واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


مادر پدر آزادی ۔۔۔نا طے میں ماں ،تعلق میں محبوبہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-09-10, 06:46 PM   #1
مادر پدر آزادی ۔۔۔نا طے میں ماں ،تعلق میں محبوبہ
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 24-09-10, 06:46 PM

23 ستمبر 2010
لندن(نیٹ نیوز) برطانیہ اور امریکہ میں استانیوں کے طلبا ءسے جنسی تعلقات کے واقعات میں اضافے پر حکام نے تشویش ظاہر کی ہے ۔ ایک برطانوی سکول کی ٹیچر حنا پٹیل نے جو غیر حاضر رہنے والی ٹیچرز کی جگہ تعینات کی گئی تھی ، چند ہفتوں کے دوران دو طلباءکے ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے ۔ اس سکو ل میں گیارہ سے سولہ برس کی عمر کے طلبا ہیں ۔ اس گھناﺅنی حرکت کا پتہ چلنے پر اسے ملازمت سے نکال دیا گیا اور اس پر فرد جرم عائد کر کے مقدمہ قائم کیا گیا ۔اس سکول کا جو برطانیہ کے بہترین سکولوں میں شامل ہے ،یہ ماٹو ہے ”صرف بہترین صلاحیتیں کام آئیں گی“۔ ایک اور ٹیچر سارا لنڈے اور آرڈے گریبر کیویز پر جو مقدمہ بنایا گیا ہے، اس میں انہیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ اپنے گھر پر طلباءکو چرس اور شراب پلاتی تھیں جن میں بعض طلباءکی عمر گیارہ برس تھی ۔ دونوں استانیوں کو امریکی جیل میں رکھا گیا ہے۔ گرپر کیوز لیک بوون بیپسٹ چرچ کے سکول کی استانی تھی ،اس نے سولہ سال کی عمر سے زیادہ طلبا سے جنسی تعلقات قائم کئے اس لئے جنسی جرائم کا مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ دوسری ٹیچر لنڈسے پر گیارہ سے چودہ برس کی عمر کے طلبا سے جنسی تعلقات پر کارروائی ہو گی ۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے ان کے بہت سے طلباءکے ساتھ شرمناک تعلقات تھے۔ ایک تعلیمی ماہر نے کہا ہمارے بہت سے بچے سڑکوں پر حادثوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ ٹیچرز انہیں شراب اورمنشیات استعمال کرواتی ہیں۔ایک اور اطلاع کے مطابق ہالی ہیڈ ہائی سکول انگلیسے کی ٹیچر سیونڈ ون جونز کو سولہ سالہ طالب علم سے شرمناک تعلقات رکھنے پر ملازمت سے نکال دیا گیا ۔ 29سالہ میوزک ٹیچر نے طالب علم کو سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعے پیغامات بھی بھیجے۔ ویلز کی جنرل ٹیچنگ کونسل پینل کے رکن پیٹر ولیمز نے کہا ٹیچر کے طالب علم سے تعلقات نامناسب تھے ۔ مس جونز نے کہا مجھے اب ان تعلقات پر بڑی شرم آتی ہے۔
__________________
جاویداسد

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 431
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے جاویداسد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-09-10), فیصل ناصر (25-09-10), پاکستانی (25-09-10), یاسر عمران مرزا (25-09-10), محمد عاصم (28-09-10), مرزا عامر (24-09-10), اویسی (28-09-10), احمد بلال (25-09-10), حیدر (28-09-10), شمشاد احمد (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 10:52 PM   #2
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,688
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گورے کو اتنی تشویش کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ جس طرح اٹھارہ سال سے زائد مرد و عورت کا جنسی تعلق اپنی مرضی سے قانونی طور پرقابل گرفت نہیں اسی طرح اٹھارہ سال سے کم عمر والوں کو بھی یہ حق اب دے ہی دینا ‌چاہے۔۔۔ کیوں کہ ‏آخر یہ بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔۔۔۔ کب تک اس کاانسانی حق کی، حق تلفی کی جاتی رہے گی۔

جیسا کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی سپریم کورٹ کی ایک خبر سامنے ‏آئی تھی کہ۔ بڑھتی ہوئی جسم فروشی کے دھندے کو قابو نہ کر پانے پر سپریم کورٹ نے حکومت کو کہا کہ اگر وہ اس جسم فروشی کو روک نہیں سکتی تو اس کو قانونی جواز فراہم کر دے۔۔۔

تا کہ پولیس اور عدالتوں کا وقت ، توانائیاں بھی ضائع نہ ہوں
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-09-10), فیصل ناصر (25-09-10), پاکستانی (25-09-10), مرزا عامر (28-09-10), اویسی (28-09-10), احمد بلال (25-09-10), جاویداسد (24-09-10), حیدر (28-09-10), عبیداللہ عبید (29-09-10)
پرانا 24-09-10, 11:31 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
گورے کو اتنی تشویش کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ جس طرح اٹھارہ سال سے زائد مرد و عورت کا جنسی تعلق اپنی مرضی سے قانونی طور پرقابل گرفت نہیں اسی طرح اٹھارہ سال سے کم عمر والوں کو بھی یہ حق اب دے ہی دینا ‌چاہے۔۔۔
یہ حق 16 سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے نہ کہ 18 ۔ 16 سال کی عمر سے پہلے اگر کسی کے ساتھ تعلقات بنایا جائے تو یہ قانونی اعتبار سے قابل گرفت ہے اس شخص کے لیئے جو قانونی بالغ ہے ۔ تاہم اگر دونوں کی عمر 16 سال سے کم ہے تو کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔
ویسے اس طرح کی خبروں کی برطانیہ میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی کیونکہ یہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ اور قانون کی گرفت میں آٹے میں نمک کے برابر ہی لوگ آتے ہیں۔ ان کے یہاں اس طرح کی خبروں کی وہی اہمیت ہے جس طرح پاکستان میں بم دھماکوں کی ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-09-10), پاکستانی (25-09-10), اویسی (28-09-10), احمد بلال (25-09-10), جاویداسد (27-09-10), حیدر (28-09-10), شمشاد احمد (27-09-10)
پرانا 27-09-10, 07:47 AM   #4
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,688
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

18 سال سنا کرتے تھے۔۔۔۔ ‌چلو اب 16 ہو گیا ہے تو۔۔۔ بات اسی طرف جا رہی ہے کہ ‏آخر کار اس کی اجازت دے دی جائے کہ جو مرضی ہے کرتے رہو۔۔ ہمیں حکومت کرنے دو۔۔۔ تا کہ جلد ہی وہ وقت بھی ‏آ جائے جس کی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خبر دی ہے کہ مفہوم غالبان یوں ہے کہ۔۔۔ قیامت سے قبل زنا عام ہو گا اور لوگ جانوروں کی طرح زنا کرتے پھریں گے۔ راستوں میں۔ اور دیواروں کے پیچھے۔ بھی۔
شمشاد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (28-09-10), مرزا عامر (28-09-10), اویسی (28-09-10), جاویداسد (27-09-10), حیدر (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 12:37 AM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
18 سال سنا کرتے تھے۔۔۔۔ ‌چلو اب 16 ہو گیا ہے تو۔۔۔ بات اسی طرف جا رہی ہے کہ ‏آخر کار اس کی اجازت دے دی جائے کہ جو مرضی ہے کرتے رہو۔۔ ہمیں حکومت کرنے دو۔۔۔ تا کہ جلد ہی وہ وقت بھی ‏آ جائے جس کی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خبر دی ہے کہ مفہوم غالبان یوں ہے کہ۔۔۔ قیامت سے قبل زنا عام ہو گا اور لوگ جانوروں کی طرح زنا کرتے پھریں گے۔ راستوں میں۔ اور دیواروں کے پیچھے۔ بھی۔
بھائی شمشاد ایک مرتبہ پھر سے قطع کلامی کی معذرت چاہوں گا ۔ وہ وقت آنے والا نہیں ہے ۔ آچکا ہے ۔ مشرق میں ( جن مما لک کا مجھے علم ہے - اس کے علاوہ ہو سکتا ہے اور بھی ہوں ) جاپان ، فلپائن ، تھائی لینڈ ، چین کے کچھ علاقے ۔ اور مغرب میں امریکہ اور یورپ کے بیشتر ممالک میں یہی صورت حال ہے ۔ بندہ اپنی گناہ گار آنکھوں سے بہت کچھ دیکھ چکا ہے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (28-09-10), محمد عاصم (28-09-10), اویسی (28-09-10), جاویداسد (28-09-10), حیدر (28-09-10), شمشاد احمد (28-09-10), عبیداللہ عبید (29-09-10)
پرانا 28-09-10, 12:46 PM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,565
شکریہ: 8,802
5,786 مراسلہ میں 21,395 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
18 سال سنا کرتے تھے۔۔۔۔ ‌چلو اب 16 ہو گیا ہے تو۔۔۔ بات اسی طرف جا رہی ہے کہ ‏آخر کار اس کی اجازت دے دی جائے کہ جو مرضی ہے کرتے رہو۔۔ ہمیں حکومت کرنے دو۔۔۔ تا کہ جلد ہی وہ وقت بھی ‏آ جائے جس کی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خبر دی ہے کہ مفہوم غالبان یوں ہے کہ۔۔۔ قیامت سے قبل زنا عام ہو گا اور لوگ جانوروں کی طرح زنا کرتے پھریں گے۔ راستوں میں۔ اور دیواروں کے پیچھے۔ بھی۔
شمشاد بھائی
جہاں تک یہ حدیث میں نے پڑھی ہے
قرب قیامت کے متعلق اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امت کا ذکر کیا ہے ۔
الحمداللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ کی امت پر ابھی ایسا وقت نہیں آیا ۔
اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح کردیں
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (28-09-10), حیدر (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 02:02 PM   #7
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
شمشاد بھائی
جہاں تک یہ حدیث میں نے پڑھی ہے
قرب قیامت کے متعلق اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امت کا ذکر کیا ہے ۔
الحمداللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ کی امت پر ابھی ایسا وقت نہیں آیا ۔
اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح کردیں
شکریہ
اگر یہ بات مسلمان ممالک کے بارے میں نہیں اور صرف امت کے بارے میں ہے ۔ تو آپ کی تصیح حدیث کے بارے میں تو نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے اس کا نہیں معلوم ۔ تاہم اس بات کی آپ کو اطلاع ضرور دے سکتا ہوں کہ امت کے نوجوان کس حد تک آگے جاچکے ہیں کہ غیر مذہب کو انہوں نے پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ جس کثیر تعداد کو میں جانتا ہوں ان میں پاکستانی ، بنگلہ دیشی ، انڈین ، مراکش ، الجیریا ، ترکی ، افغانی ، عراقی اور مصری شامل ہیں ۔
یعنی امت پر بھی یہ وقت شروع ہو چکاہے ۔
اگر مملکت کے لحاظ سے بات کریں تو پاکستان میں سب کچھ تو نہیں لیکن بہت کچھ شروع ہو چکا ہے ۔ بنگلہ دیش سے ملنے والی اطلاعات بھی کچھ قابل تعریف نہیں ہیں۔ عرب ممالک میں شیخ حضرات کی عیاشی کہاں تک جا چکی ہے یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ جمعرات کو سعودی عرب سے گاڑیوں کے عظیم قافلے بحرین کے کلبوں کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں ۔ رات بھر شراب اور مستی کے بعد یہ قافلے صبح کو سعودی عرب واپس آ جاتے ہیں جمعہ کی نماز بھی ادا کرنی ہوتی ہے اس لیئے ۔اس کے علاوہ غیر ملکی خادماؤں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ۔ یہ آپ اور میں اچھی طرح جانتے ہیں اور اس ظلم کی مثال پورے یورپ اور امریکہ میں نہیں ملتی۔ کہیں سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے کہیں چھپ کر اور کہیں بے پناہ ظلم کے ذریعے ۔ بہر حال مسلمان یعنی جس امت کی آپ بات کر رہی ہیں اور آپ کے خیال میں ابھی تک امت معصوم ہے تو یہ صرف اطلاع ہے کہ امت اس میں شریک ہو چکی ہیے اور بڑی تعداد میں ۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ میری بات سے متفق ہوں۔ میں نے آپ کے سامنے کسی اخبار کی خبر نہیں رکھی اور نا ہی اس کا میرے پاس ثبوت ہے ۔ یہ میری زندگی کے تجربات ہیں جو آپ سے شیئر کیے ہیں ۔
لیکن یہ سب کچھ ہر انسان کو نظر نہیں آتا ۔ میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ ہمارے ملک میں اس قسم کی چیزیں نہیں ہیں ۔ لیکن جب لاگوں نے حالات بتاے تب بھی یقین نہیں آیا ۔ جب انہوں نے مجھے کراچی کے بس اسٹاپوں سے لیکر گارمنٹ فیکٹریوں تک وزٹ کروائی تو میرے ہوش اڑ گئے ۔ یہی حال میں حیدر آباد اور لاہور میں بھی دیکھ چکا ہوں ۔ باقی شہروں کا مجھے اندازہ نہیں۔ ممکن ہے حالات کچھ زیادہ مختلف نہیں ہونگے ۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ حدیث کے فرمان کے مطابق دنیا کے ہر کونے میں اس طرح کی فحاشی عام ہو۔ قتل و غارت گری کی بھی بات کی گئ۔ جھو ٹ بول کر مال بیچنے کی بھی بات کی گئی ۔ سچ جھوٹ ہو جائے گا اور جھوٹ سچ۔
میں جس جگہ رہتا ہوں وہاں دھوکہ بازی، ملاوٹ ، قتل و غارت کا تصور ہی نہیں ہے ۔ اور یہ ضروری نہیں کہ ایسا قیامت سے پہلے یہاں شروع بھی ہو جائے ۔ جو نشانیاں انجیل اور احادیث میں بیان ہوئی ہیں وہ تمام کی تمام دنیا کے تقریبا ہر خطے میں پوری ہو چکی ہیں۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (28-09-10), حیدر (28-09-10), سحر (28-09-10), شمشاد احمد (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 03:35 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,565
شکریہ: 8,802
5,786 مراسلہ میں 21,395 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عامر بھائی
آپ کی بات درست ہے کہ مسلم امت میں بھی بے حیائی عام ہوگئی ہے
لیکن حدیث کے مطابق سڑکوں اور بازاروں میں زنا کا ہونا ہے ۔
میں بھی مسلم اور غیر مسلم کئی ممالک جاچکی ہوں ۔
لیکن سڑکوں اور بازاروں میں بے حیائی ضرور ہوتی ہے لیکن زنا جیسی حرکت میں‌نے غیر مسلم ممالک میں
بھی سڑکوں اور بازاروں میں نہیں دیکھی
آپ نے پتا نہیں کہاں دیکھا ہے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی ہوں ۔
جہاں تک پاکستان اور مسلم ممالک کا تعلق ہے ۔ بے حیائی ہے لیکن ذیادہ تر چھپ کر ہوتی ہے ۔
یا ٹی وی ، فلموں کے ذریعے بے حیائی گھروں میں آگئی ہے
ابھی بھی سڑکوں ، بازاروں میں آپ کوئی غلط حرکت کرتا ہوا نظر نہیں آئے گا ۔
دیکھیں جب بھی بات کی جاتی ہے تو عمومی جگہوں پر لوگوں کے رویے کی بات کی جاتی ہے
بُرے لوگ تو ہر جگہ اور ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں ۔
باقی مسلم ممالک کا تو میں نہیں کہہ سکتی لیکن پاکستان میں اسی فیصد لوگ شرافت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔
اب بیس فیصد کی وجہ سے پورے اسی فیصد کو بھی بے حیا یا بد کردار نہیں کہا جاسکتا ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (28-09-10), مرزا عامر (28-09-10), جاویداسد (28-09-10), حیدر (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 03:52 PM   #9
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
لیکن حدیث کے مطابق سڑکوں اور بازاروں میں زنا کا ہونا ہے ۔
میں بھی مسلم اور غیر مسلم کئی ممالک جاچکی ہوں ۔
لیکن سڑکوں اور بازاروں میں بے حیائی ضرور ہوتی ہے لیکن زنا جیسی حرکت میں‌نے غیر مسلم ممالک میں
بھی سڑکوں اور بازاروں میں نہیں دیکھی
بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ حدیث میں کسی مسلم ملک کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا بلکہ اس طرح کے فعل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ اور میں کئی ممالک کے مسلم نوجوانوں کی مثال آپ کو دے چکا ہوں جنہوں نے ایسا کیا اور کر رہے ہیں۔ اور اس کا چشم دید گواہ میں خود ہوں بازاروں میں دیواروں کے پیچھے لیکن رات کے وقت ۔ خاص طور پر قبرستانووں میں یہ فعل اب تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ اسے ایک محفوظ جگہ سمجھا جاتا ہے۔اور امت اس میں ملوث ہو چکی ہے آپ مانیں یا نا مانیں۔
پھر یہ کہوں گا کہ صرف اس فعل کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے بلکہ قتل و غارت گری سے لیکر رشوت اور دغا بازی اور کتنے ہی جرائم ہیں جو ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں اور ہم ان پر نظر بھی ڈالنا گوارہ نہیں کر تے ۔ اسے ایک عام سی روٹین سمجھتے ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ فعل پوری دنیا میں عام ہو جائے ۔ بلکہ تمام برائیاں جن جن کی نشاندہی کی گئی تھی دنیا کے کسی نا کسی خطے میں اپنے عروج پر ہیں ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (28-09-10), جاویداسد (28-09-10), حیدر (28-09-10), سحر (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 04:00 PM   #10
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,680
کمائي: 52,585
شکریہ: 5,149
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
بازاروں میں دیواروں کے پیچھے لیکن رات کے وقت ۔ خاص طور پر قبرستانووں میں یہ فعل اب تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ اسے ایک محفوظ جگہ سمجھا جاتا ہے۔اور امت اس میں ملوث ہو چکی ہے آپ مانیں یا نا مانیں۔
توبہ توبہ اللہ کی پناہ ایسا بھی ہو رہا ہے
اللہ ہم سب کو زنا اور تمام کبیرہ گناہوں سے بچا کر رکھے آمین۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (28-09-10), جاویداسد (28-09-10), حیدر (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 05:32 PM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,509
کمائي: 118,686
شکریہ: 13,526
4,912 مراسلہ میں 16,705 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : جاویداسد مراسلہ دیکھیں
23 ستمبر 2010
لندن(نیٹ نیوز) برطانیہ اور امریکہ میں استانیوں کے طلباء سے جنسی تعلقات کے واقعات میں اضافے پر حکام نے تشویش ظاہر کی ہے ۔ ایک برطانوی سکول کی ٹیچر حنا پٹیل نے جو غیر حاضر رہنے والی ٹیچرز کی جگہ تعینات کی گئی تھی ، چند ہفتوں کے دوران دو طلباء کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے ۔ اس سکو ل میں گیارہ سے سولہ برس کی عمر کے طلبا ہیں ۔ اس گھناﺅنی حرکت کا پتہ چلنے پر اسے ملازمت سے نکال دیا گیا اور اس پر فرد جرم عائد کر کے مقدمہ قائم کیا گیا ۔
السلام علیکم

بریطانیہ میں 18 سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے پر قانون اور سزا بہت سخت ھے، جو کہ یہاں پر سب جانتے ہیں اس لئے یہ واقعہ ہزار میں سے ایک ھے جو رونما ہوا ، روزمرہ کا کام نہیں ھے یہ۔
انڈین ٹیچر تھی یہ سزا تو اسے جو ملے گی مگر اس کا ساری زندگی کا کیریئر بھی ساتھ میں تباہ ہو گیا، اس پر مقدمہ چلے گا پھر اسے سزا ملے گی سزا ختم ہونے کے بعد 5 سال تک اس کا نام بلیک لسٹ میں رہے گا یہاں تک اس کی سزا ھے اس کے بعد اس کا نام کمپیوٹر سے نکلے گا تو پھر یہ دوبارہ کہیں جاب حاصل کر سکے گے۔ اس کا طریقہ کار کیا ہوتا ھے اس پر بھی لکھ دیتا ہوں۔ جب کہیں جاب حاصل کی جاتی ھے تو اس پر جاب دینے والے سیکیورٹی کلیئرنس (ڈسکلوزر فارم ) بھی فل کر کے ایک ایجنسی کو بھیجتے ہیں جہاں سے 5 سال تک کا اس کا کریمینل ریکارڈ کا رزلٹ دیکھا جاتا ھے۔

16 سال کی عمر میں بچے جی۔سی۔ایس۔سی کر لیتے ہیں‌ اور ان کا نیشنل انشورنس نمبر بن کر گھر آ جاتا ھے اس کے بعد اگر وہ آگے پڑھنا چاہتا ھے تو ٹھیک ھے ورنہ وہ نوکری کر سکتا ھے اور جب تک نوکری نہیں ملتی سے اڈلٹ بینیفٹ ملیں گے۔

18 سال کی عمر کے بعد بچہ اے لیول /سکستھ فارم کر لیتا ھے اس کے بعد اگر تو اس کے پوائنٹس یونیورسٹی داخلہ کے بنے ہیں تو وہ آگے جائے گا ورنہ اسے پوائنٹس بنانے کے لئے دوبارہ محنت کرنی پڑے گی اگر نہیں تو وہ کسی اکیڈمی سے ٹیکنیکل کام سیکھ سکتا ھے، اگر یہ بھی نہیں تو پھر اس کی مرضی جانی جائے گی کہ وہ کیا کرنا چاہتا ھے جس پر اس کی مدد کی جائے گی ورنہ اسے نوکری یا کاروبار کرنا پڑے گا۔

18 سال کے بعد بچے یہاں کے قانون کے مطابق انڈیپنڈنٹ ہو جاتے ہیں وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں اگر الگ رہنا چاہیں تو گورنمنٹ انہیں رہائش فراہم کرتی ھے فری میں اور کھانے کے بینیفٹ بھی دیتے ہیں جب تک وہ کوئی کام نہیں ڈھونڈ لیتے۔

18 سال سے کم عمر کو کوئی بھی دکاندار یا سٹور والے سگریٹ نہیں دیتے جب تک وہ اپنی آئی ڈی نہ دکھائے جس پر اس کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو۔

21 سال سے کم عمر بچوں کو کوئی بھی دکاندار یا سٹور والا شراب نہیں بیچ سکتا جب تک وہ اپنی آئی ڈی نہ دکھائے جس پر اس کی عمر 21 سال سے زیادہ ہو۔ خلاف وردی کرنے والے کو جرمانہ ھے اور بار بار خلاف وردی پر سزا بھی۔

سنٹرل لندن جو کہ ٹورسٹ کا گڑھ ھے اس کی پبلک پلیسیز میں کچھ ناشائستہ حرکتیں دیکھنے میں آتی ھیں مگر اس پر بھی قانونی تقاضے ہیں ، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ پبلک پلیسیز میں زنا جیسا جرم بھی ہوتے ہیں، ایسا قطعاً نہیں سی۔سی۔ٹی۔وی کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ سب کو معلوم ھے کہ پبلک پلیسیز میں یہ جرم ھے اور اس کی سزا بھی ھے۔


حنا پٹیل
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (28-09-10), اویسی (28-09-10), جاویداسد (28-09-10), حیدر (28-09-10), شمشاد احمد (28-09-10), عبدالقدوس (30-09-10)
پرانا 28-09-10, 09:18 PM   #12
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
توبہ توبہ اللہ کی پناہ ایسا بھی ہو رہا ہے
اللہ ہم سب کو زنا اور تمام کبیرہ گناہوں سے بچا کر رکھے آمین۔
جی عاصم بھائی اسی طرح کے ریمارکس یورپینز کے بھی ہوتے ہیں جب وہ ہمارے ملکوں میں قتل و غارت گری ، لوٹ مار اور لاقانونیت کی خبریں سنتے ہیں۔


اقتباس:
سنٹرل لندن جو کہ ٹورسٹ کا گڑھ ھے اس کی پبلک پلیسیز میں کچھ ناشائستہ حرکتیں دیکھنے میں آتی ھیں مگر اس پر بھی قانونی تقاضے ہیں ، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ پبلک پلیسیز میں زنا جیسا جرم بھی ہوتے ہیں، ایسا قطعاً نہیں سی۔سی۔ٹی۔وی کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ سب کو معلوم ھے کہ پبلک پلیسیز میں یہ جرم ھے اور اس کی سزا بھی ھے۔
جی کنعان بھائی لندن میں پبلک پلیسس تو نہیں لیکن کھلے آسمان تلے کچھ نا کچھ تو ہوتا ہو گا۔ لندن کا میں وسوق سے نہیں کہ سکتا لیکن انگلینڈ میں جس جگہ میری رہائش تھی اس جگہ کا نام تھا Trowbridge یہ برسٹل سے صرف 40 منٹ کے فاصلے پر ہے اگر آپ ٹرین سے سفر کریں تو۔ بدھ ، جمعہ اور ہفتہ کی رات کو جب نائٹ کلب ختم ہوتا ہے تو کاروں میں اور گلیوں کی دیواروں کے پیچھے بہت کچھ دیکھنے کو مل جاتا ہے ۔ اس میں کئی مرتبہ میں نے ان مسلمانوں کو بھی ملوث پایا جنہیں میں جانتا تھا ۔
اکثر اس وقت ہی دیکھنے کو ملتا تھا جب میں فیکٹری سے اپنی شفٹ ( رات 2 بجے ) ختم کر کے آ رہا ہوتا تھا۔
اس کے علاوہ دن میں میں نے دریا اور جھیلوں کے کنارے سویڈن اور جرمنی میں تو دن کے وقت بہت کچھ دیکھا ۔ یہ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے ۔لیکن یہ حدیث میں نے حال ہی میں سنی تھی جس کے مکمل الفاظ یاد نہیں ہیں۔ کہ جب زنا گلیوں میں ہونے لگے تو سمجھ لینا آخری وقت بہت قریب آ گیا ہے ۔
میرے کچھ دوست قسم کھا کر جو حال ممشرق کے ان ممالک کا بتاتے ہیں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے تو آپ سمجھ لیں کہ حد ہی ہو چکی ہے ۔ اور یہ میں نے صرف ان ممالک کا ذکر کیا ہے جہاں میرے دوست رہتے ہیں۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (29-09-10), حیدر (28-09-10), شمشاد احمد (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 09:51 PM   #13
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,688
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
شمشاد بھائی
جہاں تک یہ حدیث میں نے پڑھی ہے
قرب قیامت کے متعلق اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امت کا ذکر کیا ہے ۔
الحمداللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ کی امت پر ابھی ایسا وقت نہیں آیا ۔
اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح کردیں
شکریہ
سحر بهن جي۔۔ اصل حديث چونكه مجھے صحيح ياد نهيں تھي اس لئے خلاصه كا مفهوم هي اپنے الفاظ ميں بيان كيا تھا۔۔۔ اس اس حديث ميں الفاظ كياهے كوشش كرتا هوں تلا كرنے كي مل جائے تو پيش كر دوں گا۔۔۔۔
باقي جو آپ نے كها هے كه ۔۔۔۔ ميري امت۔۔۔۔ كا ذكر هے تو بهن

كافر يا مسلمان سب هي حضور صلي الله عليه واله وسلم كي امت هيں۔۔۔ بس فرق صرف ا تنا ساهے كه هم امت اجابت هيں اور كافر امت دعوت هيں۔ باقي زنا جيسي بدكاري كي جو هم بات كر رهے هيں اس ميں ميں عامر بھائي اور دوسرے حضرات سے متفق هوں نه صرف مسلمانوں ميں بلكه پاكستان تك كے حالات كافي خراب هو چكے هيں۔۔۔۔۔ اگر گليوں بارزاوں ميں زنا جيسي صورتحات عام تو نهيں ليكن جو دواعي زنا هيں وه بھر پور موجود هيں۔۔۔۔ اور جيسے جيسے هماري روشن خيال ميں اضافه هوتا جائے گا۔۔۔ اسي حساب سے صاد المصدوق صلي الله عليه واله وسلم كي بيان كرده پيشن گوئياں سچ ثابت هوتي جائيں گي‘۔۔
شمشاد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (28-09-10), حیدر (28-09-10), سحر (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 11:35 PM   #14
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,509
کمائي: 118,686
شکریہ: 13,526
4,912 مراسلہ میں 16,705 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
جی کنعان بھائی لندن میں پبلک پلیسس تو نہیں لیکن کھلے آسمان تلے کچھ نا کچھ تو ہوتا ہو گا۔ لندن کا میں وسوق سے نہیں کہ سکتا لیکن انگلینڈ میں جس جگہ میری رہائش تھی اس جگہ کا نام تھا Trowbridge یہ برسٹل سے صرف 40 منٹ کے فاصلے پر ہے اگر آپ ٹرین سے سفر کریں تو۔ بدھ ، جمعہ اور ہفتہ کی رات کو جب نائٹ کلب ختم ہوتا ہے تو کاروں میں اور گلیوں کی دیواروں کے پیچھے بہت کچھ دیکھنے کو مل جاتا ہے ۔ اس میں کئی مرتبہ میں نے ان مسلمانوں کو بھی ملوث پایا جنہیں میں جانتا تھا ۔
اکثر اس وقت ہی دیکھنے کو ملتا تھا جب میں فیکٹری سے اپنی شفٹ ( رات 2 بجے ) ختم کر کے آ رہا ہوتا تھا۔
السلام علیکم مرزا بھائی

دھاگہ یا خبر سکول ٹیچر کی لگی تھی اور اس کے ساتھ جو کمنٹس پیش ہوئے تھے میں نے اسی حساب سے مثبت معلومات فراہم کی تھیں۔ آپ انگلینڈ میں رہے ہیں مگر آپ کو بھی شائد بہت سی معلومات کا علم نہیں میں اس کی آپکو درستگی اور اضافیت کے ساتھ مزید معلومات فراہم کر دیتا ہوں۔ جو میں نے آپکی عبارت کوٹ کی ھے اس کے مطابق۔

پبلک کا وقت صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک کا ھے۔ اس کے بعد کوئی بھی فیملی باہر نہیں نکلتی اپنے بچوں کے ساتھ گھروں میں ہی رہتے ہیں۔

5 بجے کے بعد ہوٹلز۔ کلبز، پبز وغیرہ کا کا کام ھے جو صبح 5 بجے تک کا ھے۔ جن کاموں کا آپ نے ذکر کیا ھے اس پر ہر بڑے سے بڑا شہر، اور چھوٹے سے چھوٹا گاؤں ان سب کا ایک سنٹرل ہوتا ھے، یہ سب ہوٹلز، پبز، کلبز جو سینٹرل میں ہوتے ہیں وہاں رات کے اندھیرے میں کیا ہوتا ھے تو بھائی وہ تو یہاں کے رہائشی بھی اپنے بچوں کو دکھانے نہیں جاتے نہ سینٹرل میں اور نہ ان گلیوں میں۔ اور رات کو اندھیرے والے کام کونسا ملک یا شہر ھے جہاں نہیں ہوتے۔ کیا پاکستان میں یہ راتوں والے کام نہیں ہوتے کچھ مخصوص جگہوں پر جو گورنمنٹ کی طرف سے لائسنسز ہیں اور کچھ پرائیویٹ۔

مرزا بھائی کیا آپ نے جلدی میں آؤٹ آف ٹاپک تو یہ معلومات نہیں لکھ دیں۔ میرے پہلے مراسلے پر ایک مرتبہ پھر توجہ فرمائیں جو دھاگہ کی مناسبت سے لکھا تھا۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (28-09-10)
پرانا 28-09-10, 11:35 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 96,005
شکریہ: 52,538
11,183 مراسلہ میں 35,271 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پیش گوئیوں کے سچ ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں۔ تاہم میں محترمہ سحر کے "کھلے عام اخلاقی بے راہ روی" کے شکار 20 فیصدی کو دس فیصد سے بھی کم بتاؤں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پارکوں ، ہوٹلوں، وغیرہ میں مخرب الاخلاق مناظر نظر آ جاتے ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر لوگ ان حرکات میں ملوث ہوتے ہیں۔ اندرونی صورت حال زیادہ خراب ہو سکتی ہے کیونکہ "پیسہ کمانے والے جس بھی ادارے" میں میرے واقفین ہیں وہاں شراب نوشی کی شرح 50 فیصد سے زائد ہے۔ اور شراب ام الخبائث ہے۔

تاہم مجھے "شک" ہے کہ اللہ عموماً چھپے ہوئے گناہوں کی سزا کھلے عام نہیں دیتا۔ کیونکہ اللہ عیب چھپانے والے کو پسند کرتا ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (29-09-10), مرزا عامر (28-09-10), عبدالقدوس (30-09-10)
جواب

Tags
color, ہے۔, ہے،, گھر, گئی, واقعات, والی, قید, نیوز, ماں, مطابق, آزادی, الزام, امریکہ, استعمال, بہترین, جیل, جائے, جرم, حنا, خدشہ, سال, علم, عائد, صلاحیتیں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاسی دروازے بند نہیں ہوتے ، مل کر جمہوریت مستحکم کریں گے : بابر ، پرویز ملاقات میں اتفاق جاویداسد خبریں 0 25-10-10 10:24 PM
بھارت میں " بعض " کھلاڑی کنٹر ول میں نہیں تھے،ڈسپلن توڑنے والوں کو آئندہ قو می ٹیم میں جگہ نہیں ملے گی،نسیم اشر ف خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 17-12-07 02:50 PM
اسلام آباد میں ہائی کورٹ کا قیام، پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کیلئے پنشن، ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کی عمر میں کمی، آئینی ترمی عبدالقدوس خبریں 0 15-12-07 07:46 AM
ڈرا کیلئے نہیں صرف جیت کیلئے میدان میں اتریں گے،یونس خان،کپتانی سے بھاگتا ہوں یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 08-12-07 08:13 AM
انڈین لیگ کھیلنے والوں پرتاحیات پابندی کا فیصلہ نہیں کیا،نسیم اشرف،قومی ٹیم میں کبھی منتخب نہیں کرینگے،شفقت نغمی خرم شہزاد خرم کرکٹ 9 23-08-07 04:47 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:39 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger