|
ملک کو کھوکھلا ہونے سے بچانے کےلئے عوام کی نظریں چیف جسٹس پر مرکوز ہوگئیں؟

22-09-10, 06:50 PM
جس معاشرہ میں انصاف نہ ہو مٹ جاتا ہے۔اس وجہ سے عوام نے عدلیہ بھرپور ساتھ دیا اور عدلیہ پر ثابت کردیا کہ آپ ملک میں انصاف برپا کریں تو عوام آپ کا بھرپور ساتھ دیں گے اور اگر کوئی ایسا وقت آیا تو انصاف کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں گے جس سے عدلیہ بحال ہوئی۔اور اب چیف جسٹس صاحب عوامی طاقت سے دوبارہ اپنے عہدے پر فائز ہیں اور عوام ان سے بہت سی توقعات رکھے ہوئے ہیں ۔گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے نیٹو کنٹینرز سے ہزاروں بوتل شراب کی برآمدگی کے مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کسٹمز حکام ملکی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تمام لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دیکھ لیجئے گا کہ کنٹینرز کیس میں ملوث افسر مونا عفت کو بھی بڑا افسر بنا دیا جائے گا۔ کنٹینرز کی چیکنگ ہی نہیں ہوتی۔ سب نے ملک کو کھوکھلا کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ اشیاء غیر قانونی طور پر پاکستان لائی جارہی ہیں اور نیٹو کی وجہ سے پاکستانی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ ہو رہی ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ چیف جسٹس اور اعلیٰ عدلیہ اتنے بے بس کیوں ہیں کہ انہوں نے خود کو صرف سخت ریمارکس دینے کی حد تک محدود کرلیا ہے ورنہ عوام نے انہیں جس طاقت سے مالا مال کیا تھا اس کی بدولت اب تک تو انہیں حشر برپا کردینا چاہیے تھا۔
ہم مانتے ہیں کہ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں جتنی باتیں کہیں وہ سب اپنی جگہ درست ہیں۔ بااثر اور بااختیار لوگ ملکی خزانے کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملک کی جڑوں کو کھوکھلا بھی کر رہے ہیں لیکن کیا یہ سب لوگ قانون سے زیادہ طاقتور ہیں؟ ایسے کتنے لوگوں کو اب تک اعلیٰ عدلیہ نے نشان عبرت بنایا؟ اس ملک کے عوام عدالت عظمیٰ کی طرف دیکھ دیکھ کر تھک گئے بلکہ نڈھال ہوگئے کیونکہ عدلیہ کی بحالی کے بعد انہوں نے عدالت عظمیٰ اور چاروں ہائیکورٹس سے ہی تمام امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔ جب ان کی یہ امیدیں پوری نہیں ہوئیں تو سب لوگ ڈپریشن کا شکار ہوگئے اور کچھ نے یہ سوچ کر مار دھاڑ شروع کر دی کہ اس ملک میں کبھی چوروں 'ڈاکوئوں اور لٹیروں کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جائے گا۔
ہم انتہائی قابل احترام چیف جسٹس کو بتانا چاہتے ہیں کہ سب کچھ راکھ کا ڈھیر بنتا جارہا ہے۔ نیچے سے اوپر تک اتنی لوٹ مار ہو رہی ہے کہ خدا کی پناہ ' اس ملک اور قوم کا گوشت نوچنے والے ہڈیوں کو بھی بھنبھوڑ رہے ہیں اور آئین و قانون کی بالادستی کا خواب دفن ہوچکا ہے۔ ایک نیٹو کنٹینرز پر کیا موقوف یہاں تو سب کچھ تباہ و برباد کر دیا گیا ہے اور نام جمہوریت کا لیا جارہا ہے۔ اب جب سیاستدان ''جمہوریت پر شب خون نہیں مارنے دیں گے'' جیسے بیانات دیتے ہیں تو عوام اس کا یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ بات جمہوریت کو بچانے کی نہیں ہو رہی بلکہ اپنی گدیاں ' اپنی جاگیریں اور اپنی اجارہ داریاں بچانے کی ہو رہی ہے۔ درحقیقت اب ملک کے عوام کا بیڑہ غرق کرنے والے نئی صف بندی کر رہے ہیں تاکہ کسی اور عنوان سے ' کسی نئے کھیل کے ذریعے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا جائے۔ نئے نئے اتحاد بن رہے ہیں اور یوں ظاہر کیا جارہا ہے جیسے جرنیل ایک بارپھر اقتدار پر قبضہ کرکے اپنے پرانے ساجھے داروں کو آگے لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ممکن ہے جو تاثر دیا جارہا ہے وہ قطعی طور پر غلط ہو لیکن عوام کی آرزوئوں ' امنگوں اور خواہشات کو کچلنے کا یہ کیسا بھیانک کھیل ہے کہ جو ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا۔ عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اس ملک کے مفادات کو آئی ایم ایف ' امریکہ اور نیٹو کے پاس گروی رکھ کر عوام کو ذلت اور پستی کی انتہائوں پر پہنچا دیا گیا ہے۔ عوام کی اکثریت بھوک سے نڈھال ہے۔ کروڑوں لوگوں کی قوت خرید بالکل ختم ہوچکی ہے۔
سیاستدانوں کی اکثریت عوام کی نظروں میں بے وقعت ہوچکی ہے۔ پارلیمنٹ مل بیٹھ کر گپیں لگانے اور ٹی اے ڈی اے کے حصول کا مقام بن چکی ہے۔ ایک بھی ادارہ ایسا نہیں جو عوام کے حقوق کا تحفظ کرسکے۔ حکومت جب چاہتی ہے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیتی ہے اور سپریم کورٹ سمیت کوئی ادارہ حکومت کو نہیں روک پاتا۔ کوئی حکومت سے یہ سوال نہیں کرتا کہ اس ملک کے لوگ تو دو وقت کی روٹی سے بھی عاجز آچکے ہیں۔ یہ اتنے بھاری بھر کم بل کیسے ادا کریں گے؟ وزارت پانی و بجلی آہستہ آہستہ فی یونٹ بجلی کے نرخوں کو سترہ روپے فی یونٹ تک لے جارہی ہے کیونکہ اس کے خیال میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت سترہ روپے ہو تو واپڈا مالی بحران سے تب نکل سکتا ہے۔ پورے ملک میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک روز دودھ خریدنے جائو تو 50روپے لیٹر ہوتا ہے دوسرے روز جائو تو55 روپے لیٹر ملتا ہے ۔ اب چیف جسٹس ہی بتائیں کہ ایک عام آدمی کون سی عدالت میں جائے اور کون کون سا معاملہ لے کر جائے جبکہ حالت یہ ہے کہ وہ اپنے بال بچوں کو د ال روٹی فراہم کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو رہا۔
بالائی سطح پر صرف سیلاب زدہ علاقوں کے لوگوں کو ہی متاثرین سمجھا جارہا ہے جبکہ حقیقت میں تو پاکستان کے 90 فیصد سے زائد لوگ متاثرین آفت ہیں۔ وہ آفت جو ان پر حکمرانوں نے ڈھا رکھی ہے کسی شخص کی آمدن اگر دس ہزار روپے ہے تو اخراجات بیس ہزار ہیں۔ کہاں سے لائے وہ اضافی دس ہزار روپے ؟ چوری کرے ' ڈاکہ مارے یا بھیک مانگے؟
حالت یہ ہے کہ جن چوراہوں پر کبھی دو بھکاری ہوتے تھے اب وہاں درجنوں بھکاری کھڑے رہتے ہیں۔ ان گنت گلیوں ' محلوں میں بھیک مانگ رہے ہیں۔ اور تو اور خواجہ سراء جو کبھی ناچ گاکر روزی کمالیتے تھے اب بھکاری بن گئے ہیں اور گلی گلی دروازے کھٹکھٹا کر پیٹ کا دوزخ بھر رہے ہیں۔ کیا اس وقت کا انتظار کیا جارہا ہے جب ہم صومالیہ یا ایتھوپیا بن جائیں یا اس وقت کا انتظار کیاجارہا ہے جب اس ملک کے کروڑوں بھوکے ننگے سڑکوں پر نکل کر سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ دیں؟ چیف جسٹس صاحب! خدارا اس ملک کو مکمل تباہی اور بربادی سے بچالیجئے ورنہ کچھ وقت گزرنے پر شائد آپ بھی افسوس کرتے رہ جائیں کہ کاش آپ نے بروقت کردارادا کرکے ملک و قوم کو بچالیا ہوتا۔
__________________
جاویداسد
Last edited by جاویداسد; 22-09-10 at 06:54 PM..
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|