|
مفاہمت آرڈیننس:متحدہ کی قیادت اور کارکنوں کیخلاف ڈھائی ہزار مقدمات ختم کرنے کی سفارش،355 سے متعلق تجویز مسترد

27-10-07, 09:44 AM
مفاہمت آرڈیننس:متحدہ کی قیادت اور کارکنوں کیخلاف ڈھائی ہزار مقدمات ختم کرنے کی سفارش،355 سے متعلق تجویز مسترد
متنازعہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت قائم ہونے والے سندھ ریویو بورڈ نے حیرت انگیز رفتار سے کام کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت بشمول پارٹی کے قائد الطاف حسین کے خلاف تقریباً ڈھائی ہزار مقدمات کو ختم کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ اگر ریویو بورڈ کی سفارشات پر حتمی طور پر عمل کیا گیا تو 2 ہزار دیگر افراد کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کی پوری قیادت قتل سمیت مختلف سنگین جرائم سے بری ہوجائے گی۔ ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ اگرچہ سندھ ریویو بورڈ کی جانب سے کلیئر کئے گئے مقدمات کی بہت بڑی تعداد کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے لیکن اس کے علاوہ اس سے پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پنجابی پختون اتحاد کے کچھ لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ تاہم ڈاکٹر غوث محمد، جو ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں، کی سربراہی میں کام کرنے والے ریویو بورڈ کی سفارشات کیلئے وزیراعلیٰ کی منظوری کا انتظار ہے، لیکن سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ اس منظوری کے بعد بھی ان سفارشات پر اس ہی صورت میں عمل ہوسکتا ہے جب این آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس) پر سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ آجائے۔ سندھ ریویو بورڈ کے چیئر مین ڈاکٹر غوث محمد نے دی نیوز کے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ تقریباً دو سے ڈھائی ہزار کے درمیان فوجداری مقدمات ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ 355مقدمات مسترد کئے جا چکے ہیں۔ سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل رانا محمد شمیم نے بتایا کہ اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں الطاف حسین ،ڈاکٹر فاروق ستار، کنور خالد یونس، وسیم اختر اور ڈاکٹر عمران فاروق شامل ہیں۔ رانا شمیم نے بتایا کہ سندھ ریویو بورڈ نے جن مقدمات کے بارے میں سفارش کی ہے وہ غیر قانونی اسلحہ، ڈکیتی، دنگا فساد اور چھپ کر فائرنگ اور قتل جیسے جرائم سے متعلق ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اب تک بڑی تعداد میں جن مقدمات کو کلیئر کیا گیا ہے، ان میں ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکن ملوث ہیں تاہم پراسیکیوٹر جنرل نے عجلت کے ساتھ اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جن مقدمات میں سفارشات کی گئی ہیں، وہ عام طور سے اندھی ایف آئی آرز ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اندھی ایف آئی آر وہ ہوتی ہے جس میں ملزم کا نام بغیر کسی شہادت کے درج کیا جاتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف کس قسم کے مقدمات ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تو پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ وہ مفرور کے زمرے میں آتے ہیں۔ متنازعہ قومی مفاہمتی آرڈیننس، جس نے حال ہی میں بینظیر بھٹو کی جنرل پرویز کی اتحادی کی حیثیت سے واپسی کی راہ ہموار کی تھی، ابتدائی طور پر احتساب ایکٹ اور نیب آرڈیننس کے مقدمات سے متعلق تھا۔ تاہم، آخری لمحات میں اس میں جو اضافہ کیا گیا، اس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے قانونی ماہرین آگاہ نہیں تھے اور یہ اضافہ ایم کیو ایم کو فائدہ پہنچانے کیلئے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 494 میں ترمیم پر مبنی تھا۔ قبل ازیں، سی آر پی سی کے تحت فوجداری مقدمات، جن میں ملزم مفرور بھی ہو تو حکومت عدالت کی مرضی سے مقدمات واپس لے سکتی تھی، لیکن متنازعہ قومی مفاہمتی آرڈیننس نے اس عدالتی اختیار کو ختم کردیا اور حکومت کو اجازت دیدی کہ وہ ریویو بورڈ کی سفارشات پر سیاسی انتقام کی کیٹگری میں آنے والے فوجداری مقدمات واپس لے سکتی ہے۔ اس سارے معاملے میں جو چیز حقیقتاً دلچسپ ہے وہ سندھ ریویو بورڈ کے کام کرنے کی رفتار ہے۔ متنازعہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے جاری ہوتے ہی صرف 20 روز میں ہزاروں فوجداری مقدمات کو کلیئر کردیا گیا ہے۔ تاہم، سندھ ریویو بورڈ کے چیئرمین اور صوبائی پراسیکیوٹر جنرل، دونوں، نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے سندھ ریویو بورڈ کو جو مقدمات دیئے گئے تھے وہ پہلے ہی محکمہ داخلہ کے تحت عدالتوں کے ذریعے واپس لینے کیلئے زیر غور تھے۔ رانا شمیم کے مطابق جس دن متنازعہ قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری ہوا، یعنی 5 اکتوبر کے روز، اسی دن اب کلیئر کئے جانے والے زیادہ مقدمات محکمہ داخلہ کو موصول ہوئے تھے۔ اس کے بعد فوری طور پر سندھ ریویو بورڈ تشکیل دیا گیا، جس کا اجلاس نہایت عجلت میں 8 اکتوبر کو ہوا ،اس نے اپنا کام شروع کردیا اور اپنے اجلاس جاری رکھے۔ اگرچہ کہ اس دوران اختتام ہفتہ اور عید کی طویل چھٹیاں بھی درمیان میں آئیں لیکن اس کے باوجود سندھ ریویو بورڈ نے اتنے موثر انداز میں اپنا کام جاری رکھا کہ اس نے دو سے ڈھائی ہزار مقدمات اب تک کلیئر کئے ہیں اور تقریباً 355 مسترد کردیئے ہیں۔ سندھ ریویو بورڈ کے چیئرمین سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اتنے قلیل عرصے میں اتنے زیادہ مقدمات کلیئر کرنا ممکن ہے، تو انہوں نے کہا کہ چونکہ ان میں سے کئی مقدمات پہلے سے زیر غور تھے اس لئے ریویو بورڈ کے لئے معاملات آسان ہوگئے۔ رانا شمیم نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل اور سندھ کے سیکریٹری قانون کے ساتھ ساتھ وہ بھی سندھ ریویو بورڈ کے ممبر تھے تاہم انہوں نے خود اس سے معذرت کرلی کیونکہ جو کیسز ریویو بورڈ کے سامنے پیش کئے جا رہے تھے ان میں سے کئی ایک سے وہ نمٹ رہے تھے۔ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے سامنے پیش کرنے کیلئے کلیئر کئے جانے والے کیسز محکمہ داخلہ کو بھجوا دیئے ہیں، جو قانون کے مطابق ریویو بورڈ کی سفارشات پر اتفاق کرنے یا نہ کرنے کے مجاز ہیں۔
بشکریہ
جنگ
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|