|
مصر میں ’تین سو ہلاکتوں کی تصدیق‘

08-02-11, 07:23 AM
مصر کی نئی کابینہ نے پیر کو اپنے پہلے اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے لیے پچھلے دو ہفتوں سے بڑے پیمانے پر جاری احتجاج کے بعد یہ کابینہ کا پہلا اجلاس تھا۔
مصری حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ احتجاج کے دوران لوٹ مار اور توڑ پھوڑ سے متاثر ہونے والے لوگوں کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے فنڈ بھی قائم کرے گی۔
لیکن قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تحریر سکوائر پر دھرنا دیے بیٹھے مظاہرین صدر مبارک کی رخصتی کے سوا کسی اور پیشکش کو ماننے پر تیار نہیں ہیں۔
شادی الغزالی مصر کے نوجوان اتحاد کے رکن ہیں جو صدر مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے لیے اس تحریک میں پیش پیش ہے۔
بی بی سی کے پروگرام ’افریقہ پر نظر‘ سے بات کرتے انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ حکومت اب بھی ہمارے مطالبوں کو ماننے میں سنجیدہ ہے جس میں سرفہرست صدر مبارک کا استعفی ہے۔ دوسرا مطالبہ پارلیمینٹ کو تحلیل کیا جانا، تیسرا ایمرجنسی کے نفاذ کو ختم کرنا اور چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ سرگرم سیاسی قوتوں پر مشتمل قومی حکومت قائم کی جائے۔
عالمی سطح پر پرچار کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اس نے مصر میں اب تک تین سو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔تنظیم نے کہا ہے کہ مصر میں جاری احتجاج کے دوران مرنے والوں کی حتمی تعداد تین سو سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ قاہرہ، اسکندریہ اور سوئز کے مردہ خانوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق مجموعی طور پر دو سو ستانوے لوگ احتجاج میں مارے جاچکے ہیں جن میں زیادہ تر گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔
مصر کی حکومت نے احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے شہریوں کے بارے میں اب تک اعداد و شمار مرتب نہیں کیے ہیں۔
قاہرہ میں حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے مابین اتوار کو ہونے والی بات چیت کے باوجود احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک حسنی مبارک منصبِ صدارت نہیں چھوڑتے وہ تحریر سکوائر سے نہیں جائیں گے۔
اس سے قبل مظاہرین نے اس عمارت کے ارد گرد انسانی زنجیر بنائی اور اسے کھلنے سے روک دیا جہاں لوگ سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کچھ مظاہرین تحریر سکوائر پر موجود فوجی گاڑیوں کے پہیوں کے سامنے لیٹے ہوئے ہیں تاکہ ان گاڑیوں کو وہاں سے ہٹا کر ان کو وہاں تک محدود کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
حصص بازار کے کھلنے میں چوبیس گھنٹے کے التوٰی کو حکومت کی ناکامی سمجھا جا رہا ہے جو ملکی معیشت کے پہیے کو جلد از جلد آگے بڑھانے کے لیے بہت کوشش کر رہی ہے۔
ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں
اس سلسلے میں کی جانے والی حکومتی کوششوں کو اس وقت ایک امتحان کا سامنا ہو گا جب حکومت ڈھائی ارب ڈالر کا حکومتی قرض نیلام کرنے کی کوشش کرے گی۔ حکومتی قرضے کی یہ نیلامی گزشتہ ہفتے ہونا تھی لیکن اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
دوسری طرف سے امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ مصر میں جاری احتجاج کا نتیجہ جو بھی نکلے لیکن اب حالات دوبارہ کبھی پہلے جیسے نہیں ہوں گے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد محتاط ردعمل کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ انہیں حکومت کی نیت کے بارے میں خدشات ہیں۔
اخوان المسلمین ہمیشہ سے صدر حسنی مبارک کے استعفے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مصر میں فوری طور پر اتفاق رائے سے ایک عبوری قومی حکومت قائم کی جائے اور ملک میں نافذ تمام ہنگامی قوانین کو منسوخ کیا جائے۔
ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں
قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ابھی بارے میں بحث کی جا رہی ہو کہ بات چیت کو اس طرح آگے بڑھایا جائے۔
نائب صدر عمر سلیمان نے گزشتہ ہفتے الاخوان سمیت حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو بات چیت کی دعوت دی تھی لیکن اخوان نے بات چیت کی یہ دعوت مسترد کر دی تھی۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ احتجاج میں شامل بہت سے افراد اپنی آمدن کے نقصان سے بھی پریشان ہیں۔ صدر مبارک نے سنیچر کو وزیراعظم، وزیرِ خزانہ، وزیرِ تیل اور وزیرِ صنعت و تجارت کے علاوہ مرکزی بینک کے گورنر سے بھی ملاقات کی ہے۔ مصر میں بینک اس اتوار سے کھل رہے ہیں تاہم ملک کا بازارِ حصص جو پیر سے کھلنے والا تھا اب نہیں کھلےگا۔
فرانسیسی بینک کریڈٹ ایگریکول کے ایک تجزیے کے مطابق سیاسی بحران کی وجہ سے مصری معیشت کو روزانہ اکتیس کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ کریڈٹ ایگریکول کے معاشی ماہرین نے موجودہ سیاسی بحران کے بعد مصر کی معاشی ترقی کی شرح کا تخمیہ پانچ اعشاریہ تین سے کم کر کے تین اعشاریہ سات کر دیا ہے۔
BBC Urdu - آس پاس - مصر میں ’تین سو ہلاکتوں کی تصدیق‘
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|