|
مقناطیس؛ ایک ذریعہ علاج

23-02-09, 09:08 PM
مقناطیس؛ ایک ذریعہ علاج
The Earth produces a magnetic field, which can be detected by a wide range of living organisms
صدیوں سے مقناطیس کو مختلف انداز میں بعض بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔ مقناطیس کی ابتدائی شکل پتھر کی سی ہوتی ہے۔ چنانچہ اسے آغاز میں اپنی پتھر کی شکل میں استعمال کیا جاتا تھا۔ قدیم یونانی اسے لاڈ سٹون کہاکرتے تھے اور ان پتھروں کو بعض بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس زمانے کے معالج مقنائی ہوئی عنبر کی گولیوں کو مریضوں کے بہتے ہوئے خون کو روکنے کا اور مقنائی ہوئی انگوٹھیوں کی مدد سے جوڑوں کے درد کا علاج کیا کرتےتھے۔ازمنہ ٴ وسطیٰ میں مقناطیس کو زہر کے علاج، جوڑوں کے درد اور بالوں کو گرنے سے روکنے کے لیےاستعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ لوہے کی چبھ جانے والی اشیاء کو جسم سے باہر کھینچنے اور زخموں کو جراثیموں سے بچانے کے لیے استعمال میں لاتے تھے۔
زمانہ قدیم کے معالجوں کا خیال تھا کہ خون میں مقناطیسی توانائی ہوتی ہے اور جب اس کی قوت میں کمی آجاتی ہے یا یہ قوت کسی دوسری جگہ منتقل ہوجاتی ہے تو انسان بیمار پڑجاتا ہے۔امریکہ میں خانہ جنگی کے بعدلوگ اپنے ساتھ ہروقت مقناطیس رکھتے تھے تاکہ معالج کی ضرورت کو کم کیا جاسکے کیونکہ ان دنوں وہ بڑی مشکل سے ملتے تھے۔
امریکہ میں آج بھی مقناطیس استعمال ہوتے ہیں اگرچہ ماضی کی طرح اسے ہروقت اپنے ساتھ رکھنے کا رواج کم ہوچکاہے لیکن اب بھی اسے مختلف تکالیف کے علاج کے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً پاؤں میں درد ہوتو مقناطیس کو جوتے کے تلے میں رکھاجاتا ہے۔ جسم کی مجموعی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے مقناطیس کو بستر کے گدوں میں رکھا جاتا ہے اور اسی طرح پانی میں سفر سے چکر آنے کی صورت میں اسے جسم کے پریشر پوانٹس پر، مثلا کلائی پر کڑے کی صورت میں پہن لیا جاتاہے۔
اسی طرح لوگ جگراور گردے کی بیماریوں، کمر کے درد اور کئی دوسری تکلیفوں کے علاج کے لیے مقناطیس کے استعمال کو مفید سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر اینڈریو ویل جو متبادل ادویات سےعلاج کے ایک ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ یہ طریقہ علاج مقبول تو ہے لیکن یہ کیا واقعی فائدہ مند بھی ہےابھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی کوئی باقاعدہ ریسرچ نہیں ہوئی ہے۔
ویل کہتے ہیں کہ مقناطیس دو قسم کے ہوتے ہیں، ساکن اور برقی مقناطیس۔ ساکن مقناطیس اپنامقاطیسی دائرہ تبدیل نہیں کرسکتے ۔ اس قسم کے مقناطیس کو عام طورپر چکر آنے ، پاؤں اور جوڑوں کے درد وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں اس قسم کے مقناطیس سے کمر کے درد میں بھی عارضی طور پر آرام محسوس ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دن بھر مقناطیس اپنے جسم پر باندھنے سے انسان خود کو توانا تک محسوس کرتا ہے تاہم اس کی تصدیق کے لیے ابھی سائنسی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔
ڈاکٹر ویل کہتے ہیں کہ مقناطیس کی دوسری قسم یعنی برقی مقناطیس کو اکثراوقات اسپتالوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً اسے ایم آرآئی مشینوں میں استعمال کیا جاتا ہےاور اس کی لہروں کی مدد سے ڈاکٹر مریض کے جسم کے اندرونی حصوں کا معائنہ کرسکتے ہیں اور بعض اوقات اسے ہڈیوں کی بیماری کے تیزتر علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتاہے۔حال ہی میں ایک طبی جریدے نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق محققین برقی مقناطیسی ٹیکنالوجی کی مدد سے ان لوگوں کے ڈیپریشن کے مرض کو کم کرنے میں کامیاب ہوئے جن پر کوئی اور طریقہ علاج کارگر نہیں ہورہاتھا۔ڈاکٹر ویل کہتے ہیں کہ اس کے باوجود اس شعبے میں مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔
نیشنل سینٹر فار کمپلی منٹری اینڈ آلٹرنیٹیومیڈیسن کے ماہرین کا کہناہے کہ سائنس جسم کے لیے مقناطیس کی اہمیت کا اندازہ لگاسکتی ہے اور اس سلسلے میں انسانوں کی بجائے جانوروں پر کچھ تجربات کیے جاچکے ہیں۔ امکانات یہی ہیں کہ مقناطیس کی مدد سے اعصابی خلیوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ، کمر کے درد کا علاج کیا جاسکتاہے، دوران خون کو بہتر بنایا جاسکتاہے اور دردوں کو دور کیا جاسکتاہے، خلیوں کی افزائش کی شرح میں توازن قائم کیا جاسکتا ہے ۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر قسم کی دوا کے استعمال میں خطرات موجود ہوتے ہیں اور کسی بھی دوا کے استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ ضروری ہے۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
|
طارق راحیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
شکریہ: 4,003
1,175 مراسلہ میں 2,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|