|
لیبیا کے خونریز روز وشب

04-03-11, 09:14 PM
تیونس اور مصر کے بعد لیبیا کی سیاسی صورت حال گھمبیر ہو گئی ہے اور آمریت کے خلاف عوامی انقلاب اپنے منطقی نتائج کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پیر 21 فروری 2010ء کو قذافی کے بمبار طیارے دارالحکومت طرابلس کے مظاہرین پر بمباری کر رہے تھے۔ اس وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 160 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس سے پہلے مشرقی لیبیا میں البیضاء اور بن غازی کے شہروں میں کئی روز سے احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر کے بہت سے افراد ہلاک کر دیئے تھے۔ ہفتہ بھرکے ہنگاموں میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ سو تک پہنچ گئی تھی۔ طرابلس کے حوالے سے عادل محمد صالح نے الجزیرہ ٹی وی کو خبر دی: ’’آج ہم اس شہر میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ناقابل تصور ہے۔ جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر ایک علاقے کے بعد دوسرے پربمباری کر رہے ہیں۔ بہت زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں‘‘۔
صالح خود کو سیاسی تحریک کا کارکن قرار دے رہاتھا۔ اس نے بتایا کہ ’’بمباری کا آغاز ایک جنازے کے جلوس پر بم گرانے سے ہوا۔ ہمارے لوگ ہلاک ہوتے رہے۔ یہ تو ملک کو بھون ڈالنے کی پالیسی ہے۔ ہر بیس منٹ بعد طیارے بمباری کر رہے ہیں۔ کوئی بھی حرکت کرتا ہو، خواہ کار میں ہو، اس کو نشانہ بنایا جاتا ہے‘‘۔ پیر کو لیبین ایئر فورس کے دو طیاروں کے پائلٹوں نے عوام پر بمباری کی حکم عدولی کرتے ہوئے اپنے طیارے بحیرہ روم کے جزیرے مالٹا میں جا اتارے۔ ان دونوں نے طرابلس کے نزدیک ایک فضائی اڈے سے پرواز کی تھی۔ ایک نے سیاسی پناہ کی درخواست کی۔ ان کے بقول انہیں لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی پربمباری کا حکم دیا گیا تھا۔
دریں اثناء کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے ظالمانہ شیخی بگھاری کہ ’’ہم آخری فرد اور آخری گولی تک لڑیں گے‘‘ اور قذافی نے فوج اور پولیس سے کہا کہ وہ ’’فسادیوں‘‘ کو لال بیگوں اور چوہوں کی طرح مار ڈالیں‘‘۔ ادھر طرابلس میں بعض فوجی دستے منحرف ہو کر مظاہرین سے آ ملے۔ اس کے بعد مظاہروں میں اور شدت آئی۔ 24 فروری کو طرابلس سے 30 کلو میٹر دور زاویہ شہر میں جو مظاہرین کے قبضے میں تھا اور بمباری سے دس افراد مارے گئے۔ یہاں فوج نے مسجد میں پناہ لینے والے مظاہرین پر فائرنگ کی اور اس کے میناروں کو طیارہ شکن میزائلوں کا نشانہ بنایا۔ ادھر طرابلس میں فوج کے بجائے قذافی کی حامی ملیشیا نے کنٹرول سنبھال لیا۔ اس روز اقتدار کے نشے میں مدہوش معمر قذافی نے ٹی وی پر خطاب میں کہا: ’’لیبیا میں مظاہرے کرنے والے نشے کے عادی ہیں، میرے خلاف مہم میں امریکا اور غیرملکی ہاتھ ہے۔ اسامہ اور ایمن الظواہری مظاہرین کو اکسا رہے ہیں‘‘۔ قذافی کے آمرانہ ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ جب آپ عوام کے حقوق غصب کریں گے، ظلم و تشدد کے حربے آزمائیں گے تو جذبات کا لاوا ایک نہ ایک روز ضرور پھٹے گا، پھر اسامہ، الظواہری یا امریکہ کو الزام دینے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ القاعدہ لیبیا میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔ گویا برخود غلط قذافی کو اسلامی نظام سے چڑ ہے!
جمعرات کے دن احتجاجاً مستعفی ہونے والے وزیر عبدالفتاح یونس کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا، نیز اردن میں تعینات لیبیا کے سفیر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ مظاہرین نے تیل کی اہم تنصیبات پر قبضے کا دعویٰ کیا۔ ایک ڈاکٹر کے بقول صرف ایک شہر میں 2000 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ زاویہ شہر کے متعلق الجزیرہ چینل نے ایک فوٹیج دکھائی جس میں بیس کے لگ بھگ لاشیں تھیں اور اکثر کے ہاتھ ان کی پشت پر بندھے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ بتایا گیا کہ فوج کے ان ارکان نے مظاہرین پر فائرنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس پر انہیں گولیوں سے اڑا دیا گیا۔ ایک خاتون جس کا بیٹا مارا گیا اس نے کہا کہ یہاں غیر مسلح مظاہرین پر بے رحمی سے فائرنگ کی جا رہی ہے، لوگ مر رہے ہیں، دنیا دیکھ لے‘‘!
26 فروری کو مظاہرین پر زہریلی گیس کے استعمال کا انکشاف بھی ہوا۔ فرانس اور یونیسکو کے لئے لیبیا کے سفیروں نے استعفے دے دیئے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں لیبیا کے سفیر اپنے ملک کی خونریز صورتحال پر رو پڑے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں خونریزی بند کر دی جائے۔ اس سے پہلے جمعے کے روز قذافی نے سبز چوک طرابلس میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف لڑنے اور انہیں شکست دینے کے عزم کا اعادہ کیا،دہلی میں لیبیا کے سفارتخانے نے بغاوت کر دی اور تمام سفارتی عملہ مستعفی ہو گیا۔ بن غازی شہر تحریک کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہاں ایک پائلٹ کو مظاہرین پر بمباری کا حکم دیا گیا تو اس نے نہتے عوام پر بمباری کرنے کے بجائے طیارہ زمین سے ٹکرا دیا اور خود پیرا شوٹ کے ذریعے کود گیا۔ علاوہ ازیں لیبیا کے سابق وزیر انصاف نے بن غازی میں عبوری حکومت قائم کر لی۔ ادھر اقوام متحدہ میں لیبیا کے سابق سفیر علی اوجالی نے اپنی واشنگٹن کی قیام گاہ پر قذافی دور سے پہلے کا پرچم لہرا دیا۔
27 فروری کو صنعتی شہر صحار میں مظاہرین نے پولیس سٹیشن اور کئی سرکاری دفاتر کو آگ لگا دی۔ اس روز سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے جو خود عراق اور افغانستان کے لاکھوں مسلمانوں کے قاتل ہیں، ٹیلی فون پر کرنل قذافی کو انتباہ کیا کہ وہ فوری طور پر معصوم شہریوں کا قتل عام بند کرائیں ورنہ ناٹو افواج لیبیا میں اتاری جا سکتی ہیں، نیز سیف الاسلام قذافی نے اعلان کیا کہ وہ اب لیبیا میں حقیقی جمہوریت لائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ’’اسلامی دہشت گردوں‘‘ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ کاش سیف الاسلام اور ان کے والد اپنے مسلم عوام کی امنگوں کا پاس کرتے تو آج انہیں عوامی بغاوت کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور یورپ کی عیسائی طاقتیں جو ناٹو کی شکل میں متحد ہیں، وہ لیبیا پر اپنے دندان۔ آز تیز نہ کرتیں۔ اس وقت بھی جب پسرِ قذافی نے خرابی بسیار کے بعد جمہوریت کا راگ الاپا ہے، ظالم فرنگی سامراجیوں کے بجائے ’’اسلامی دہشت گردوں‘‘ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، حالانکہ وہ ان کے ہم وطن اور اسلامی بھائی ہیں جو اپنے چھینے گئے حقوق کی بحالی اور نفاذِ اسلام کے خواہاں ہیں۔ اب بھی قذافی عوام پر ظلم ڈھانے سے باز آ جائیں تو لیبیا کی سلامتی اور قومی وحدت محفوظ رہ سکتی ہے۔
تادم تحریر صورتِ حال یہ ہے کہ مظاہرین نے ایک فوجی طیارہ مار گرایا ہے۔ کئی فوجی اڈوں پر قذافی کی مخالف فورسز کا قبضہ ہے۔ مظاہرین نے بن غازی، زاویہ اور البیضاء کا کنٹرول سنبھال کر طرابلس کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے اور کرنل قذافی طرابلس میں محصور ہو کے رہ گئے ہیں۔ قذافی کی یوکرینی نژاد عشوہ طراز نرس اپنے وطن واپس چلی گئی ہے۔ بن غازی میں سابق وزیر انصاف کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے تین ماہ میں آزادانہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے، نیز ایک نیشنل کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یورپی یونین نے لیبیا پر پابندیاں لگا دی ہیں، نیز دنیا کی سب سے بڑی ظالم سامراجی قوت امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ قذافی جلد از جلد اقتدار چھوڑ دیں ورنہ امریکی بحریہ لیبیا میں کسی وقت بھی کارروائی کر سکتی ہے!
اقتباس۔۔۔جرار نیوز
والسلام۔۔۔علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|