صدارتی ریفرنس میں عدالت سے بھٹو کیخلاف مقدمہ قتل کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی ہے‘ صدارتی ترجمان‘ وزیر قانون نے صدر مملکت سے ملاقات کرکے ریفرنس کی منظوری لی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر آصف علی زرداری نے بھٹو کیس دوبارہ کھولنے کے ریفرنس پر دستخط کر دیئے ہیں۔ یہ ریفرنس سپریم کورٹ میں بھیجا جائے گا۔ وزیر قانون و پارلیمانی اور ڈاکٹر بابر اعوان نے جمعہ کو ایوان صدر میں صدر زرداری سے ملاقات کی اور ریفرنس کی منظوری لی۔ صدر نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس پر دستخط کردیئے۔
صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ صدارتی ریفرنس میں عدالت سے بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل کے جائزے کی استدعا کی گئی ہے۔ 33صفحات پر مشتمل ریفرنس سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا جس میں حکومت کا کہنا ہے کہ بھٹو کو سزائے موت کا حکم سنانے والے ججز نے جنرل ضیاءکی فوجی حکومت کے دباو میں فیصلہ سنایا تھا۔ ریفرنس میں جسٹس نسیم حسن شاہ کے بیان کو بنیاد اور ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا تھا کہ عدلیہ نے بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ دباو میں کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھٹو کی پھانسی قانونی نہیں تھی بلکہ یہ عدالتی قتل تھا جس میں شک کا فائدہ ملزم کی بجائے استغاثہ کو دیا گیا۔ گواہوں کے بیانات میں تضادات تھے اور مقدمہ ایسے حالات میں چلا جب بھٹو اور چیف جسٹس انوار الحق میں شدید اختلافات تھے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ میں پھانسی کی سزا سنانے والے ججز نے آئین سے انحراف کیا۔ ریفرنس کے مطابق پھانسی کی سزا کی مخالفت کرنے والے تین ججز جسٹس صفدر شاہ، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس دراب پٹیل کے ساتھ فوجی حکومت نے ناروا سلوک کیا۔ ایک جج صفدر شاہ ملک بدری پر مجبور ہوئے اور دو کسمپرسی میں دار فانی کو کوچ کر گئے۔ ریفرنس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پھانسی کی سزا سنانے والے ججز آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے جو آئین سے غداری کرنے والوں کے ضمن میں ہے۔ ریفرنس میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں پھانسی کی سزا دینے والے ججز نے تعصب کے تحت فیصلہ کیا۔ دباو، غصے، مفاد پرستی اور تعصب کی بنیاد پر فیصلے تسلیم نہیں کئے جاسکتے۔ اس لئے ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ دوبارہ کھول کر انہیں بعد از مرگ بری قرار دیا جائے اور متعصبانہ فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ اسلام کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے عمل کا ذمہ دار نہیں۔ قرار دیا جا سکتا۔ بھٹو ایک عالمی لیڈر تھے۔ وہ او آئی سی کے چیئرمین اور جوہری پروگرام کے خالق تھے۔ ان کے خلاف مقدمہ میں استغاثہ کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی