بھارت کے شہر ممبئی میں پولیس نے دوران تفتیش فیض عثمانی نامی شخص کی موت کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
فیض عثمانی کو سنیچر کو ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش کے حوالے سے تحویل میں لیا گیا تھا اور اس کے بیس منٹ کے بعد ہی انھوں نے پیٹ درد کی شکایت کی اور قے کرنا شروع کی دی، جس پر انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ہسپتال میں طبی معائنے پر معلوم ہوا کہ ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی ہے اور اتوار کی صبح ان کی موت واقع ہو گئی۔
ممبئی پولیس کے ترجمان نثار تمبولی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ فیض عثمانی ہائپرٹینشن میں مبتلا تھے اور ان پر پولیس تشدد کے الزامات بلکل بے بنیاد ہیں۔
ہسپتال کے سربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ فیض عثمانی کو ہاٹ اٹیک ہوا تھا تاہم ان کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں پائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ فیض عثمانی کے اہل خانے اور پڑوسیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی موت تفتیش کی دوران ہونے والے جسمانی تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔
فیض عثمانی کے عزیزوں کے مطابق وہ بلکل صحت تھے۔
فیض عثمانی کے بیٹے عظیم عثمانی نے اخبار دی ہندو کو بتایا کہ’جب وہ گھر سے روانہ ہوئے تو ٹھیک لگ رہے تھے اور یہ سب کچھ پولیس کی وجہ سے ہوا ہے۔‘
فیض عثمانی افضل عثمانی کے بھائی ہیں جو احمد آباد بم دھماکوں کے سلسلے میں فی الحال جیل میں بند ہیں۔
ممبئی میں 13 جولائی کو بم دھماکے ہوئے تھے جس میں پولیس کے مطابق اب تک انیس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سو سے زیادہ زخمی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی تفتیش جاری ہے۔ اس سمت میں انہیں کوئی اہم سراغ نہیں ملے ہیں۔
دریں اثناء تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں مبینہ طور پر مطلوب ایک شخص کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔
مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق تفتیش کار بم دھماکوں کی جگہ سے حاصل ہونے والی ویڈیو فوٹیج اور فورنسک شواہد کا معائنہ کر رہے ہیں اور ان کو امید ہے کہ اس سے تفتیش آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔
خ