قبریں کنٹرول لائن کے نزدیک 38 مقامات پر دریافت ہوئیں، مجاہدین قرار دے کر قتل کیا گیا، انسانی حقوق کمیشن
نئی دہلی سرینگر (رائٹرز جنگ نیوز) مقبوضہ کشمیر میں پہلی مرتبہ بھارتی سرکاری تحقیقات میں اعتراف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ وادی میں 1990کے بعد سے 38 مقامات پر واقع گمنام قبروں میں 2156 نامعلوم افراد دفن ہیں۔ مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کمیشن کے انویسٹی گیشن ونگ کی تحقیقات کے بعد جاری ہونےو الی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بارہمولہ میں 851، بانڈی پور اور ہند واڑہ میں 14 اور کپواڑہ میں 1277 گمنام قبریں موجود ہیں۔ ان تمام لاشوںکو ، جن پر گولیوں کے نشانات موجود تھے، پولیس نے تدفین کے لئے مقامی افراد کے حوالے کیا ۔پولیس نے ان افراد کو عسکریت پسند مجاہدین قراردے کر قتل کیا۔ رپورٹ میں پولیس کی طرف سے ان افراد کی پروفائیل تیار نہ کرنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پورے مقبوضہ علاقے میں اس سلسلے میں ایف آئی آرز کے اندراج ، قبر کشائی ، لاشوں کے ڈی این اے لینے اور انہیں اپنے رشتہ داروں کی گمشدگی کے خلاف مہم چلانے والے کشمیریوں کے ساتھ ملانے سمیت جامع تحقیقات پر زوردیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گمنام قبروں میں موجود لاشوں میں سے بعض کی شناخت مٹادی گئی ہے ، 20کو جلا دیا گیا تھا اور صرف 5 لاشوں کی کھوپڑیاں سلامت تھیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کم سے کم 18قبروں میں ایک سے زائد لاشیںموجود تھیں۔ یہ رپورٹ انسانی حقوق کمیشن کے انویسٹی گیشن ونگ کے سینئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس بشیر احمد یاتو کی سربراہی میں 11رکنی ٹیم کی تین سال سے جاری تحقیقات کے بعد جاری کی گئی۔ ٹیم نے پولیس کے ریکارڈ سے تدفین کیلئے بھجوائی گئی گمنام لاشوں کی تعداد کا پتہ لگایا اور اس کی پولیس اہلکاروں ، عینی شاہدین ، گاوں کمیٹیوں ، دیہات کے سربراہان ، عمائدین ، مساجد کمیٹیوں اور گورکنوں کے بیانات اور قبرستانوں کے نگرانوں کے ریکارڈ کے ذریعے تصدیق کی ۔ بیشتر گواہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بیان دیا جبکہ 62 گواہوں کے بیانات کو رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی