|
ملک بھر میں کریک ڈاؤن،جاوید ہاشمی،حمید گل اور اچکزئی سمیت ہزاروں گرفتار،مختلف شہروں میں مظاہرے

05-11-07, 07:58 AM
ملک میں گذشتہ روز نافذ کی جانے والی ایمرجنسی کے بعد کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے،جاوید ہاشمی ،حمید گل اور اچکزئی سمیت ہزاروں افراد گرفتار کر لئے گئے۔گرفتاریوں سے بچنے کیلئے سیاسی جماعت کے کارکنان اور رہنما روپوش ہو گئے ہیں ،سندھ ہائی کورٹ اور ملیر بار کے صدور سمیت متعدد وکلاء کوبھی حراست میں لے لیا گیا۔جبکہ ایمرجنسی کیخلاف ملک بھر کے مختلف شہروں میں مظاہرے کئے گئے،تفصیلات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں جاوید ہاشمی، حمیدگل، ، محمود اچکزئی، حامد خان، قادرمگسی، طارق محمود ، ابرار حسن سمیت مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، خاکسار تحریک سمیت دیگر جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔ پولیس نے کئی جگہوں پر مطلوبہ افراد نہ ملنے پر ان کے ملازم، رشتے دار گرفتار کرلئے جبکہ متعدد کارکن گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہو گئے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کرکے راستوں کو بھاری کنٹینروں اورخاردارتاروں سے بند کر دیا گیا۔ پولیس نے پی ٹی وی، ریڈیو اوربڑے ہوٹلوں کی عمارات کے گر د سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔ پولیس نے سپریم کورٹ بارکے سابق صدور حامد خان، طارق محمود اور سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن کو بھی گرفتار کر لیا جبکہ دیگر متحرک رہنماؤں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حیدر آباد پولیس نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو، جماعت اسلامی کے عبدالواحد قریشی، جسقم کے چیئرمین بشیر قریشی اور دیگر کئی وکلاء اور سیاسی رہنماؤں کے گھر پر بھی چھاپے مارے تاہم ان رہنماؤں کو گھروں میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے گرفتار نہ کیا جا سکا۔حکومت نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حیدرآباد کی ضلعی پولیس کو عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو‘ متحدہ مجلس عمل کے رہنما عبدالوحید قریشی‘ جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی‘ جئے سندھ متحدہ محاذ کے چیئرمین قمر بھٹی کو گرفتار کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔نوابشاہ سے پولیس نے ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکریٹری کو گرفتار کر لیا ،انہوں نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پیر کو عدالتی کارروائی سے بائیکاٹ اور احتجاجی جلوس نکالنے سے باز رہنے کا کہا گیا تھا۔سکھر میں بھی کئی وکلاء گھروں میں قیام نہیں کر رہے ہیں ۔کراچی میں سچل کے علاقے میں جئے سندھ ترقی پارٹی کارکنوں نے قادر مگسی کی رہائی کیلئے مظاہرہ کیا اس دوران انہوں نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔جبکہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی گرفتاریوں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ واضح رہے کہ پولیس نے رات گئے سے اب تک وکلاء کی گرفتاریوں کے لئے درجنوں مقامات پر چھاپے مارے اور وکلاء کے نہ ملنے پر ان کے عزیزو اقارب کو حراست میں لے لیا۔ ادھر وکلاء نے پیر کے روز آئین کی معطلی کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور میں گورنر ہاؤس اور چھاؤنی کی طرف جانے والے راستوں پر ناکے لگادیئے گئے ہیں اور گاڑیوں کی چیکنگ کی جارہی ہے ۔لاہور میں ہیومن رائٹس کمیشن کے دفتر پر بھی چھاپہ مارکر آئی آر رحمان،حسین تقی ،اقبال حیدر ،شاہد حفیظ اور دیگر کو گرفتار کر لیا۔سرحد پولیس نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار اور پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر قاضی انور ایڈووکیٹ کو پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا۔چھاپوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ پولیس ساری رات انکے گھروں میں سیڑھیاں لگا کر زبردستی داخل ہوئی اور چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا۔ سندھ سمیت دیگر صوبوں میں گرفتاریاں ،احتجاج اور مظاہرے جاری رہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|