی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے جلد وفد روانہ کیا جائے گا۔ فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے لیبیا سے معاشی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی نے کہاکہ لیبیا کے صدر معمرقذافی کے اثاثے منجمد کرکے لیبیا پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں مگر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب یمن اور بحرین میں بھی حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں یمن کے دارالحکومت انتھرو میںحکومتی معاشی پالیسیوں اور ملازمتوں میں کٹوتی کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں تقریباّ ایک لاکھ افراد نے شرکت کی۔ کئی مقامات پر مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں اور کئی افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے پارلیمنٹ اسکوائر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے کیمپ زبردستی ہٹادیئے۔ ادھر بحرین میں مظاہرین نے دباﺅ کے بعد حکومت مخالف سرگرمیوں پر اگست میں گرفتار کئے گئے308 میں سے 23 کی رہائی کے بعد منامہ کے پرل اسکوائر پہنچنے پر ان کا پرجوش استقبال کیا۔ بحرین کی حکومت نے سیاسی اصلاحات کے لئے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔
دریں اثناء لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی نے کہا ہے کہ میرے خلاف احتجاج کے پیچھے اسامہ بن لادن ہے۔ اسامہ لوگوں کو گمراہ کررہا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے قوم سے دوسری بار خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایمن الظواہری میرے خلاف مہم پر پیسہ لگارہا ہے اور نابالغ بچوں کو سڑکوں پر لاکر مظاہروں پر اکسایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو کرپشن پر شکایت ہے تو عدالت جائے۔ انہوں نے خطاب میں کہا کہ امریکا اور یورپ ان مظاہروں کو ہوا دے رہا ہے۔ تیل سپلائی بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں تیل کی سپلائی بند کردوں تو کیا ہوگا۔ اگر ملک میں خوشحالی ہے اور معاشی پریشانی نہیں ہے تو پھر میرے خلاف احتجاج کیوں۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہیں بڑھانے کے سلسلہ پر مذاکرات کیلئے تیار ہوں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی