واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


مغوی اہلکار گردن زدنی کی ویڈیو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-08-07, 05:36 PM   #1
مغوی اہلکار گردن زدنی کی ویڈیو
منتظمین منتظمین آف لائن ہے 26-08-07, 05:36 PM

جنوبی وزیرستان میں سرگرم مقامی طالبان نے سولہ دن قبل سکیورٹی فورسز کے اغواء کیےگئے پندرہ اہلکاروں کی ایک ویڈیو فلم جاری کی ہے جس میں تقریباً ایک نو عمر بچے کو ایک مغوی اہلکار لائق حسین کا گلا کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
بی بی سی کو ملنے والی ’ انتقام‘ کے عنوان کے تحت تقریباً پینتیسں منٹ کے دورانیے کی اس ویڈیو کو چوبیس اگست یعنی سنیچر کے روز جاری کیا گیا جس کو مبینہ طور پر طالبان کے عمر نامی اسٹوڈیو میں تیار کیا گیا ہے۔

اس ویڈیو کے بارے میں پاکستانی حکام کا رد عمل جاننے کے لیے رابط کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

ویڈیو میں طالبان کو عسکری تربیت دیئے جانے، بلوچستان کے ضلع ژوب میں دس جولائی کو سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں خود کو مبینہ طور پر بم سے اڑانے والے طالبان کے مبینہ جنگجو رہنماء عبداللہ محسود کی ایک مختصر جہادی تقریر، ان کی میت کی تدفین، لڑائی کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہلاک شدہ اہلکاروں کی لاشیں اور ان سے چھینے گئے اسلحے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

ویڈیو میں دس اگست کو جنوبی وزیرستان سے اغواء کیے گئے اسکاؤٹس کے پندرہ اہلکاروں کو بار بار دکھایا گیا ہے جن کے اردگرد نقاب پوش راکٹ بردار طالبان کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس ویڈیو میں کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے اسکاؤٹس کے مغوی اہلکار لائق حسین کا گلا کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کی آنکھوں پر سفید پٹی جبکہ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور پیچھے چار کمسن بچے ہاتھ میں خنجر اور کلاشنکوف اٹھائے کھڑے ہیں۔
وئڈیو میں باقی مغویوں کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے
ہلاکت سے قبل لائق حسین اپنے پیغام میں کہتے ہیں کہ’طالبان سے جنگ نہ کی جائے اور فوج اور ملیشاء کے اہلکار طالبان سے لڑائی کر کے بہت برا کر رہے ہیں۔‘ ان کلمات کی ادائیگی کے ساتھ ہی چاروں بچے بیک آواز کہتے ہیں کہ’ یہ کافر، مرتد اور امریکہ کا غلام ہے۔‘ اسکے بعد دو بچے اسکے پیروں اور کمر پر بیٹھ جاتے ہیں جبکہ ایک نو عمر بچہ ’اللہ اکبر‘ کے نعروں میں اس کا گلا کاٹنا شروع کردیتا ہے۔ لائق حسین کا سر تن سے جدا کرنے کے بعد چاروں بچے اسے ہاتھ میں اٹھاکر کیمرے کو دکھاتے ہوئے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔

ویڈیو میں اغواء کیے جانے والے باقی پندرہ سکیورٹی اہلکاروں کو زندہ سلامت دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مغوی اہلکار نائب صوبیدار آتم خان بیٹنی کا ایک انٹرویو بھی شامل ہے اور ان سے کیمرے کے پیچھے ایک شخض پاکستانی فوج اور ملیشیاء کی امریکہ اور یہودیوں سے مبینہ تعاون، ان کی تربیت، مغربی ممالک سے تعلیم کے حصول، طالبان جنگجوؤں کو تحویل میں لینے کے بعد ان کے ساتھ روا رکھے جانے والےسلوک اور دیگر سوالات کرتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ پاکستانی فوج اور ملیشاء کا نظریہ ’سب سے پہلے اسلام یاسب سے پہلے پاکستان ہے‘ مغوی آتم خان کہتے ہیں کہ لال مسجد میں آپریشن اور طالبان کی ہلاکتوں کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پاکستانی فوج کا نظریہ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا فوجی افسران اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں یا امریکہ کے غلام ہیں آتم خان کا جواب تھا کہ فوج کے اعلیٰ افسران مغربی ممالک میں تعلیم اور تربیت حاصل کرتے ہیں اور وہ کبھی بھی مدارس میں دینی تعلیم حاصل نہیں کرتے ہیں لہٰذا بقول ان کے امریکہ اور برطانیہ کی درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے والے افسران کا حکم ماننا ’اسلامی طور پر جائز نہیں ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں آتم خان کا کہنا ہے کہ ایک پاکستانی صحافی کی لکھی گئی کتاب’ پارلیمنٹ سے بازار حسن تک‘ پڑھنے کے بعد پاکستانی حکمرانوں کی ’عیاشیوں‘ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

انٹرویو کے آخر میں پوچھے گئےاس دلچسپ سوال کہ کیا آپ یہ انٹرویو دباؤ کے تحت یا پھر اپنی مرضی سے دے رہے ہیں تو آتم خان کا جواب تھا کہ نہیں، مجھے جتنی بھی شریعت کی فہم تھی اس کے مطابق جوابات دیئے ہیں۔

طالبان کے ایک اہم رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ان کے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا توسکیورٹی فورسز کے ان پندرہ اغواء شدہ اہلکاروں کے بھی باری باری گلےکاٹے جائیں گے۔

طالبان کی جانب سے جاری کی گئی اس ویڈیو میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاءالحق، صدرجنرل پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز، چودھری شجاعت حسین، آفتاب احمد خان شیر پاؤ، ظفراللہ خان جمالی اور الطاف حسین کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں جنہیں مبینہ طور ’اسلام کے غداروں‘ کا لقب استعمال کیا گیا ہے۔

یہ ویڈیو ان چند سوالات پر ختم ہوتی ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پابند سلاسل کرنا، جامعہ حفصہ کی ڈھائی ہزار طالبات ، بے گناہ علماء، بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران عام بلوچوں کا مبینہ طور مارا جانا، خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں اور فوجی افسروں کا مبینہ اغواء اور کراچی کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کے حوالے کرنا کیا دہشت گردی نہیں ہے۔؟

واضح رہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں امن معاہدوں کے ٹوٹ جانے کے بعد سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والی تازہ لڑائی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان اپنی کاروائیاں کاویڈیو ٹیپ جاری کررہے ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!

 
منتظمین's Avatar
منتظمین
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 587
Reply With Quote
جواب

Tags
کمر, کراچی, پاکستانی, وزیراعظم, نظر, مسجد, آپریشن, امریکہ, اسلام, اسلامی, اعلیٰ, تعلیم, تصاویر, جواب, حکم, حسن, خان, طالبان, عسکری, صحافی, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ویڈیو کیمرہ یا وی سی آر سے ویڈیو کی کمپیوٹر میں منتقلی کا ٹیوٹوریل یاسر عمران مرزا آئیں کمپیوٹر سیکھیں 12 03-04-12 09:09 PM
مغوی صحافی اسد قریشی گھر پہنچ گیا جاویداسد خبریں 1 09-09-10 06:02 PM
سوات:ایک مغوی چینی انجینئر بازیاب ابن جلال خبریں 0 17-10-08 06:02 PM
راولپنڈی:2مغوی تاجر بازیاب،6ملزمان گرفتار ابو کاشان خبریں 0 16-01-08 09:31 AM
وزیرستان: انیس مغوی اہلکار رہا چاچا کمال خبریں 0 28-08-07 12:52 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger