واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


مجرموں کے خلاف اقدامات کی رپورٹ روزانہ دی جائے، کراچی بدامنی کیس کا عبوری حکم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-09-11, 03:44 AM   #1
مجرموں کے خلاف اقدامات کی رپورٹ روزانہ دی جائے، کراچی بدامنی کیس کا عبوری حکم
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 16-09-11, 03:44 AM

جس دن عدلیہ کو لپیٹنے کی کوشش کی گئی سب ختم ہوجائے گا، بھارت میں غیر آئینی اقدام پر استعفے دئیے گئے، چیف جسٹس
ماتحت عدالتیں روزانہ سماعت کرکے جلداز جلد فیصلے کریں، صوبائی حکومت تفتیش و استغاثہ کی ضروریات پوری کرے، ڈی آئی جیز سے بھتہ خوری پر قابو پانے کا تحریری سر ٹیفکیٹ لیا جائے
شہید کئے جانے والے 19 وکلاء کے لواحقین کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں، معزز ممالک میں مجرموں کو کھلی چھٹی نہیں دی جاتی، عدالت، ازخود نوٹس پر فیصلہ محفوظ
کراچی(نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی پر از خود نوٹس کے کیس میں فےصلہ محفوظ کرتے ہوئے عبوری حکم دیا ہے کہ مجرموں کے خلاف اقدامات کی رپورٹ روزانہ بنیادوں پر دی جائے، ماتحت عدالتیں روزانہ سماعت کرکے جلداز جلد فیصلے کریں، صوبائی حکومت تفتیش و استغاثہ کی ضروریات پوری کرے، ڈی آئی جیز بھتہ خوری پر قابو پانے کا تحریری سرٹیفکیٹ دیں،شہید کئے جانے والے 19 وکلاء کے لواحقین کو 3 لاکھ روپے فی کس دیئے جائیں، دوران سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں متنبہ کیا کہ جس دن عدلیہ کو لپیٹنے کی کوشش کی گئی سب کچھ ختم ہوجائےگا، ان کا کہنا تھا کہ جب تک عدالتیں آزادانہ کام کرتی رہیں گی اورلوگوں کو حقوق ملتے رہیں گے تو کوئی غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام نہیں کرسکتا، یہ نہیں کہاجا سکتا کہ حکومت اس صورت حال کی ذمہ دار نہیں، انہوں نے آبزرویشن دی کہ معزز ملکوں میں مجرموں کو کھلی چھٹی نہیں دی جاتی، جسٹس سرمد جلال عثمانی نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ کراچی بند کیسے ہوتا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ آخریہ کیسے ہوتا ہے میں نے کوئی ہڑتال ناکام ہوتے نہیں دیکھی اس دوران یومیہ کمانے والوں کا کیا ہوتا ہے؟ اس پر وفاق کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم بات چیت سے مسائل سلجھا رہے ہیں، ہر ایک کے پیچھے ڈنڈا لے کر نہیں پھر سکتے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری، مسٹر جسٹس سرمد جلال عثمانی، مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی، مسٹر جسٹس امیرہانی مسلم اور مسٹر جسٹس غلام ربانی پر مشتمل لارجر بنچ نے کراچی میں ٹارگیٹ کلنگ کے سلسلہ میں ازخود نوٹس کی سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ غیرمعینہ عرصہ تک محفوظ کرلیا۔ 24 اگست کو سپریم کورٹ نے کراچی میں بدامنی کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کیا تھا وفاقی، صوبائی حکومتوں کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ، فرینڈز آف لیاری انٹرنیشنل، بلوچ اتحاد، پنجابی پختون اتحاد، سندھ بچاو کمیٹی، عوامی تحریک، نیشنل عوامی پارٹی، مسلم لیگ نواز کے وکلاء، کراچی بار ایسوسی ایشن، ملیر بار ایسوسی ایشن نے اپنا اپنا موقف پیش کیا سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاکہ عدالت از خود نوٹس واپس لینے کو تیار ہے اگر حکومت لکھ کر دے کہ کل سے کراچی میں امن ہوگا ایک بندہ بھی نہیں مرے گا، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں بار بار واضح کیا ہے کہ غیر آئینی عمل بند ہوجانا چاہیئے سب کو بتادینا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں آئین و جمہوریت کے علاوہ کوئی چیز قابل قبول نہیں میرا بھائی مرے گا میرا دل جلے گا خدا کسی کو یہ غم نہ دے پانچ رکنی بنچ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ایک عبوری حکم کے ذریعہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتح ملک کو دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں جمع کرائے ان مقدمات کی سماعت کرنے عدالتوں کو روزانہ سماعت کرکے جلد از جلد فیصلے کرنے اور صوبائی حکومت کو تفتیش استغاثہ کی ضروریات پوری کرنے کا حکم دیا ہے لارجر بنچ نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد عاقل، سیکریٹری حیدر امام رضوی، افتخار جاوید قاضی، شمروز خان وغیرہ کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتح ملک کو ہدایت کی ہے کہ شہید کیے جانے والے 19 وکلاءکے لواحقین کو فی کس 3لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ معاوضہ کی رقم ادا کردی جائے گی ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا نے آج عدالت کو بتایا کہ شہر میں بھتہ خوری کافی کم ہوگئی ہے جس پر چیف جسٹس نے انہیں حکم دیا کہ اپنے ماتحت چاروں ڈی آئی جیز سے تحریری سرٹیفکیٹ لیں کہ بھتہ خوری پر قابو پالیا گیا ہے وفاق کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہاکہ کراچی کے ایک سو 12 تھانوں میں سے 30 تھانوں میں امن وامان کا مسئلہ ہے، کلفٹن، کے ڈی اے اسکیم ون، آئی آئی چندریگرروڈ،ڈیفنس اور ان جیسے 82 تھانوں کی حدود میں منظم جرائم نہیں ہوئے جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ اس کا کریڈٹ پولیس کو نہیں جاتا بلکہ ان علاقوں میں زیادہ پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیںبابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ یہ کہنا غلط ہے کہ کراچی میں ہر چیز ناکام ہوگئی ہے کراچی میں ایک ہزار کالجز اور یونیورسٹیاں ہیں یہ سب جنوری سے اگست 2011 کے دوران کھلے رہے بابر اعوان نے کہاکہ ہر جرم کسی نہ کسی انداز میں بنیادی انسانی حقوق کی نفی کرتا ہے بنیادی سوال یہ ہے کہ خلاف ورزی کون کرتا ہے کراچی میں شہریوں کے درمیان رقابتوں کا نتیجہ ہے جن کی بنیاد سیاسی نظریات ہیں جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ میرے خیال میں ان کی بنیاد سیاسی نظریات نہیں بلکہ معاشی اور معاشرتی اختلافات ہیں ۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ اس شہر میں 20 سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اپنی ذمہ داری دیکھنے کے لیے اپنی ہی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پڑھ لیں ایک زمانہ تھا کہ لوگ آئین سے باہر حل تلاش کرتے تھے ہم حیران ہیں کہ آئین کے ہوتے ہوئے راست اقدام سے ہچکچاتے ہیں ۔ آپ آئین کے اندر سے مسئلے کا حل نکالیں آپ کے تمام اقدامات کے باوجود حالات نہیں سنبھلے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ اس ملک میں آمروں نے تین مرتبہ ریفرنڈم کے ذریعہ اپنے آپ کو مضبوط کیا چیف جسٹس نے کہاکہ یہ سب کچھ ہم نے دفنا دیا اب ایسا کبھی نہیں ہوگا عدالتیں کام کررہی ہیںجس دن عدالتوں کو لپیٹنے کی کوشش کی گئی سب کچھ ختم ہوجائے گا آئین میں ہر مسئلہ کا حل ہے یہ گرین بک ہمارے لیے بہت مقدس ہے اب کوئی بھی جج غیر آئینی حلف نہیں لے سکتا ہم نے یہ فیصلہ اس وقت دیا جب اٹھارویں ترمیم نہیں آئی تھی جسٹس غلام ربانی نے استسفار کیا کہ واحد سوال یہ ہے کہ فسادیوں کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے بابر اعوان نے کہاکہ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے کارروائی ہورہی ہے چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کہنا کہ آئین میں مسئلہ کا حل نہیں تھا اس لیے ماورائے آئین اقدام کیا گیا اب کسی صورت قابل قبول نہیں ہے بنگلہ دیش اور ہندوستان میں بحران کے باوجود آئین کی پابندی کی گئی جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ آپ استادوں کے استاد لالو پرشاد سے سبق حاصل کریں بابر اعوان نے کہاکہ حکومت ایک لمحہ کے لیے بھی عدالتوں کے اختیارات معطل کرنا نہیں چاہتی لیکن آرٹیکل 234 کے تحت ایسا کیا جاسکتا ہے بابر اعوان نے تسلیم کیا کہ سندھ میں پولیس افسران اور جوانوں کے قتل کی شرح تمام صوبوں میں سب سے زیادہ ہے 1900 پولیس والے قتل ہوئے جس میں سے 92 افسران ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری نظر میں پولیس افسر اور جوان کا قتل یکساں ہے ہم دونوں کی عزت کرتے ہیں جسٹس غلام ربانی نے کہاکہ ہم یہی تو کہہ رہے ہیں کہ انہیں شہید کرنے والوں کے خلاف آپ نے کیا کارروائی کی؟ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ حالات بد سے بد تر ہورہے ہیں ہم نے کئی بار آگاہ کیا کہ اب ہر غیر آئینی عمل بند ہوجانا چاہیئے ہم سب کو بناتا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں آئین کی حکمرانی ہے اور جمہوریت کے علاوہ کوئی چیز قابل قبول نہیں ہے جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ امریکا میں اسلحہ کے لیے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ پرچی دی جارہی ہے جانور کا چمڑا دو یا اپنا چمڑا دو جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ ایسی پرچیاں بھی دی جارہی ہیں کہ کھال دو یا اپنی کھال دو، کراچی مےں بدامنی کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی پہلی سماعت 26 اگست کو اسلام آباد میں ہوئی اور 29 اگست کو کراچی میں سماعت شروع ہوئی اور 15 ستمبر کو سماعت مکمل کرلی گئی وفاق کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان سندھ حکومت کی جانب سے عبدالحفیظ پیرزادہ پیش ہوئے ، آئی جی سندھ واجد درانی کراچی میں سماعت کے موقع پر عدالت کو اسلحہ، اغوا ، ٹارگٹ کلنگ، ٹارچر سیل کے بارے میں عدالت کو آگاہ کیا۔5 ستمبر کو سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو کسی دباؤ کے بغیر بلاتفریق کارروائی پر زور دیا سپریم کورٹ نے بھتہ خوری کے خلاف قانون سازی کی تجویز دی 7 ستمبر کو سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے وکلاءنے بدامنی کی وجوہات اپنی تجاویز اور تحفظات پیش کئے ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹر محمد فروغ نسیم ایڈووکیٹ نے فریق بنے کی درخواست دی جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا 8 ستمبر کو آئی ایس آئی نے عدالت میں بریفنگ دی چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ 31 جولائی 2009 کے فیصلہ سے مارشل لاءکا راستہ بند کردیا گیا ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 110
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (16-09-11), حسن قادری (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 04:00 AM   #2
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,131
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,593 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ عمل کی توفیق بھی دے ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (16-09-11), گلاب خان (17-09-11), حسن قادری (16-09-11), خالد حسین (10-02-12)
پرانا 16-09-11, 06:58 AM   #3
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,131
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجموں کو کڑی سزا دینے کی توفیق بھی اللہ انھیں عطا فرماے
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
فکری (17-09-11), گلاب خان (17-09-11)
جواب

Tags
کورٹ, کراچی, پولیس, پاکستان, مکمل, مسائل, آج, انتظامیہ, اسکیم, اسلام, اغوا, بھائی, تلاش, تحریری, ترمیم, جواب, حکم, حل, حال, خلاف, خان, خدا, درخواست, راستہ, سپریم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ورڈپریس پر2mbسے زیادہ کی بیک اپ فائل کوکیسے امپورٹ کروں فرحان دانش Ask Experts ماہرین کی رائے 16 03-10-10 07:01 AM
سیلاب کی تباہی 11-2010ء میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد ہوجائیگی، وزارت خزانہ کی جائزہ رپورٹ گلاب خان خبریں 0 23-08-10 03:21 AM
وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اپنی پارٹیوں کے بھرپور مشوروں سے فیصلے کر رہے ہی عبدالقدوس خبریں 0 18-04-08 07:49 AM
سوئی،پنجاب کو گیس فراہم کر نے والی پائپ لائنیں اڑادی گئیں،واپڈا کے بجلی گھروں کو فر اہمی معطل خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-11-07 08:36 AM
صدر کی اہلیت کا کیس جلد نمٹانے کا فیصلہ، ججوں کی تعداد پوری کرنے میں دشواری عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 03:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger