واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


مسلم لیگ(ق) نے ١٠٠ روزہ د ھوکہ دہی کے نام سے حکومتی کارکردگی کے بارے میں حق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-07-08, 10:50 AM   #1
مسلم لیگ(ق) نے ١٠٠ روزہ د ھوکہ دہی کے نام سے حکومتی کارکردگی کے بارے میں حق
وجدان وجدان آف لائن ہے 04-07-08, 10:50 AM

پاکستان مسلم لیگ(ق) نے حکومت کی سو روزہ کارکردگی کے بارے میں حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ عوام سے کیے گئے ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا ہے ملک میں حکومت اور ا نتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔قیادت کافقدان اور حکمران اتحاد انتشار کا شکار ہے تاہم مسلم لیگ (ق) نے واضح کیا ہے کہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی ۔ نئی حکومت کو پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے حکمران اتحاد ٹوٹا تو مسلم لیگ (ق) جمہوری و پارلیمانی نظام کے استحکام میں اپنا کرادر ادا کرے گی ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ(ق) کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مخدوم فیصل صالح حیات نے جمعرات کو مسلم لیگ(ق) کی جانب سے 19 صفحات پر مشتمل ’’ حکومت کی سو روزہ دھوکہ دہی ‘‘ پر مبنی حقائق نامہ جار ی کرتے ہوئے پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اوردہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت تمام شعبوں کے بارے میں سابقہ حکومت کی پالیسیوں کو تسلسل حاصل ہے ۔ ہمارے دور کی اقتصادی ٹیم بیٹھی ہوئی ہے ۔ وزارت داخلہ میں بھی ہمارے دو ر کے افسران تعینات ہیں حکومت کے پہلے دو ماہ میں پٹرول کی قیمت میں 45 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 66 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ انتخابات کے بعد حکومت کو قائم ہوئے 102 دن ہو چکے ہیںوزیراعظم نے حلف اٹھانے کے بعد پہلے سو دنوں کے حکومتی پروگرام کااعلان کیا تھا انہوں نے کہا کہ سو روزہ کارکردگی سے حکومت کے مزید پونے پانچ سالوں کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ہم نے ماضی سے ہٹ کر انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کی نئی روایت قائم کی ۔ انہوں نے کہا کہ ان سو دنوں میں مسلم لیگ(ق) واضح اور صحیح سمت پر گامزن رہی ۔ اصولوں کی سیاست کو فروغ دیا ۔وزیراعظم کی درخواست پر اپوزیشن نے انہیں اعتماد کا ووٹ دیا جس کا مقصد قوم کو متحد ومنظم کرنا تھا۔ تاکہ حکومت کو قومی ایجنڈے کے حوالے سے اگر کوئی ایجنڈا ہے تو کوئی فکر نہ ہو ۔ اگرچہ کسی سیاسی جماعت کو انتخابات میں واضح مینڈیٹ نہیں ملا ۔ ہماری خواہش ہے کہ حکومت آئینی مدت پوری کرے۔حالانکہ اپوزیشن کے خلاف انتقام کا سلسلہ شروع ہو چکاہے حکومت کے سو دن ناکامیوں پر مشتمل ہیں ۔ عوام کو دھوکہ دیاگیا ‘ قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ 1999 ء کی قیمتوں کو بحال کیا جائے گا۔ ان جماعتوں کے انتخابی منشور میں بھی عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے گئے ہمیں توقع تھی کہ دونوں جماعتیں پہلے بھی حکومتیں کر چکی ہیں معاشی طور پر واضح روڈ میپ اور اس پر عملدرآمد کے لیے موثر میکنزم کا اعلان کریں گی ۔ان جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے حوالے سے حکومت سازی کے بارے میں ترجیحات کا اعلان کیا گیا ۔ پارلیمنٹ کو بالادست بنانے کاروڈ میپ بھی اس میں شامل ہے ۔ دونوں جماعتوں نے کہا کہ قوم نے یہی مینڈیٹ دیا ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر کام کریں ۔سہانے خوش کن مستقبل کا خواب دکھایا گیا ۔ مری اعلامیہ جاری ہوا ۔ تیس دنوں کی ڈیڈ لائن گزر گئی بعدازاں اعلان مری کو سیاسی بیان قراردے دیا گیا ۔ وزیراعظم نے 24 مارچ کو اپنے انتخاب پرحلف اٹھانے سے قبل ہی اختیار ات کو استعمال کرتے ہوئے ججز کی رہائی کا اعلان کردیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں روزگار ‘معیشت ‘ماحولیات ‘ توانائی ‘ تعلیم اور مساوات کے حوالے سے اقدامات کرنے کا دعوی کیا ۔ ان کا آغاز تک نہیں ہوا ہے ۔ ہم نے نئے حکمرانوں کو مضبوط اور ساؤنڈ معیشت دی تھی ۔ حکومت کو چیلنج کرتے ہیں افسو س کہ حکومت الزامات کی سیاست کررہی ہے اس قسم کی سیاست سے عوام کے پیٹ نہیں بھرتے۔ قوم بدترین مہنگائی کی لپیٹ میں ہے گورنس نام کی کوئی چیز نہیںہے قومی ایشوز کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے ۔ نان ایشوز کو آگے رکھا جا رہا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ ان سنگین حالات کے باوجود اپوزیشن ‘ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہیں کرے گی استحکام چاہتے ہیں اپوزیشن حکمرانوں کے لیے مسائل کھڑے نہیں کرے گی حکومت اپنے اہداف کو ترک کر چکی ہے اتحادیوں کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کی بات کی جارہی ہے ۔ وزیر اطلاعات دن میں دس بار بیان دیتی ہیں کہ اتحادیوں کو اعتماد میںلیا گیا تھا۔ کیا یہی قومی مفاہمت ہے اتحادی حکومت اس طرح چلتی ہے انہوں نے کہا کہ کیا حکومت بھی لانگ مارچ ‘ ہڑتالوں ‘ شٹر ڈاؤن میں حصہ لیتی ہے ۔ عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیاہے ۔ بجٹ میں بارہ فیصد مہنگائی کی شرح مقرر کی گئی تھی مہنگائی کی شرح تیس فیصد سے تجاوز کرچکی ہے ۔ یہ ہمارے نہیں سٹیٹ بنک کے اعداد و شمار ہیں فوڈ آئٹمز کے حوالے سے مہنگائی 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ بدامنی اور بدانتظامی عروج پر ہے ۔ مشیر داخلہ اور سرحد حکومت کے بیانات میں تضاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا مذاکرات کا آپشن ناکام ہو گیا ہے جو خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ حکومت براہ راست سبسڈی سے دستبردار ہو چکی ہے وزیر پٹرولیم کے ایک غلط بیان کی وجہ سے سی این جی صارفین کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ملک پر گھنٹے کی تیزی کی طرف جا رہا ہے ۔ حل نہ کیا گیا تو گہری کھائی سے نہیں نکل سکیںگے۔20 جون کو مسلم لیگ(ن) نے ججز کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں ووٹ بھی کاسٹ کیا اور اب کہہ رہے ہیں کہ ووٹ نہیں دیا تھا قوم کے ساتھ مذاق ہے ۔ سو روزہ حکومتی پروگرام میں کفایت شعاری اپنانے اور پرتعیش طرز حکمرانی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات سمیت وزراء 16 سو سی سی بڑی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں وزیراعظم خود وزیراعظم کے اعلانات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہے ہیں ۔ 80 رکنی وفد کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کیا گیا۔ وزیراعظم کے دسمبر تک مزید سولہ غیر ملکی دورے ہوںگے۔وزیراعظم سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا عوام کے مسائل حل ہو گئے ہیں جو غیر ملکی دورے پر جا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومتی ناکامی کے باوجود حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کریں گے حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ ا پنی ذمہ داری کو نبھائے ، عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔ سو دنوں میں عوام کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ البتہ ان سو دنوں میں کیسز ضرور ختم ہوئے ہیں اور اثاثے بحال ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا تجربہ کامیاب نہ ہوا تو قوم کے لیے جمہوریت خواب بن کر رہ جائے گی ۔ ہماری حکومت کا حساب کتاب 18 فروری کو ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم واضح طور پر تیار نہیں کیا ان کے پاس اختیارات نہیںہیں ۔ ایوان صدر تو حکومتی امور سے ہٹ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ وارننگ دینا چاہتا ہوں کہ ملک تیزی سے تنزلی کی طرف جارہا ہے ۔ دوبارہ آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کا خطرہ ہے ۔ اگر ایسا ہوا توخود مختاری طورپر کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ(ق) کے پارلیمانی لیڈر نے کہاکہ حکومت کو قائم رہنا چاہیے حکمران اتحاد ٹوٹا تو مسلم لیگ(ق) اس کے باوجود کہ اس کا محدود کردار ہے ۔ پارلیمانی نظام کے استحکام میںاپنا کردار ادا کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں 3 ہزار پوائنٹس کا کریش آچکا ہے تاریخ کا بدترین کریش ہے ساڑھے سولہ ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں ڈالر کی قیمت 60 سے 70 روپے ہو چکی ہے۔

 
وجدان's Avatar
وجدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 30
مراسلات: 1,284
شکریہ: 919
594 مراسلہ میں 1,518 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 204
Reply With Quote
جواب

Tags
color, پاکستان, مہنگائی, موقع, منشور, مسائل, آپریشن, ترک, تعلیم, جواب, خوش, خلاف, درخواست, روزہ, سیاست, سرحد حکومت, صفحات, صالح, صارفین, صحیح, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیلا کھانے سے وزن گھٹانے میں مدد ملتی ہے زارا شعبہ طب 12 23-10-11 10:56 PM
کوئٹہ میں تین روزہ پولیو مہم کا آغاز ابن جلال خبریں 0 11-10-08 02:57 PM
اقتدار میں آکر بھوک، بیروزگاری اور بدحالی ختم کردینگے، بینظیربھٹو عبدالقدوس خبریں 0 15-12-07 08:06 AM
پولنگ کے موقع پر سندھ کی پرائیویٹ سیکورٹی گارڈزکی تعیناتی کی درخواست مسترد عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 10:00 AM
ملک بھر میں آج سے تین روزہ پولیو مہم کا آغاز چاچا کمال خبریں 0 07-08-07 11:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger