|
مسلم لیگ (ق) کے 8 سینیٹروں کا گروپ چیئرمین سومرو کیلئے خطرہ

13-04-08, 08:40 AM
مسلم لیگ (ق) کے 8 سینیٹروں کا گروپ چیئرمین سومرو کیلئے خطرہ
اسلام آباد (رپورٹ: …طارق بٹ) پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کے دست راست بشارت راجہ کی سینیٹر اہلیہ نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ق کے سینیٹروں کے ایک گروپ میں شمولیت اختیار کر لی جو تخصیص کے ساتھ صوبے کی بہتری کیلئے کام کرے گا۔ راولپنڈی کے بشارت کی دوسری بیوی بلوچستان کی صاف گو پری گل آغا نے آٹھ سینیٹروں پر مشتمل ڈویلپمنٹ گروپ کا حصہ بننے کا انتخاب کیا جو گزشتہ روز ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی کی رہائش گاہ پر قائم ہوا۔ پری گل آغا بہت سے معاملات پر سینیٹ میں دو ٹوک گفتگو کیلئے مشہور ہیں تاہم مسلم لیگ ق کے بعض باخبر لیڈروں کی جانب سے بھی سبکدوش قومی اسمبلی اور موجودہ سینیٹ کے ارکان کے ایک میزبان سمیت بلوچستانی خاتون کی یونیورسٹی ڈگری کے حقیقی ہونے سے متعلق ہمیشہ سوالات اٹھائے جاتے رہے مگر انہیں کسی عدالت میں کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ راجہ اور ان کے بھائی ناصر کو راولپنڈی کے اپنے حلقہ ہائے انتخاب سے نہ صرف 18 فروری کے عام انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا بلکہ 2002ء کے پارلیمانی انتخابات میں بھی وہ ہار گئے تھے۔ راجہ گجرات کے ایک حلقہ انتخاب سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جسے پرویز الٰہی نے 2002ء میں خالی کیا۔ وہ پنجاب حکومت کے وزیر پنجاب ہونے کے علاوہ اس وقت کے وزیراعلیٰ کے قریب ترین ساتھی اور ترجمان بھی تھے۔ 2002ء کے انتخابات سے قبل جب مسلم لیگ ق کو جنم دلایا گیا تو اپنے بہت سے سیاسی ساتھیوں کی طرح اس میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے راجہ مسلم لیگ ن کے ممتاز لیڈر تھے اور شریف برادران کے نزدیک سمجھے جاتے تھے مگر انہیں اتنی زیادہ شہرت اور اہمیت کبھی حاصل نہ ہوئی جو پرویز الٰہی سے ان کی وفاداری کے باعث انہیں مسلم لیگ ق میں ملی۔ حالیہ انتخابات میں شکست کے باوجود وہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ شریف برادران پر وہ انتخابی مہم اور ان کی جلاوطنی کے دوران گجرات کے چوہدریوں کے ایماء پر وہ سخت حملے کرتے رہے اسی وجہ سے وہ شریف برادران کیلئے اپنی پارٹی میں شرکت کیلئے ناقابل قبول افراد میں شامل ہیں۔ موجودہ گروپ کی تشکیل سے پہلے نیلوفر بختیار سمیت چھ سینیٹروں نے مسلم لیگ ق میں فارورڈ بلاک بنایا جس نے اس وقت بیان دیا کہ وہ پارٹی سے منحرف نہیں ہوئے اور مسلم لیگ ق میں رہتے ہوئے کام کریں گے اس کی اپنے لئے تشریح کردہ پالیسی معزول ججوں کی بحالی، آئین سے 3 نومبر اور اس سے قبل ہونے والے بگاڑ کے خاتمہ جیسے اہم معاملات پر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اختیار کردہ موٴقف سے نزدیک ہے۔ نئے گروپ کے مطابق مسلم لیگ ق کی موجودہ قیادت سے ان کا کوئی اختلاف نہیں جسے اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا۔گروپ نے اعلان کیا ہم نے بلوچستان کی فلاح کیلئے گروپ کے قیام کا فیصلہ کیا اور یہ مسلم لیگ ق کی قیادت کے خلاف بغاوت نہیں۔ مسلم لیگ ق کے حلقہ میں ہونے کے باوجود جان جمالی نے پارٹی سے ہمیشہ بالخصوص سینیٹ اجلاسوں کی صدارت کے دوران فاصلہ برقرار رکھا۔ ایوان بالا میں مسلم لیگ کی قوت مزید کم ہونے سے نئے گروپ کی جانب سے فیصلہ کن مرحلے میں ساتھ نہ دینے کے فیصلہ پر چیئرمین محمد میاں سومرو کے مستقبل کے بارے میں سوالات جنم لیں گے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|