واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


متاثرین سیلاب سے تک جہتی کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی پاکستان آمد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-08-10, 03:28 AM   #1
متاثرین سیلاب سے تک جہتی کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی پاکستان آمد
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 16-08-10, 03:28 AM

سیلاب 2005ء کے زلزلے سے بڑا سانحہ ہے ‘ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ‘ مزید ایک کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد اور 60 لاکھ افراد کو صاف پانی کی فراہمی کا اعلان،عالمی برادری سے مدد کی اپیل

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی‘نیوزرپورٹر‘این این آئی‘اے پی پی‘آن لائن) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون متاثرین سیلاب سے اظہار یکجہتی کیلئے گزشتہ روز پاکستان پہنچے انہوں نے حالیہ سیلاب کو پاکستان میں 2005ء کے زلزلے سے بھی بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ متاثرین سیلاب سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان آئے ہیں۔ اتوار کے روز جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کے بعد چکلالہ ایئربیس پر صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے۔ ا قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کے متاثرین سیلاب کیلئے مزید ایک کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد،بچوں اورحاملہ خواتین کیلئے خصوصی پروگرام شروع کرنے اور60لاکھ افراد کو صاف پانی اورخوراک اور ایک کروڑ 40 لاکھ متاثرین کو ایمرجنسی ہیلتھ کیئر کی سہولت کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب جیسی تباہی انہوں نے آج تک نہیں دیکھی متاثرین کی ممکنہ تعداد دو کروڑ ہوسکتی ہے ہر دسواں پاکستاانی براہ راست یا بالواسطہ طورپرمتاثرہوا ہے پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل صورتحال میں دنیا کا ساتھ دیا اب دنیا بھی پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو سیلاب سے تباہی بے مثال ہے اس لئے امداد بھی بے مثال ہونی چاہیے ۔ بان کی مون نے کہا کہ دنیا بھرمیں انہوں نے کئی قدرتی آفات دیکھی ہیں لیکن جس قدرتباہ کاری پاکستان میں آنیوالے سیلاب سے ہوئی ہے ایسی کہیں نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ سیلاب سے ہونیوالے نقصانات پاکستان میں2005ء کے زلزلے اور عالمی سطح پرقدرتی آفات سے حالیہ عرصے میں ہونیوالی کسی بھی تباہی سے کہیں زیادہ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی اب تک فراہم کی جانیوالی امداد 2کروڑ 70لاکھ ڈالرہوگئی ہے ۔ سیکرٹری جنرل نے کہاکہ اقوام متحدہ کی طرف سے 46 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کے جواب میں عالمی برادری کی طرف سے فراخدلانہ رد عمل سامنا آیا ہے انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کی طرف سے مذکورہ اپیل ہنگامی ضروریات کیلئے 90 روز کے عرصہ کیلئے کی گئی ہے متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے عمل میں اقوام متحدہ بھرپور شرکت کریگی اور اس حوالے سے عالمی برادری کے ساتھ ملکر مزید فنڈز کے بارے میں مشاورت کی جائے گی انہوں نے کہاکہ وہ 19اگست کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان میں سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کی رپورٹ پیش کرنے کے علاوہ آنیوالے دنوں میں عالمی سطح کے اہم اجلاسوں میں بھی اس حوالے سے تبادلہ خیال کرینگے اورپاکستان کی مزیدامداد کاجائزہ لیاجائیگا۔ایک سوال کے جواب میں بان کی مون نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے متاثرین سیلاب کی تیزی سے مدد کررہی ہے ہوسکتاہے عالمی برادری کی طرف سے ابتداء میں اس تیزی سے رد عمل سامنے نہ آیا ہو جیسا زلزلے کے بعد دیکھاگیا کیونکہ زلزلے نے لمحوں میں سب کچھ ملیامیٹ کردیاتھا جبکہ سیلاب کادائرہ کاربتدریج پھیلاہے۔انہوں نے کہاکہ سیلاب کی شدت بہت زیادہ ہے لیکن اس سے نمٹنے کیلئے وسائل بہت کم ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکام نے امدادی سرگرمیوں کیلئے آنیوالے عالمی اداروں کے کارکنوں کو ویزوں کے فوری اجراء کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جو خوش آئند ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت نے تمام وسائل کو متحرک کررکھاہے فوج اور عوام ایک ہوگئے ہیں پاکستانی بہادر قوم ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ اس بحران کا جرات مندی سے مقابلہ کرینگے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدرآصف علی زرداری نے عالمی برادری سے پاکستان کی مدد کیلئے آگے آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اقوام متحدہ کی آواز سنے انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے روز سے ہی ذمہ دارانہ کردار ادا کررہی ہے اورتمام وسائل کو متاثرین کی مدد کیلئے استعمال کیاجارہا ہے وزیراعظم نے چاروں صوبوں اورمتاثرہ علاقوں کے دورے کئے فوج ،رینجرز ،نیوی اور ایئرفورس کے علاوہ پارٹی کے کارکن متاثرین کی مددکیلئے سرگرم ہیں انہوں نے کہاکہ پہاڑوں کی وجہ سے جن علاقوں تک ہمارے لئے رسائی ممکن نہیں وہاں کے متاثرین کیلئے خوراک کے چالیس ہزار پیکٹ فضاء سے گرانے کیلئے چین سے درخواست کی ہے انہوں نے کہاکہ حالیہ سیلاب جیسی تباہی نہ توکبھی ہمارے خطے میں اورنہ ہی دنیامیں ہوئی ہے صدرزرداری نے کہاکہ طویل مدتی پروگرام کے تحت تعمیرنو اوربحالی کا عمل سرانجام دیاجائیگااور اس سلسلہ میں دو سال تک کام کیاجائیگا انہوں نے کہا کہ میں خود کاشتکارہوں جیلوں میں رہا ہوں اور سیاسی تحریکوں میں حصہ لیا ہے اس لئے میں تمام صورتحال کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں مجھے معلوم ہے کسانوں کو کھاد اور بیج کی ضرورت ہوگی انہوں نے کہاکہ ہم نے ہرآفت کاپہلے بھی دلیری سے مقابلہ کیا موجودہ آزمائش سے بھی کامیابی سے نکلیں گے انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے دورہ پاکستان پرمشکور ہیں جس کے نتیجے میں دنیا کو ہماری مشکلات سمجھنے میں مدد ملی گی۔ انہوں نے کہاکہ میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا پوری قوم اوردنیا کو میرے ساتھ کھڑا ہونا پڑیگا۔صدرزرداری نے اس موقع پراقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر عبداللہ حسین ہارون کابھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے سیکرٹری بان کی مون کو پاکستان آنے پر قائل کیا۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون نے صدر‘ وزیراعظم سے الگ الگ ملاقاتوں کے علاوہ متاثرہ علاقوں مظفر گڑھ‘ میانوالی‘ راجن پور‘ڈیرہ غازی خان اور تونسہ کا فضائی جائزہ لیا۔ بان کیمون نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے متاثرین کی بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے اور اقوام متحدہ کی طرف سے مکمل کردار ادا کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔چکلالہ ائربیس پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان میں سیلاب کے متاثرین سے اظہار ہمدردی اور یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کی حکومت اور عوام کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ اس مشکل گھڑی میں پوری دنیا پاکستان کے ساتھ ہے اور سیلاب سے جو تباہ کاریاں ہوئی ہیں ان سے نمٹنے کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری پاکستان آمد کا مقصد پاکستانی حکومت‘ عوام اور بالخصوص سیلاب سے متاثرہ گھرانوں سے ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث پاکستان کی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی زیادہ سے زیادہ مدد کرے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کو بہترمستقبل کی فراہمی کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس موقعہ پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے متاثرین سیلاب سے یکجہتی کیلئے پاکستان آمد پر سیکرٹری جنرل بان کی مون کے تہہ دل سے مشکور ہیں اس موقعہ پر وزیرداخلہ رحمان ملک اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون بھی موجود تھے۔ بعدازاں بان کی مون نے ایوان صدرمیں صدرآصف علی زرداری سے ملاقات کی اور ان سے سیلاب کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا اس موقع پروجے نمبیار،انڈرسیکرٹری جنرل سرجان ہالمز،پاکستان میں امداد کیلئے خصوصی نمائندے جین مارس ریپرٹ سمیت اقوام متحدہ کے دیگرافسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ صدرآصف علی زرداری نے سیکرٹری جنرل کوملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب سے ہونیوالے مالی ،جانی، زرعی اورڈھانچہ جاتی نقصانات سے آگاہ کیا صدر نے بتایا کہ ملک میں مجموعی طورپر 71اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان میں خیبر پختونخواہ کے24، سندھ میں19 ،پنجاب میں8 ،آزاد جموں کشمیرمیں 7،گلگت بلتستان میں7 اور بلوچستان میں6اضلاع شامل ہیں۔ 1400افراد جا ں بحق ہوئے جبکہ 7لاکھ بیس ہزار مکانات کو نقصان پہنچا12 لاکھ افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صدر نے کہاکہ چیلنج اتنا بڑا ہے کہ حکومت یا کوئی بھی پارٹی تنہا مقابلہ نہیں کرسکتی پاکستانی عوام، تارکین وطن اور عالمی برادری وامدادی اداروں کے تعاون سے ہی صورتحال بہتر ہوسکتی۔ دریں اثناء بان کیمون وزیراعظم گیلانی سے بھی ملے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی مصیبت کی اس گھڑی میں مدد اور اظہار یکجہتی کیلئے عالمی برادری‘ عالمی کارپوریٹ لیڈرز اور سول سوسائٹیز کو مؤثر پیغام بھیجے۔ وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پر 19اگست کو بلایا جانے والا خصوصی اجلاس متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے عالمی برادری کو فعال کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ بان کی مون سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے امدادی سرگرمیوں میں ذاتی دلچسپی لینے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا اور انکے دورہ پاکستان کو اس مشکل وقت میں متاثرین سیلاب اور حکومت پاکستان کیلئے حوصلہ افزاء قرار دیا۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو غیرمعمولی قدرتی آفت سے ہونے والی تباہی خصوصاً انسانی جانوں اور املاک کی تباہی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے متاثرین کی فوری ضرورت کے چار شعبوں کی نشاندہی کی جن میں خیموں کی فراہمی‘خورک‘ادویات اورواٹر فلٹریشن پلانٹس کی فراہمی شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تعمیر نو کے کام میں کئی سال لگیں گے لیکن پاکستان کو ان متاثرہ علاقوں میں بعض اہم ضروری سڑکیں اور پل تعمیر کرنے کی فوری ضرورت ہے جو ملک کے دوسرے حصوں سے کٹ چکے ہیں اور جہاں محصور ہونے والے افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے متاثرہ علاقوں میں سیلاب کی دوسری اور تیسری لہر مزید نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرنا انکا فرض تھا تاکہ وہ سیلاب کی صورتحال کا خود جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ نے اپنے سنٹرل ایمرجنسی ریسپانس فنڈ سے 27ملین ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور پاکستان کے سیلاب زدگان کیلئے عالمی برادری سے 459 ملین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔ بان کی مون نے کہا کہ ایک ماہ بعد اس اپیل پر ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر حکومت پاکستان نے تخمینہ لگا کر زیادہ نقصان بتایا تو اپیل کی رقم پر بھی نظرثانی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد وہ 19اگست کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے اور پاکستان کی امداد کیلئے عالمی برادری کو فعال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں احباب پاکستان کے اجلاس اور عالمی بینک و آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں بھی یہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جس طرح حکومت پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہیں اسی طرح اقوام متحدہ کیلئے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے پہلے ہی امدادی سرگرمیوں پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ اقوام متحدہ کے ادارے حکومت پاکستان سے کوآرڈینیشن اور حکومت پاکستان کی سربراہی میں امدادی سرگرمیاں کریں گے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی‘ وزیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سینیٹر سید صغریٰ امام‘ سیکرٹری خارجہ امور‘چیئرمین این ڈی ایم اے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عبداللہ حسین ہارون بھی ملاقات میں موجود تھے۔بعدازاں بان کی مون نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا اس موقع پر صدر آصف علی زر داری اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سمیت دیگر شخصیات بھی ان کے ہمراہ تھیں ان کے دورے کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے حتیٰ کہ سیکرٹری جنرل کی ملتان ائیر پورٹ پر طلب کی گئی پریس کانفرنس بھی عین وقت پر منسوخ کر دی گئی سیکرٹری جنرل نے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں انتہائی تشویشناک ہیں لاکھوں افراد کی بحالی کیلئے اقوام متحدہ بھرپور کردار ادا کرے گا ۔انہوں نے جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع جن میں مظفرگڑھ، لیہ، میانوالی، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف اور دیگر علاقوں کافضائی جائزہ لیا ۔ پاکستان کے حالیہ سیلاب کو تاریخ کا بدترین سیلاب قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ نے متاثرہ لاکھوں خاندانوں کیلئے عالمی برادری سے بڑے پیمانے پرامداد کی اپیل پہلے ہی کی ہوئی ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فضائی جائزہ کے دوران بان کی مون کو متاثرہ علاقوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے رہے۔سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کی وجہ میڈیا پرسن سمیت کسی کو بھی ائیرپورٹ کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ مظفر گڑھ کی سلطان کالونی میں قائم کئے گئے ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں پر متاثرین سے ان کی مشکلات معلوم کیں۔ اس موقع پر متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ وہ تباہ کن سیلاب سے دربدر متاثرین کی حالت اور مشکلات سے دنیا کو آگاہ کرینگے۔ اس دوران صدر آصف علی زرداری اور بان کی مون متاثرین میں گھل مل گئے۔ صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین سیلاب کی مشکلات اور ضروریات سے پوری طرح باخبر ہیں اور انہیں ریلیف کی فراہمی اور دوبارہ آبادکاری کو یقینی بنانے کیلئے تمام حکومتی وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو پورے پاکستان بالخصوص جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر جامع بریفنگ دی گئی۔ بان کی مون نے متاثرہ افراد میں امدادی اشیاء بھی تقسیم کیں اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد بھی موجود تھے۔


روزنامہ جنگ کی خبر

Attached Thumbnails
ban-ki-moon-01.jpg   ban-ki-moon-02.jpg   ban-ki-moon-03.jpg  

__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 61
Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, لمحوں, چین, مکمل, موقع, موجودہ, مقابلہ, معلوم, آج, اقوام متحدہ, جواب, خواتین, خوش, خان, درخواست, زرداری, سال, علی, صورتحال, صاف, صدر, صدر‘


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستان: نظریاتی اساس پر سیکولر لابی کی یلغار ھارون اعظم سیاست 3 15-03-11 05:01 PM
ہندوستانی امداد قبول کرنے پر پاکستانی تقسیم :بھارتی نیوز ایجنسی جاویداسد خبریں 1 21-08-10 10:46 PM
سڈل نے سیکڑوں کانسٹیبلز بھرتی کرنیکی جمالی کی فرمائش مسترد کر دی تھی عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:18 AM
نواز شریف نے سرکاری خرچ پر سیکیورٹی کی حکومتی پیشکش مستردکردی عبدالقدوس خبریں 1 13-04-08 08:24 AM
سیکورٹی خدشات: بھارتی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ملتوی عبدالقدوس خبریں 0 06-01-08 07:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger