پاکستان کے صوبہ پنجاب کےگورنر سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں گرفتار ممتاز قادری نے اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کی عدالت میں اعترافِ جرم کرلیا ہے۔
اس اعترافِ جرم کے بعد پیر کو ممتاز قادری کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے چوبیس جنوری تک جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔
کلِک ’اللہ، رسول جانیں اور ملک ممتاز جانے‘
اعترافِ جرم کرتے ہوئے ممتاز قادری نے کہا تھا کہ سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا فیصلہ تین روز قبل کرلیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ راولپنڈی کے علاقے صادق آباد میں ختم نبوت کے حوالے سے ایک جلسہ منعقد ہوا تھا جس میں ناموس رسالت قانون کے حوالے سے مختلف علماء نے تقاریر کیں جن میں سلمان تاثیر کی طرف سے اس قانون کو تبدیل کرنے کے حوالے سے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔جس کے بعد انہوں نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اس جرم میں کوئی اور ملوث نہیں ہے اور یہ جرم انہوں نے خود کیا ہے۔
اس سے قبل ممتاز قادری سے تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ گورنر پنجاب کو ہلاک کرنے کا یہ عمل ممتاز قادری کا ذاتی فعل تھا۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے چھ تاریخ کو ممتاز قادری کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا جو منگل یعنی کل ختم ہونا تھا۔ تاہم پولیس ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پولیس کی تفتیش ختم ہو گئی تھی اس لیے ممتاز قادری کو ایک روز قبل ہی عدالت میں پیش کردیا گیا۔
واضح رہے کہ ممتاز قادری کو سکیورٹی کے خدشات کے باعث گزشتہ جمعرات کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔
بی بی سی اردو