|
مجلس عمل میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، اتوار کو مستقبل کے فیصلے کا امکان

06-12-07, 09:08 AM
مجلس عمل میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، اتوار کو مستقبل کے فیصلے کا امکان
کراچی( جمشید بخاری/ اسٹاف رپورٹر) عام انتخابات کے بائیکاٹ کے مسئلے پر ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ، ایم ایم اے کے مستقبل کا فیصلہ اتوار تک ہو جائے گا، ایم ایم اے میں شامل تین بڑی جماعتوں جے یو آئی، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان نے کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن کو علیحدہ علیحدہ انتخابی نشانات کیلئے درخواستیں دے دی ہے، جمعیت علماء اسلام نے کتاب، جماعت اسلامی نے چھتری اور جمعیت علماء پاکستان نے چابی کے انتخابی نشانات کیلئے درخواستیں دی ہیں، جے یو پی انتخابات کے بائیکاٹ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ جمعرات کو طلب کئے گئے اجلاس میں کریگی۔ دریں اثناء متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے جماعت اسلامی کے اعلان کے پیش نظر جمعیت علماء اسلام (ف) نے سرحد اور بلوچستان سمیت سندھ سبی جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں تا کہ جماعت اسلامی کے امیدواروں کی جانب سے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد ان نشستوں پر جے یو آئی (ف) کے امیدوار موجود رہے، جے یو آئی نے ملک بھر میں انتخابی مہم شروع کر دی ہے جبکہ جے یو آئی انفرادی طور پر پی پی پی اور اے این پی سے سندھ میں سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کیلئے بات چیت بھی کر رہی ہے ۔ دریں اثناء جے یو آئی نے پارٹی کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد کو کوئٹہ سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیا جبکہ انکے متبادل سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی ملک سکندر کو ٹکٹ دیا گیا ہے ، ذرائع کے مطابق حافظ حسین احمد کو مولانا خان محمد شیرانی کی ایما پر ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|