واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


::: ممبئی کا دوسرا رخ :::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-09-09, 08:31 PM   #1
::: ممبئی کا دوسرا رخ :::
Student Student آف لائن ہے 06-09-09, 08:31 PM

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور ممبئی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ملک کے تجارتی دارالحکومت ممبئی شہر کا ہر دوسرا شخص جھگیوں کی بستی میں رہتا ہے۔
یہ رپورٹ سن دو ہزار ایک میں کیے گئے سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ممبئی کی آبادی کا 54.1 حصہ جھگیوں میں رہتا ہے، یعنی نصف سے زیادہ آبادی جھوپڑیوں میں رہتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود نصف سے زائد آبادی کے حصے میں ممبئی کی زمین کا محض چھ فیصد حصہ ہی ہے۔
ممبئی میں زمین کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ملک کی دوسری ریاستوں سے کام کی تلاش میں آئے غریب طبقہ کے مزدور اسی لیے اکثر ممبئی کے نکاسی والے نالوں، پانی کی پائپ لائن کے اطراف یا پھر چٹانوں پر یا اس کے دامن میں گھر بنا کر رہنے پر مجبور ہیں۔ساکی ناکہ، گھاٹ کوپر میں ایسی کئی پہاڑیاں ہیں جن کے اوپر یا ان کے دامن میں درجنوں گھر بسے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کوئی متبادل جگہ نہیں ہے اس لیے زندگی کو خطرہ لاحق ہونے کے باوجود وہ وہیں رہتے ہیں۔ اکثر و بیشتر بارش کے موسم میں چٹانیں کھسکنے کے حادثات بھی پیش آتے ہیں جن میں درجنوں جانیں ضائع ہوتی ہیں لیکن یہاں رہنے والوں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممبئی میں عالیشان عمارتوں میں اور جھوپڑے میں رہنے والوں کے درمیان تفریق بہت نمایاں ہے۔ انیس سو اکسٹھ سے ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہیں مکانات کی ضرورت ہے لیکن ان کے مکانات نہیں ہیں۔ انیس سو اکہتر میں اس فرق میں اضافہ ہوا اور ایک اعشاریہ نو فیصد سے یہ فرق بڑھ کر دس سال بعد دو فیصد ہو گیا اور دو ہزار ایک میں یہ فرق تین اعشاریہ تین فیصد ہوگیا۔
ایک غیر سرکاری تنظیم ’گھر بچاؤ گھر بناؤ‘ کے رضاکار سمپریت سنگھ کا کہنا ہے کہ رپورٹ آنکھ میں دھول جھونکنے کے برابر ہے کیونکہ سروے میں صرف انہی جھونپڑوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں قانونی درجہ حاصل تھا جبکہ ممبئی میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو ان جھگی بستیوں میں آباد ہیں جنہیں حکومت نے ابھی قانونی حیثیت نہیں دی ہے اس لیے یہ صورتحال اور زیادہ پریشان کن ہے۔
ممبئی میونسپل انتظامیہ نے ممبئی کو چوبیس وارڈوں میں تقسیم کر دیا ہے، جن میں سے گیارہ وارڈز کی رپورٹ کے مطابق وہاں بڑے پیمانے پر جھونپڑیاں ہیں۔ دھاراوی ان میں سے ایک ہے، جسے ایشیاء کی سب سے بڑی جھگی بستی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اب ممبئی میں مشرقی اور مغربی مضافات میں بھی بے شمار ایسی بستیاں آباد ہو چکی ہیں۔ممبئی کے مشرقی مضافات بھانڈوپ، ناہور، وکرولی، اور کانجور مارگ، کرلا، سانتاکروز، ماہم ، گوونڈی اور مانخورد وغیرہ کے علاقے جھگی بستیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہاں کی آبادی کا پچھتر سے اسی فیصد سے زائد افراد انہی جھوپڑیوں میں رہتے ہیں۔ ممبئی کے مغربی مضافات میں ان کا تناسب کم ہو جاتا ہے۔ممبئی کی زمین کا محض چھ فیصد ان کے حصے میں ہونے سے ان کے رہن سہن کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔ ان بستیوں میں نہ تو پینے کے صاف پانی کی سہولت ہے اور نہ ہی ہوا اور روشنی کا گزر۔ پینے کا پانی تو دور کی بات، استعمال کے لیے پانی کی فراہمی بھی برابر نہیں ہوتی ہے اس لیے آئے دن لوگ میونسپل دفاتر کے باہر مظاہرے کرتے ہیں۔بیشتر بستیوں میں بیت الخلاء کا بھی انتظام نہیں ہے اس لیے یہ کھلے آسمان اور ریل کی پٹریوں کے اطراف رفع حاجت کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہر میں محض چوالیس فیصد کو ہی بیت الخلاء کی سہولت فراہم ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لوگ کمزور اقتصادی حالات کے پیش نظر اس طرح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے ’سلم ری ڈیویلپمینٹ‘ یا ایس آر اے اسکیم کے تحت جھوپڑیوں میں رہنے والوں کے لیے مفت مکانات بنا کر دینے کی مہم شروع کی تھی لیکن اس سے غریبوں کو کم اور بلڈرز کو زیادہ فائدہ ہوا۔ یہ سکیم پوری طرح فلاپ ہو چکی ہے۔
کیا پاکستان میں ایسا کوئی شہر ہے ؟؟؟ اللہ کا شکرادا کریں۔
__________________

http://newsreportingroom.com/
http://mobileinfoandupdate.blogspot.com/

 
Student's Avatar
Student
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
شکریہ: 401
230 مراسلہ میں 538 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 249
Reply With Quote
Student کا شکریہ ادا کیا گیا
wajee (06-09-09)
پرانا 06-09-09, 08:39 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,536
کمائي: 88,172
شکریہ: 5,206
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معلومات دینے کا شکریہ
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-09-09, 09:03 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 96,021
شکریہ: 52,538
11,185 مراسلہ میں 35,274 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کسی بھی سرمایہ دارانہ نظام کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس میں پیسہ سمٹ کر چند ہاتھوں میں جانا شروع ہو جاتا ہے۔ امیر ۔ ۔ ۔ امیر تر اور غریب ۔ ۔ ۔غریب تر ہونے لگتے ہیں۔ ایسے نظام میں بسنے والے ایسے افراد کہ جن کو سرمائے کا کچھ حصہ مل جاتا ہے خؤاہ وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر طرف اچھا ہے۔ مخصؤص علاقوں اور گاڑیوں کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور ترقی کے ببانگ دہل دعوے کیے جاتے ہیں۔ لیکن ایسے معاشروں میں ناسور پلتا رہتا ہے جو ایک خآص وقت معین پر لاوے کی طرح ابل پڑتا ہے۔۔ بھارت ترقی کر رہا ہے اس یں کوئی شک نہیں۔ ۔ ۔ ۔ل لیکن یہ ترقی مخصوص علاقوں اور افراد تک ہی محدود ہے۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ فوائد سے محروم رہتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان بھی نہ محسوس طریقے سے اس نظام کے خونی پنجے میں آتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں آنے والا ہر بحران۔ ۔ ۔ غریب کو غریب سے غریب تر کرتا جا رہا ہے جبکہ امیر ان بحرانوں کے نتیجے میں اپنی دولت میں حیران کن اضافہ دیکھتے ہیں۔ آٹے کا بحران ہو ۔ ۔ ۔ چینی کا بحران ہو یا کسی اور چیز کا۔فائدہ امیر طبقہ اٹھا جاتا ہے۔ ضرورت اس نظام کو بدلنے کی ہے تاکہ اس نظام میں چھپی خون آشامی کو روکا جا سکے۔ سرمایہ دارانہ نظام ہم مسلمانوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہم مسلمانوں کی بہتری کا تول یا پیمانہ مال و دولت کی فراوانی نہیں بلکہ کچھ اور باتوں میں ہے جن کو ہم بھلا بیٹھے ہیں۔
واللہ عالم
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-09-09, 09:27 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,189
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ سسٹم بدلے گا کون ؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-09-09, 10:12 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 96,021
شکریہ: 52,538
11,185 مراسلہ میں 35,274 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
یہ سسٹم بدلے گا کون ؟
غریب۔ سسٹم صرف غریب آدمی تبدیل کر سکتا ہے۔ امیر اگر چاہے تو بھی اس کے بس کا کام نہیں۔ سوال یہ ہے کہ غریب کو کون بدلے گا
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, پاکستان, نظر, مفت, آبادی, آدمی, اقوام متحدہ, اللہ, انتظامیہ, امیر, اسکیم, تلاش, زندگی, سال, سرمایہ دارانہ, شہر, شخص, علاقے, عالم, غریب, غریبوں, صورتحال, صاف, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دوسری سوچ اور دوسرا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ آدم گپ شپ 23 01-03-11 11:14 PM
ایک سردار دوسرے سے The Great قہقہے ہی قہقے 1 08-09-09 07:36 PM
دوسردار مصر گئے The Great قہقہے ہی قہقے 1 08-09-09 07:34 PM
مائیکروسافٹ کا شاہکار ! طاھر دلچسپ اور عجیب 0 10-07-08 09:11 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger