ایڈیشنل ایس ایچ اوصادق آباد تصدیق کے بعد بات گول کرگئے‘ جاں بحق اہلکارممتازقادری کاقریبی دوست تھا
اسلام آباد(عثمان منظور) دی نیوزکوباوثوق ذرائع سے معلوم ہواہے کہ پولیس گورنرسلمان تاثیرکے قاتل ممتازقادری کے گزشتہ سال اس کی رہائش گاہ کے قریبی علاقہ میں ہونیوالی گرنیڈدھماکاسے ربط کی تحقیقات کررہی ہے۔دھماکامیں اےک پولیس اہلکارجاں بحق ہواتھا۔ صادق آبادراولپنڈی پولیس سٹیشن کے ایڈیشنل سٹیشن ہاﺅس آفیسرنے پہلے تو اس بات کی تصدیق کی کہ گورنرسلمان تاثیرکے قتل کے بعدپولیس نے 5جنوری 2011ءکو گرنیڈ دھماکا کے جائے وقوعہ کادورہ کیااور دوبارہ لوگوں سے پوچھ گچھ کی مگربعدازاں وہ بات گول کرگئے اور قادری اور گرنیڈدھماکاکی جگہ کے متعلق کہی گئی بات سے مکرگئے۔ تفصیلات کے مطابق سلمان تاثیرکے قتل سے ٹھیک اےک سال قبل 3جنوری 2010ءکوراولپنڈی کے علاقہ صادق آبادمیں گرنیڈدھماکامیں اےک پولیس اہلکارسمیت2افرادہلاک ہوگئے تھے۔ دھماکامسلم ٹاﺅن(صادق آباد) کی اےک دکان الغوث پراپرٹی ایڈوائزمیں ہوا۔ جاں بحق ہونیوالے کانسٹیبل اوراس کاتعلق صادق آبادپولیس سٹیشن سے تھا۔ ملک ممتازقادری کے خاندان کے قریبی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ اسدکے ممتازقادری سے قریبی مراسم تھے اورتمام دوستوں کاٹولہ جن کی اکثریت پولیس میں تھی‘ اسی دکان میںبیٹھاکرتے تھے جہاں دھماکاہوا۔ کہاجاتاہے کہ دکان قادری کے گھرکے سامنے واقع ہے۔ ذرائع کاکہناہے کہ گرنیڈدھماکاسے قبل علاقہ میں ےہ بات مشہورتھی کہ کچھ پولیس اہلکاراپنے ساتھ دوگرنیڈرکھتے تھے۔ ےہی وجہ تھی کہ دھماکامیں اہلکارکے جاں بحق ہونے کاسن کرقادری کے گھرمیں موجوداےک معمرخاتون صدمہ سے وفات پاگئی کیونکہ اس نے جاں بحق ہونیوالے کوقادری سمجھا۔ ذرائع نے بتایا کہ گرنیڈدھماکامیں پولیس کے ملوث ہونے کی وجہ سے ےہ کہانی گھڑی گئی کہ کسی نے باہرسے گرنیڈپھینکاتھا جبکہ علاقہ کابچہ بچہ اس بات سے باخبرتھا کہ”کچھ پولیس اہلکار“ اس بات کوباعث گھمنڈجانتے ہوئے اپنے پاس گرنیڈرکھتے تھے۔ ذرائع نے ےہ بھی بتایاکہ گرنیڈدھماکامیں جاں بحق ہونیوالاکانسٹیبل قادری کے گھر کے قریب رہتاتھا اور تمام علاقہ جانتاہے کہ وہ بچپن سے قادری کادوست تھا۔ پولیس نے دوسرے گرنیڈکی تلاش جاری رکھی مگروہ برآمدنہ ہوا۔ صادق آبادپولیس سٹیشن کے ایڈیشنل سٹیشن ہاﺅس آفیسرریاض باجوہ نے پہلے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس دوبارہ گرنیڈدھماکاکی جائے وقوعہ پرگئی اوراس نے لوگوں سے قادری کے حوالے سے پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے ےہ بھی کہا کہ تاحال قادری اورگرنیڈ دھماکامیں ربط قائم نہیںکیاجا سکا۔ انہوں نے بتایاکہ دھماکامیں جاں بحق ہونیوالاکانسٹیبل قادری کے گھرسے دوسری گلی میں رہتاتھا۔ تاہم بعدازاں اسی پولیس افسرنے اپنی پہلی کہی باتوں سے انکارکیااور نیابیان دیا کہ وہ گرنیڈدھماکاکے متعلق کچھ نہیں جانتااورنہ ہی اس کے پاس بتانے کےلئے کوئی اطلاع ہے۔ ےہاں ےہ بات قابل ذکرہے کہ گورنرپنجاب سلمان تاثیرکے قتل کی تحقیقات کرنیوالی سیکیورٹی ایجنسیاں قادری کے دعوة الاسلامی سے رابطے تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ممتازقادری 1985 میں راولپنڈی میں پیداہوا۔ 2002ءمیں پنجاب پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد2007ءمیں ترقی دےکرایلیٹ فورس میں شامل کرلیاگیا۔ تقریباً سات ماہ قبل اسے سلمان تاثیرکی حفاظت کےلئے مامورایلیٹ فورس کے سکواڈ میں شامل کیاگیا۔ 4جنوری 2011ءمیں اس نے اسلام آبادکی کوہسارمارکیٹ میں گورنرپنجاب کوقتل کیا۔ رپورٹس کے مطابق بدقسمت منگل کے روزوہ گورنرکے سکواڈ میں شامل نہیں تھا لےکن اس نے گورنرکیساتھ ڈیوٹی کےلئے درخواست کی۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کی طرف سے اسے وی آئی پی کی حفاظتی ڈیوٹی کےلئے تعیناتی کےلئے ناموزوں بھی قراردیاگیاتھا۔