واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


::: مختلف ادوار میں بے نظیر بھٹو کی خاص خاص باتیں :::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-01-08, 10:32 AM   #1
::: مختلف ادوار میں بے نظیر بھٹو کی خاص خاص باتیں :::
ابو کاشان ابو کاشان آف لائن ہے 02-01-08, 10:32 AM

شہید بابا کی شہید بیٹی نے1973ء سے2007ء تک اپنے رشتے کو پاکستان سے برقرار رکھا۔ مختلف ادوار میں محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے سچے پاکستانی ہونے کی اپنی باتوں سے سچی شہادت دی ہے۔ دورانِ تعلیم امریکہ میں1973ء میں اپنی طالب علم دوستوں کے ساتھ پاک امریکہ دوستی کے ایک پروگرام میں کہا ”پاکستان میری جان ہے وہیں جاؤں گی وہیں مروں گی“۔ 1980ء میں کہا کہ پاکستان ہماری شہ رگ ہے اور ہمیں دشمن سے اپنی شہ رگ کو بچانا ہے۔ 12نومبر1982ء کو ایک اور موقع پرکہا کہ قائد عوام کا رشتہ قائداعظم سے تھا، میرا رشتہ دونوں سے ہے، خیال رکھیں ان کے پاکستان کو میلی آنکھ سے نہ دیکھیں ورنہ نقصان ہوگا۔ 1986ء میں اپنے بھائی شاہ نواز کی موت پرکہا بھٹو خاندان کو پاکستانی ہونے کی سزا دی جا رہی ہے، ہم اسی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ 20اگست1987ء کو انہوں نے کہا میں نے پاکستانی ہونے کے ناتے شادی پاکستانی سے پاکستان میں کی اور اپنے ملکی رسم و رواج کے مطابق کی اس لیے کہ میں پاکستانی ہوں۔14اگست 1988ء کے موقع پر کہا کہ مجھے فخر ہے میں پاکستان کی پہلی مسلمان خاتون وزیراعظم ہوں، یہ مجھ پر قرض ہے اسے جان دے کر بھی اتاروں گی۔22دسمبر 1993ء میں کہا میں ایک ایسی پاکستانی ہوں جو اس دھرتی پرکٹ سکتی ہے، مر سکتی ہے لیکن اپنی دھرتی کے ایک تنکے کی بھی سودے بازی نہیں کر سکتی۔ 1993ء میں دوبارہ وزیراعظم بننے کے موقع پرکہا مجھے پاکستان کے عوام نے دوبارہ وزیراعظم بنایا ہے میں پاکستان کے چپے چپے اور اس کے نیوکلےئر پلانٹ کی اپنی جان دے کر حفاظت کروں گی۔ 1996میں میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل پرکہا میں کیسی وزیراعظم ہوں کہ میرا بھائی میرے اقتدار میں قتل ہوگیا لیکن مجھے قسم ہے اس دھرتی کی، اس کے قاتلوں کو چھوڑوں گی نہیں۔ یہیں سے بے نظیر بھٹوکا ذہن ملک دشمنوں کے خلاف سخت ہوگیا۔ 1996ء میں کہا میرے بھائی نے پاکستان پر جان دی ہے اس کی بہن بھی اسی ملک پر جان دے گی۔ 1996ء میں ہی انہوں نے کہا اقتدار آنے جانے والی چیز ہے اس ملک کی خدمت بھٹو فیملی کے خون میں شامل ہے۔1997ء میں فرمایا ہم ظلم و جبر سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ قائد عوام شہید بھٹو سے ہم نے سیکھا ہے کہ ہمت سے کام لیا جائے یہ ملک ہمارا ہے ہم دوبارہ اقتدار میں آئیں گے۔ 13اگست1997ء کو بینظیر بھٹو نے کہا میں جہاں بھی رہوں گی میرا عشق پاکستان کی ترقی کے حوالے سے رہے گا۔1997ء میں ہی کہا پاکستان سے جانا ہماری مجبوری ہے لیکن پاکستان سے میری وابستگی ختم نہیں ہوگی میرا رابطہ عوام سے رہے گا میں اول و آخر پاکستانی ہوں۔ مجھے اس بارے میں کسی سند کی ضرورت نہیں ہے۔ قائد عوام نے آمرکے آگے سر نہیں جھکایا میں ان کی بیٹی ہوں، دھرتی سے میرا رشتہ قائم رہے گا۔ یہ ذہن میں رہے 1998ء کو جلا وطنی کے وقت کہا دھرتی ہمارے لیے تنگ کی جا رہی ہے لیکن دھرتی سے ہمارے رشتے اور عوام کے دلوں میں قائد عوام کی بیٹی کے لیے محبت کوئی ختم نہ کر سکے گا۔ آٹھ سالوں کی جلاوطنی کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو نے برطانیہ، امریکہ، متحدہ عرب امارات میں رہ کر وطن سے محبت کے لیے پھول نچھاور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، 8 سالہ جلا وطنی کے دوران انہوں نے ملک کے اندر موجود بحرانوں پر اپنی رائے اور مشورے بھی دیئے، پارٹی کی قیادت کو ضرورت کے لیے امریکہ، برطانیہ، دبئی بھی طلب کیا۔ بینظیر بھٹو نے ملک سے باہر رہنے کے باوجود اپنا سیاسی کام ختم کیا نہ خاموشی اختیارکی۔ بینظیر بھٹو شہید نے اپنی جلا وطنی کے دوران اپنے بڑے سیاسی حریف سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے سیاسی رابطے کیے اور مشترکہ لائحہ عمل بھی تیار کیے۔ مشترکہ طور پر پاکستان میں استحکام قائم کرنے کے لیے اور ملک کے اندر آمریت کو ختم کرنے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے بینظیر بھٹو نے میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر مشہور زمانہ میثاقِ جمہوریت کا فارمولا طے کیا جس سے ملک کے اندر ایک بحث چل نکلی، بینظیر بھٹو نے اپنے سیاسی حریف نواز شریف سے مل کر پاکستان کے اندر حکمرانوں کے خلاف تمام اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرنے کے منصوبے پرکام شروع کیا۔ بے نظیر بھٹو نے2001ء میں لندن میں کہا بھٹو فیملی کہیں رہے وہ خود کو پاکستان کا خادم سمجھتی ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم پاکستان میں ترقی کے عمل کو فروغ دینے کے حامی ہیں۔ 2002ء میں دورہٴ امریکہ کے موقع پرکہا پاکستان ہماری جان ہماری شان ہے۔2004ء میں دبئی میں پارٹی کے لیڈروں سے کہا ہمیں کسی سے سودے بازی نہیں کرنا ہے ملک خطرناک حالات سے گزر رہا ہے آپ لوگ عوام سے رابطے کریں، جلد جمہوریت کی بحالی کی مہم شروع کریں گے۔ بینظیر بھٹو نے سال 2004ء میں بے پناہ غیر ملکی دورے کرکے پاکستان کے حالات سے پاکستانی عوام کو آگاہ کیا۔ 2005ء بے نظیر بھٹوکا مکمل سیاسی کام کرنے کا سال تھا۔ انہوں نے اس دوران پارٹی کے لیڈروں سے امریکہ، برطانیہ، دبئی میں میٹنگزکیں اور پارٹی کو متحرک کرنے کا عندیہ دیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے2006ء میں پرویز مشرف کی طرف سے بھیجے گئے افراد سے امریکہ، برطانیہ، دبئی میں طویل گفتگوکی۔ بینظیر نے ان پر واضح کیا کہ اگر پرویز مشرف وردی اتاردیں تو صورتحال بدل جائے گی اور ہم ان سے تعاون کرنے پر غورکر سکتے ہیں۔ دبئی میں 4 ستمبر2007ء میں پرویز مشرف سے ہونے والی ملاقات میں 2 سالوں کے رابطوں کے بعد بینظیر بھٹو نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی بینظیر بھٹو نے کہا میں نے جوکچھ کیا ملک کی سلامتی کے لیے کیا، قائد عوام کو ملک کی بقا و سلامتی عزیز تھی اسی کے لیے جان دے دی اس کی بیٹی بھی وہی کرے گی۔ 18اکتوبر 2007ء کو محترمہ بینظیر بھٹو نے کراچی آنے کا فیصلہ کیا۔ پی پی پی کے کارکنوں نے پورے ملک میں بینظیر بھٹوکی آمد و استقبال کے لیے تیاریاں شروع کر دیں اور وہ وقت آیا جب محترمہ بینظیر بھٹو دبئی سے کراچی پہنچ گئیں۔ ایئرپورٹ پر اپنے شاندار استقبال پر انہوں نے کہا یہ پاکستان کے عوام کی فتح ہے میں اپنی دھرتی پر آگئی ہوں۔ پرانی باتوں کو نہ دہرایا جائے بلکہ نئے دورکا آغاز کیا جائے۔ بینظیر بھٹو نے اپنی آمد کے فوراً بعد پارٹی کی انتخابی مہم شروع کر دی۔ بینظیر بھٹو جہاں گئیں ایک ہی بات کرتی رہیں کہ مجھے پاکستان کو بچانا ہے۔ چاہے مجھے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔کراچی سے پشاور تک اورکوئٹہ سے راولپنڈی تک کے جلسوں میں ان کی بات ایک ہی ہوتی تھی کہ میرے بھائیوں، بہنوں، پاکستان کی دھرتی کے لوگو، پاکستان اس وقت بڑے خطرات سے دوچار ہے ہمیں پاکستان کو بچانا ہے، چاہے اس کے لیے آپ کو اور مجھے اپنی جانیں ہی کیوں نہ دینی پڑیں۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان کی آخری تقریر میں بھی وہی الفاظ ہیں جو انہوں نے اپنی تعلیم کے زمانے امریکہ میں1973ء کے وقت کہے تھے ”میں پاکستان جاؤں گی چاہے کچھ ہو جائے میری جان اس ملک کے لیے حاضر ہے“۔ لیاقت باغ میں بینظیر بھٹو نے خود کو ایک سچی محب وطن ثابت کر دیا اور اس ملک کو بچانے کے لیے اپنی جان دے دی۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے18اکتوبر سے27دسمبر2007ء تک کی اپنی سیاسی زندگی سخت جدوجہد میں گزاری۔ انہوں نیان دنوں میں وہ کیا جو کسی رہنما کے لیے ایک مشکل کام تھا۔ سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی چےئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے پرویز مشرف کی ٹیم اور خود پرویز مشرف کے ساتھ دبئی میں پاکستان کے سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کیے۔ اچھے اور بڑے لیڈروں کی طرح بے نظیر بھٹو شہید نے وہ کیا جو ان کے بڑے سیاسی قدکا تقاضا تھا۔ حالات سازگار ہونے کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو 18اکتوبر2007ء کو بڑی گرم جوشی اور خوش و خرم ماحول میں دبئی سے کراچی آئیں۔ کراچی اےئرپورٹ پر ان کا تاریخی استقبال ہوا۔کراچی ایئرپورٹ سے سفر طے کرتے ہوئے بینظیر بھٹوکا جلوس جب کارسازکے قریب پہنچا تو عین بینظیر بھٹو کے ٹرک کے قریب دو دھماکے ہوئے جس میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ بینظیر بھٹو نے بڑی جرأت سے خفیہ اداروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا اور چند افراد کے نام بھی لیے۔ یہاں سے بینظیر بھٹو نے اپنی اگلی منزل کا تعین کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ نہ ملک سے جائیں گی نہ ہی الیکشن سے باہر ہوں گی۔ بے نظیر بھٹوکی جانب سے کارساز بم دھماکہ کرانے والوں کی نشان دہی کے بعد حکومتی حلقوں میں بے چینی پھیل گئی۔ عالمی سطح پرکارساز بم دھماکے کو بینظیر بھٹوکو قتل کرنے کے واقعہ سے تعبیرکیا گیا۔ حکومت اور پرویز مشرف پردباؤ بڑھنے لگا، ملکی ایجنسیوں نے بے نظیر بھٹوکو اپنے لیے خطرہ جانا۔ بینظیر بھٹو نے سانحہٴ کارسازکے بعد مضبوط بنیادوں پر سیاست کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی پورے ملک کے ہنگامی دورے شروع کر دےئے۔ سیاسی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے نواز شریف و اسفند یار ولی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ بینظیر بھٹو کے انتخابی طوفانی دوروں سے خفیہ اداروں کے حکام بالا اور ان اداروں کے سیاسی یتیموں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ انہوں نے بینظیر بھٹوکے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔کہا جا رہا ہے کہ بینظیر بھٹوکو ایک سرکاری سیاسی پارٹی کے ذمہ دارکی جانب سے دھمکی دی گئی کہ ان کا وزیراعظم بننے کا خواب پورا نہیں ہوگا لیکن بینظیر بھٹو نے اپنا انتخابی سفر بے خوف و خطرجاری رکھا، خطروں سے آگاہی کے باوجود انہوں نے ہر جگہ جلسہ کیا اور ملک کے کونے کونے میں گئیں۔ ایک سیاسی پارٹی کی کوشش تھی کہ بینظیر بھٹو راولپنڈی میں جلسہ نہ کریں اس کے لیے انہوں نے وزیر داخلہ اور ایجنسیوں کے کارندوں اور میڈیا کے ذریعہ سے خوف دلایا کہ دھماکے ہوں گے، جلسہ ناکریں لیکن بینظیر بھٹو وہاں گئیں اور حادثے کا شکار ہوکر 27دسمبر2007ء کو اس دنیا سے بہادری سے سیاسی جدوجہد کرتی ہوئی رخصت ہوگئیں۔

ابو کاشان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 246 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 319
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پھول, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, قائداعظم, لوگ, لندن, نواز شریف, مکمل, موت, محبت, امریکہ, بھائی, بے نظیر, تنکے, تعلیم, جلد, خون, خوش, خلاف, دھماکہ, دبئی, سیاست, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سسی بھٹو نے فاطمہ بھٹو کیساتھ ایدھی ہوم لیاری کا دورہ کیا کراچی(اسٹاف رپو عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 07:57 AM
غنویٰ بھٹو سے مختلف وفود کی ملاقاتیں تنظیمی امور پر بات چیت عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:53 AM
بلاول کے بھٹو قبیلے میں شامل ہونے پر اعتراض نہیں،غنویٰ بھٹو خرم شہزاد خرم خبریں 0 01-01-08 10:40 AM
سال بعد لاڑکانہ آمد،بھٹو کے مزار پر حاضری،ایسی اطلاعات نہیں کہ سپریم کورٹ صدر پرویز کو نااہل قرار دے گی،بے نظیر بھٹو عبدالقدوس خبریں 0 28-10-07 08:27 AM
بے نظیربھٹو کی محدود ملاقاتیں عبدالقدوس خبریں 0 25-10-07 08:51 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger