واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


مشرف انتخاب نہیں لڑ سکتے: جسٹس فلک شیر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-10-07, 12:08 PM   #1
مشرف انتخاب نہیں لڑ سکتے: جسٹس فلک شیر
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 04-10-07, 12:08 PM

صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنےکےخلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے نو رکنی فل بینچ کے رکن مسٹر جسٹس فلک شیر نے اپنے اضافی نوٹ میں قرار دیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔
جسٹس فلک شیر سپریم کورٹ کے نو رکنی فل بینچ کے ان ارکان میں شامل ہیں جنہوں نے صدر کے دو عہدے رکھنے کے خلاف ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں کو فنی بنیادوں پر ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کردیا تھا۔صدر مشرف کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں۔

سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کے چھ ارکان نے متذکرہ درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیکر فنی بنیادوں پر مسترد کردیا تھا جبکہ اسی بینچ کے تین ارکان نے اکثریتی رائے سے اختلاف کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے مختصر فیصلے کے ذریعے ان درخواستوں کو مسترد کیا تھا اور ابھی سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کا تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے جسٹس فلک شیر کا بیس صفحات پر مشتمل ایک اضافی نوٹ جاری کیا گیا ہے جس میں فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ صدر جنرل مشرف صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ عدالت نے فنی بنیادوں پر صدر مشرف کے عہدوں کے خلاف درخواستیں خارج کیں حالانکہ درخواستوں کی سماعت کے دوران میرٹ پر بھی دلائل دیے گئے تھےاور اسی بنیاد پر وہ (فاضل جج) اپنا نکتہ نظر بھی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے اور صدر مشرف کی اہلیت کی دونوں بنیادوں پر دے رہے ہیں۔

اضافی نوٹ میں جسٹس فلک شیر نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی کسی طرح بھی درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب ان درخواست گرازوں میں سے بعض نے سترہویں ترمیم کے ذریعے قانونی تحفظ فراہم کیا تھا۔

فاضل جج نے مزید کہا کہ درخواست گزار سیاست دان صدر مشرف کے مدمقابل صدارتی امیدوار نہیں بھی ہیں۔

فاضل جج نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ فیصلے کے اختصار کی وجہ سے یہ طے کیا گیا کہ وہ (فاضل جج) اس معاملہ پر اپنا نکتہ نظر الگ سے تحریر کریں گے۔
فاضل جج نے قرار دیا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی بطور آرمی چیف صدارتی امیدوار نامزدگی مفاد عامہ کا معاملہ ہے۔

جسٹس فلک شیر نے بنیادی حقوق کے حوالے سے دس مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاملے میں آرمی چیف کی صدارتی امیدوار کی حیثیتِ نامزدگی سے درخواست گزار سیاست دانوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے ہیں کیونکہ یہ درخواست گزار نہ مدمقابل صدارتی امیدوار ہیں بلکہ ان میں بعض نے سترہویں ترمیم کے ذریعے حکمران کو تحفظ فراہم کر کے ان کو مضبوط کیا ہے حالانکہ ان کے پاس موقع تھا کہ اگر یہ چاہتے تو ان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھیچ سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا۔

فاضل جج نے قرار دیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف حاضر سروس چیف آرمی سٹاف ہونے کی حیثیت میں اپنی ملازمت چھوڑنے کے دو سال کے عرصے تک دوسرا منافع بخش عہدہ رکھنے کے اہل نہیں ہیں۔

جسٹس فلک شیر نے اپنی اضافی نوٹ میں قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل اکتالیس (دو) کے تحت صدر کے عہدوں پر امیدوار شخص کے لئے نہ صرف آئین کے آرٹیکل باسٹھ کی اہلیت پر پورا اترنا ضروری ہے بلکہ اسے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ میں موجود نااہلی سے بھی مبرا ہونا ضروری ہے۔

فاضل جج کی رائے ہے کہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل دو سو تینتالیس کے مطابق آرمڈ فورسز اور آرمی چیف وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں اور اسی آرٹیکل کے تحت وفاقی حکومت آرمڈ فورسز پر کنٹرول اور کمانڈ کرے گی۔

جسٹس فلک شیر نے مزید کہا کہ آئین کے تحت چیف آف آرمی سٹاف سمیت آرمڈ فورسز وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں وگرنہ یہ بہت بڑی نفی ہوگی کہ آئین کی بحالی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف وفاقی حکومت کے ماتحت ہونے کے بجائے اس کے سربراہ ہوں۔

فاضل جج نے قرار دیا کہ آرمی چیف کے حلف میں یہ بات شامل ہے کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہونگے۔

جسٹس فلک شیر نے اپنے اضافی نوٹ میں یہ بھی قرار دیا ہے جہاں تک صدر کے دو عہدے رکھنے کے بارے میں سنہ دو ہزار چار کے ایکٹ کا تعلق ہے تو کوئی ایکٹ بھی آئین سے بالا تر نہیں ہوسکتا اور آئین میں ترمیم کے بغیر قانون سازی کے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ متذکرہ ایکٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے برعکس ہے۔

بی بی سی

 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 374
Reply With Quote
جواب

Tags
فنی, کورٹ, نظر, موقع, موجودہ, اسلامی, تحریر, ترمیم, خان, سٹاف, سپریم, سیاست, سال, شخص, عمران, عمران خان, عدالت, صفحات, صدارتی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جسٹس افتخار کی مدت3سال کردی گئی تو اس سال دسمبر میں جسٹس جاوید اقبال چیف ج عبدالقدوس خبریں 1 25-04-08 02:49 AM
جسٹس افتخار کے بغیر ججوں کی بحالی عدلیہ کو آپس میں لڑانے کی سازش ہوئی،جسٹس عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:53 PM
چیف جسٹس بحالی کیس میں میری وجہ سے ایمرجنسی کیوں نہیں لگی، جسٹس رمدے عبدالقدوس خبریں 0 09-12-07 02:37 PM
عہدے کی قر بانی پر ملال نہیں ،جسٹس رمدے،ملک پولیس اسٹیٹ بن چکا ،جسٹس صدیقی خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:03 AM
عدلیہ نے حدود سے تجاوز نہیں کیا،آئینی طور پر اب بھی جج ہوں،آج سپریم کورٹ جاؤں گا،جسٹس بھگوان داس،پی سی او غیر قانونی ہے،جسٹس صبیح عبدالقدوس خبریں 0 05-11-07 08:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger